Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, March 28, 2021

مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کے لئے نئے سرے سے پورے نظام کو مرتب کرنا فرض عین ہے۔. ‏. ‏. ‏. ‏. ‏. ‏ ڈاکٹر ‏ سکندر ‏ علی ‏ اصلاحی ‏. ‏

از/ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی / صدائے وقت. 
+++++++++++++++++++++++++++++
مسلمانان ہند کے بےشمار مسائل میں سے ایک اہم ترین ہی نہیں سنگین ترین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کی تعلیم دوسری قوموں یا حکومت کے کفروشرک اور اسلام مخالف نصاب کے ذریعہ ہورہی ہے ۔ جو مکاتب و مدارس ہیں وہ ازکار رفتہ دکھائی دے رہے ہیں ۔ غور کیجیے ،سکھوں کو ان کے لیے جس قدر اسکولوں وکالجوں اور یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے وہ ان کے پاس ہیں ،اسی طرح جین اور بدھسٹوں کے پاس بھی ہیں ۔مسلمانوں کے پاس بہت کم ہیں ۔جو مکاتب اور مدارس ہیں وہ خود کفیل نہیں ہیں ۔زکوۃ پر منحصر ہیں ۔جو لوگ فیس دے سکتے ہیں وہ اپنے بچوں کو انگلش ہندی میڈیم اسکولوں میں بھیجتے ہیں جہاں ان کے ایمان وعقیدہ کو برباد کردیا جاتا ہے ۔اسلام پر بہر صورت قائم رہنے کا حوصلہ ختم کردیا جاتا ہے اور رسمی مسلمان رہ جاتے ہیں ۔بیشتر مدارس کا نظام و نصاب  ایسا ہے کہ نہ وہ حقیقی دین اسلام کے نمائندہ بن پاتے ہیں اور نہ ہی دنیا میں آج کی ضروریات اور تقاضوں کی تکمیل کے اہل ہوپاتے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مدارس کے فارغین نے عصری علوم میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہو ،اور ایسا بھی نہیں کہ وہ مفسر ، محدث و فقیہ ،مبلغ و امام بن کر عصر حاضر کے سید سلیمان ندوی ،مولانا اشرف علی تھانوی یا امین احسن اصلاحی کا مقام حاصل کرلیا ہو ۔ نہ دنیا کے رہنما بن سکے ،نہ دین کے امام ہی ہوۓ ۔زیادہ سے زیادہ کسی مضمون میں پی ایچ ڈی کرلی یا بی یو ایم ایس اور ایم ڈی ۔وہ بھی معدودے چند ۔
لہذا مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کے لئے نئے سرے سے پورے نظام کو مرتب کرنا فرض عین ہے۔نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کس طرح کی جاۓ ۔اسی پر بھارت می: مسلمانوں کا مستقبل اور ان کا اسلامی کردار کے ساتھ وجود منحصر ہے ۔ کم ازکم پرائمری درجات تک کی تعلیم مکمل طور پر ہمارے پاس ہو اور ہمارے اختیار میں ہو ۔ہمارے بچوں کے ایمان وعقیدہ و اسلامی اخلاق کی تعمیر ہمارے ہاتھوں اتنی مستحکم ہو کہ آئیندہ وہ کہیں بھی ہوں ایمان واسلام پر قائم رہیں ۔اگر ایسا نہیں ہوا تو آج جو بچے کفر وشرک کے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں وہ آئیندہ معلوم نہیں کس حد تک اسلام پر باقی رہیں گے یا مسلمان بھی رہیں گے کہ نہیں ۔اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے ۔
: جو لوگ دینی تعلیم وتربیت کے ساتھ عصری علوم کا نظم قائم کرنے کی جدوجھد کر رہے ہیں یا عصری تعلیم کے ساتھ دینی و اسلامی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ لائق ستائش اور قابل احترام ومبارک باد کے مستحق ہیں ۔ان کی عزت افزائی ہونی چاہیے ۔ان کا تعاون کیا جانا چاہئے کہ وہ مزید بہتر خدمات انجام دے سکیں ۔
مسلمانان ہند کو بہر حال اپنا تعلیمی نظام خود قائم کرنا ہوگا ۔حکومت تو پورا زور لگاۓ ہوۓ ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل کو کس طرح دین اسلام سے بیزار کردے کہ وہ خود مرتد اور اسلام کے مخالف ہوجائیں ۔ بہت ساری مثالیں موجود ہیں ۔
ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے ۔
ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی

Post Top Ad

Your Ad Spot