Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, March 20, 2021

جنہیں حوصلہ تھا سنورنے کا!..


تحریر: ام ھشام،ممبئی / صدائے وقت۔
+±+++++++++++++++++++++++++++++++++
دنیا ایک بازار ہے اور یہاں موجود ہر شئی کی قیمت ”محنت کی کرنسی“ہے۔جتنی زیادہ محنت اتنی اچھی خریداری یعنی نیکی،بھلائی،
برکت،خوشی،سکون،کامیابی وغیرہ۔انسان کے لئے تو وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ نیتیں اچھی ہوں،عزم راسخ ہو تو پھر دنیا کی کوئی شئی انسان کو کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی۔ہر وہ کام جس میں خلق خدا کی بھلائی مقدم رکھی گئی ہو وہ کام کبھی ماند نہیں پڑتا۔اس کی ترقی اس کی شان اس کی سج دھج روز افزوں اور قابل دید ہوتی ہے۔
زمین پر چلتے پھرتے کچھ معمولی سے لوگ ہمیں سکھا جاتے ہیں کہ ”زندگی میں معجزات یونہی ظاہر نہیں ہوتے  پہلے محنت کرنی پڑتی ہے،پھر معجزے ظاہر ہوتے ہیں  اور انسان کامیاب ہوتا ہے“۔
تو آئیے دیکھتے ہیں ایسے ہی ایک ”فرد“کو  نہیں بلکہ ”ہزاروں“پہ مشتمل ایک طبقہ کو جو پچھلی ایک صدی سے کام کرنے والوں اور رزق حلال طلب کرنے والوں کے لئے انوکھی مثال بن کر جی رہے ہیں۔
آپ ممبئی آئیں،لوکل ٹرین کا سفر کیا ہو،اور ”ممبئی کے ڈبے والوں کو نہ دیکھا ہو،ایسا ممکن نہیں“
سفید کپڑوں میں ملبوس،سر پر گاندھی ٹوپی اور پیروں میں کولہا پوری چپلیں اَڑیسے ہوئے یہ ”ڈبا والے“ ہیں۔
یہ کم و بیش پچھلے ایک سو اکتیس131/ سالوں سے ممبئی کے دفاتر میں کام کرنے والے نوکری پیشہ افراد کے لئے کھانے کا ڈبہ پہنچانے کا کام کرتے آرہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں نا! کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے،کچھ ایسا ہی پس منظر ڈبا سروسز کا بھی ہے۔
ایک پارسی نوکری پیشہ انسان نے ایک دوسرے فرد کو مقرر کیا کہ وہ اس کے گھر کا تازہ بنا ہوا کھانا روزانہ اجرت لے کر اس کے دفتر پہنچا دیا کرے۔اور بس! پھر 1890میں یہیں سے شروعات ہوئی۔
آگے چل کر مہا دیو ہاواجی بچے نامی ایک فرد نے سو آدمیوں کے ساتھ مل کر گھر سے باہر کام کرنے والے افراد کو دوپہر کا کھانا وقت پر پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔اور آج انہیں ڈبے والوں کی تعداد کم و بیش پانچ ہزار ہے۔
پانچ ہزار ملازمین پر مشتمل محنت کش،مخلص طبقہ روزانہ دو لاکھ لوگوں کے کھانے کے ڈبے ان کے گھروں سے اٹھا کر ان کے دفتر تک پہنچاتے ہیں۔
شاباش ہے!”ان کی محنت،ہمت اور ایمانداری پر کہ سردی،گرمی،برسات میں بھی وہ اپنے اس فریضے سے کبھی غافل نہیں ہوتے “
صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک یہ ڈبے والے مسلسل متحرک ہوتے ہیں اس دوران صرف بیس منٹ کا وقت ہوتا ہے ان کے پاس تاکہ وہ کھانا کھا سکیں۔
ساٹھ سے پینسٹھ کلو وزن لے کر چالیس چالیس ڈبوں کے ساتھ بذریعہ لوکل کھانا گھروں سے لیکر دفتر پہنچادیتے ہیں۔
سب سے کمال کی بات تو یہ ہے کہ آج تک ڈبے والوں نے اپنا یہ ریکارڈ قائم رکھا ہوا ہے کہ کھانا پہنچانے کے دوران نہ ہی کوئی ذبہ کسی دوسرے غلط پتے پر پہنچا ہے، نہ ہی متعین وقت سے کسی کو دیری سے کھانے کا ڈبا ملا ہے۔
اس قدر مضبوط،منظم اور مستحکم نظام کو چلانے کے لئے ان کے پاس طریقہ کار فقط ایک ہوتا ہے  وہ ہے ”کوڈنگ سسٹم“ یہ ایک متحرک اور بیدار سلسلہ ہے جس کے ذریعے سے ڈبے وصول کرنے والوں کے علاقت،دفاتر اور منزلے مخصوص نمبرات اور انگریزی حروف تہجی آئل پینٹ سے لکھے گئے ہوتے ہیں۔
ہر ڈبا والا اپنا ڈبا بآسانی سمجھ لیتا ہے اور بغیر کسی خط ملط کے اسے درست پتے پر پہنچادیتے ہیں۔
ڈبے والوں کے اسی سسٹم پر دنیا عش عش کر اٹھی ہے۔
ملکی،غیر ملکی سطح پر کئی ڈاکیو منٹری فلمیں بنائی گئیں۔National Geograhy Discovery B.B.C.جیسے بڑے چینلز اور میڈیا نے بھارت آکر بہت قریب سے ان کے کام کا جائزہ لیا۔دنیا کے کئی ملکوں نے ڈبے والوں کے اس کام کو نہ صرف سراہا بلکہ انہیں اپنے ملک بلوا کر اعزاز بھی بخشا۔ان کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھا گیا  اور ان سے مشورے بھی لئے گئے۔ترقی یافتہ ممالک کا ان سادہ دل ڈبے والوں میں اس قدر دلچسپی لینا ہی اپنے آپ میں دلچسپ ہے۔
2003میں پرنس چالرز اور رچرڈبینسن بھی کھنچے چلے آئے ان سے ملاقات کی اور ڈبا یونین کو اسی ض۔۔۔۔ میں اعزاز سے نوازا اور انہیں اپنے بیٹے پرنس ہیری کی شادی میں مدعو بھی کر گئے۔ 
ان کے اس جانفشاں ٹیم ورک کو دیکھنے کی خاطر ممبئی میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد سال بھر جاری رہتی۔
ہزاروں طالب علم اپنے پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے ان کے ساتھ پورا پورا دن گزارتے ہیں اور بڑی باریکی سے ان کے کام کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
ان کا نیٹ ورک لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے،بغیر کسی ٹیکنا لوجی،جدید زرائع نقل و حمل اور سہولیات کے یہ طبقہ دوسری عوامی خدمات کے بالمقابل انتہائی تیز رفتار،آسان اور معتمد ہے۔ 
امر تعجب تو یہ ہے کہ،”ان کی تنظیم اور اس کے ساتھ متوقع مسائل ہونے کے باوجود یہ کبھی کسی ہڑتال پر نہیں گئے۔نہ ہی کبھی انے مسائل کے لئے شور مچا کر دوسروں کا نقصان کیا۔ کیونکہ انہوں نے 1982میں ممبئی مِل مزدوروں کی ہڑتال میں چھ سو مزدوروں کی موت سے گہرا سبق لیا تھا۔“
ان سے خدمات حاصل کرنے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا گزشتہ چار پانچ سالوں سے گرچہ سروسنگ سسٹم میں کئی کمپنیوں نے اپنی مختلف النوع خدمات مہیا کروائی ہیں،مثلاًZomato,Swiggy,Foodpandaوغیرہ لیکن پھر بھی یہڈبے والوں کی ”کارکردگی“کو ذرا بھی متاثر نہیں کر سکے۔ڈبے والوں کی بے مثال خدمات اور ان کے کام کا معیار اب بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔
یہ ساری بھاگ دوڑ بذریعہ لوکل ٹرین،سائیکل اور ہاتھ گاڑی سے ہوتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ موٹر سائیکل اور وین کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ”تو انہوں نے کہا“اگر ہم ٹریفک میں پھنس گئے تو ہمارے کلائنٹس کو کھانا وقت وقت پر کیسے ملے گا؟۔
اسی خاطر ہم نے اصول بنایا کہ ہم پٹرول ڈیزل کی بجائے سائیکل اور ہاتھ گاڑیوں کا استعمال کریں گے تاکہ قدرتی ذخائر کی بچت کی جاسکے ماحولیاتی آلودگی میں کمیلائی جا سکے اور لوگوں کو بلا کسی تاخیر کھانا پہنچایا جائے۔“
شاید یہی وجہ ہے انہیں ملک کی معاشی اور تجارتی سطح پر ''Simga 6''ملا ہوا ہے۔کامیاب معاشیات کے چھ اصول کو معاشیات کی زبان میں سِکس سِگما کہا جاتا ہے،اور ممبئی کے ڈبا والوں نے اس میں ہاورڈ بزنس اکیڈمی سے 99.96%کا درجہ حاصل کیا ہوا ہے۔در اصل سِگما کے چھ اصول یہ ہیں:
1۔کم وقت میں زیادہ کام 
2۔کم قیمت میں زیادہ بڑا کام 
3.ماحولیاتی آلودگی میں کمی
4.نفع کا تناسب برقرار رکھنا
5.موسمی خساروں سے بزنس کو محفوظ رکھنا 
6.صارفین کا اعتماد اور اطمینان جیتنا۔
مذکورہ چھ اصول مکمل طریقے سے ممبئی کے ڈبے والوں کے طریقہ کا میں شامل ہیں۔
یہ یقیناً ڈبا والوں کی بڑی کامیابی ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے قابل ترین اسٹاف اور جدید ساز و سامان کے ساتھ بھی سِکس سِگما کے اصولوں پر مکمل نہ اتر سکی اور نہ ہی اتنا شاندار نتیجہ پا سکیں۔
جفا کشی اور ایمانداری سے ہٹ کر اگر کسی اور ناحیہ سے بات کی جائے تو ان کی یونین میں ہر قسم کے انسان کو نوکری پر رکھا جاتا ہے اور بلا کسی تمیز کے ان کو ایک جیسی تنخواہ دی جاتی ہے۔خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہوں۔
ڈبا یونین میں داخلے کے وقت کڑی شرائط پر داخلہ ملتا ہے۔ شراب یا کسی دوسرے نشہ میں ملوث لوگوں کو یہاں کام نہیں دیا جاتا۔ملازمت کی تقرری سے پہلے کم و بیش چھ مہینہ کی مشق کروائی جاتی ہے اور تب جا کر ان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
انسانیت نوازی کی ایک اور بڑی مثال یہیں سے ملتی ہے کہ ہر ماہ ان کی تنخواہ سے یونین کچھ رقم پس انداز کرتی ہے جو یتیم اور بیوہ کے رفاہی تنظیم کو جاتی ہے۔ 
کسی ایک ڈبے والے کی موت پر اس کی تنخواہ سے دس گنا زیادہ پیسے یونین ادا کرتی ہے ساتھ ہی متوفی کی بیوہ کو ہر ماہ کا خرچ، بچوں کی مفت تعلیم اور طبی سہولیات کاذمہ داریونین خود پر لیتی ہے۔
فی کس ٹفن پر پانچ سو سے ہزار روپیہ ماہانہ لیا جاتا ہے،گھر سے دفتر پہنچانے کے لئے ممبئی کے ہر ریلوے اسٹیشن پر ایک ڈبا آفس موجود ہے۔
یہ فقط کسی ایک کا کام نہیں۔ ہاتھوں ہاتھ کئی لوگ مل کر اس مشکل کما کو آسان بناتے ہیں تاکہ گھر سے بھوکے پیٹ نکلنے والا انسان سکون سے دوپہر کے وقت اپنے گھر کا صاف ستھرا کھانا کھا سکے۔
اور گھر کے کاموں میں گھن چکر بنی خواتین اپنی سہولت کے مطابق بخوشی اور محبت کے ساتھ اپنے پیاروں کے لئے کھانا بھجوا سکیں۔
ممبئی کے ویرار اسٹیشن سے لء کر چرچ گیٹ  اسٹیشن،پنویل سے لے کر سی ایس ٹی اسٹیشن تک کے  اتنے لمبے اور دشوار گزار راستوں پر ایلومینیم کے ڈبوں میں اپنا پیار،اپنی لگن کا پیغام ممبئی کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
ڈبے والے ہمیں سکھاتے ہیں:۔
ہر وہ کام جس میں خلق خدا کی بھلائی مقدم رکھی گئی ہو اور کام کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا گیا ہو وہ کام کبھی مان د نہیں پڑتا۔ اس کی ترقی اس کی شان،اس کی سج دھج روز افزوں اور قابل دید ہوتی ہے۔ 
ان کی زندگی سکھاتی ہے کہا نسانی زندگی میں معجزات یونہی ظاہرنہیں ہوتے،پہلے محنت کرنی پڑتی ہے،پھر معجزے ظاہر ہوتے ہیں اور انسان کامیاب ہوتا ہے۔
ع قیامت گزرتی ہے قطرے پہ گہر ہونے تک 
ؑ

Post Top Ad

Your Ad Spot