Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, April 15, 2021

وہی قتل بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا



از/اوریا مقبول جان/صدائے وقت 
==============================
آج سے ٹھیک دو سال قبل 15مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر ایک گورے نسل پرست جنونی نے اکیاون مسلمان نمازیوں کو شہید کیا تھا۔یہ قاتل اسقدر سفاک تھا کہ اپنے اس خونی کھیل کو انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست دنیا بھر میں دکھا رہا تھا۔ اس واقعہ کے چند لمحوں بعدمغرب پرست عالمی میڈیااپنے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ سامنے آیا اور پھر اس سفاک قاتل کا چہرہ نظر آیااور نہ ہی اس کے متعصب نظریات پر مفصل تبصرہ کیا گیا۔ میڈیا اس سفاکی کے مقابل نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا انسانی چہرہ لے کر برآمد ہوا اور آج تک اسی ایک چہرے کو پورے مغرب کا چہرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ جس دن جیسنڈاآرڈن ان شہید مسلمانوں کے خاندان کوگلے لگا رہی تھی اسی دن پوری مسلمان دنیا میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے ہاتھ لاتعداد مسلمان مارے جا رہے تھے۔ عراق، شام اور افغانستان میں اس دن کی اموات کسی دوسرے دن سے کسی طور کم نہ تھیں۔ میڈیا کے کسی چینل پر اس سفاک قاتل برینٹن ٹیرنٹ کے اندر پائی جانے والی شدت پسندی اور دہشت گردی کاکبھی کسی نے ویسا سراغ نہ لگایا جیسا مسلمان دہشتگردوں کا لگایا جاتا ہے۔ میڈیا نے ایسا پہلی دفعہ نہیں کیا، بلکہ مغرب کے قاتلوں کی سفاکیت کو چھپا کر ان کا خوبصورت چہرہ جنگِ عظیم دوم کے زمانے سے ہی ہیروز کے طورپر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد سے اب تک گالی صرف ہٹلر کو دی جاتی ہے اور اسے ہی کئی کروڑ لوگوں کا قاتل بتایا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب لڑنے والوں، برطانوی وزیراعظم چرچل اور امریکہ صدور ٹرومین اور روزویلٹ کو انسانیت کا محسن قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جنگ میں ان کی افواج نے بھی ہٹلر کی افواج سے کم لوگوں کو قتل نہیں کیا تھا۔
مغرب کے اس خوبصورت چہرے کے پیچھے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے اسے میڈیا، جیسنڈا آرڈن جیسی چھوٹی چھوٹی خوش کن مثالوں کے پیچھے چھپاتارہا ہے۔ ایسے چند لوگوں کا انسان دوست چہرہ دکھایا جاتا ہے، لیکن انسانیت، خصوصا مسلمانوں کے خلاف ان کے جرائم کا ذکر تک نہیں کیاجاتا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا تذکرہ کرنے والے کبھی جارج بش اور ٹونی بلیئر کو بدترین خونی اور سفاک کرداروں کے طور پر پیش نہیں کرتے، جنہوں نے ایک جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیااور ’’صرف‘‘ انیس لاکھ لوگ قتل کر دیئے۔ میڈیا بتاتا ہے کہ انہوں نے یہ سب جمہوریت اور انسانی حقوق کی بالادستی کو قائم کرنے کے لیئے کیا۔ عراق میں ایک الیکشن کروانے کی اتنی بڑی قیمت ہے جو عراقی عوام نے ادا کی ہے۔ انسانی جانوں کی صورت اتنی بڑی قیمت تو سکندر، فرعون، نمرود اور چنگیز کی بادشاہت قائم کرنے کے لیئے بھی ادا نہیں کی گئی ہوگی۔ صرف ایک ملک میں جمہوریت نافذ کر نے کے لیئے 19 لاکھ لوگ قتل کر دیئے گئے۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت اور سفاکیت کا عالم یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے کرونا کے دوران بھی معاشی بدحالی اور انسانی امداد کے نام پر دنیا بھر کے ممالک میں جن این جی اوز کو مدد فراہم کی ہے ان میں اکثر ایسی تھیں جن کے ہاتھ مسلمانوںکے خون سے رنگے ہوئے تھے اور جن کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانا تھا۔جنوبی ایشیا میں امریکہ کے تازہ تازہ حلیف اور دوست ’’بھارت ‘‘کیلئے جن پانچ تنظیموں کو امریکہ کی جانب سے آٹھ لاکھ تئیس ہزار ڈالر امداد دی گئی وہ پانچوں نسل پرست متعصب اور قاتل ہندو تنظیمیں ہیں۔ امریکہ کی ایک سرکاری ایجنسی سمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) ہے جو چھوٹے کاروبار کے لیئے مدد اور قرضے فراہم کرتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں 27مارچ 2020ء کو کانگریس نے ایک ایکٹ پاس کیا جسے ’’کرونا وائرس، ایڈ۔ رلیف اینڈ اکنامک سیکورٹی ایکٹ‘‘ (CARE Act)کہا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دوہزار دو سو ارب ڈالر مختص کیئے گئے۔ اس ایکٹ کے تحت دو اہم پروگرام (EIDLA) اور (DAL) بھی شروع کیئے گئے۔ امریکی ایجنسی (SBA )نے بھارت سے منسلک جن تنظیموں کو امداد فراہم کی ان میں پہلے نمبر پر ’’وشو اہندو پریشد‘‘ امریکہ ہے۔ امریکہ میں اس تنظیم کے 23دفاتر ہیں اور یہ بھارت کی راشٹریہ سیوک سنگھ کی ذیلی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کو 21,430 ڈالر امداد دی گئی۔دوسری تنظیم جس کو 71,462 ڈالر ملے وہ ’’اکال و دیالہ فاؤنڈیشن‘‘ ہے۔ اس تنظیم کو نہ صرف امریکہ اور مغرب کی پریس بلکہ خود بھارت کی ایجنسیوں کی رپورٹوں نے بھی اقلیت دشمن خصوصاً مسلمان دشمن قرار دیا ہے۔ اس تنظیم کے تحت بھارت میں ہزاروں ’’ایکال‘‘ سکول چلتے ہیں جن میں شدت پسند سوچ پروان چڑھائی جاتی اور مسلمانوں سے نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تیسری تنظیم جسے 51,872 ڈالر، امریکی سرکاری خزانے سے دیئے گئے وہ’’ انفٹی فاؤنڈیشن ‘‘(Infity)ہے۔ اس تنظیم کا بانی راجیو ملہوترا ہے جو ایک مقبول ہندو جنگجو ہے، جس کے ٹوئٹر پر 2لاکھ فالوز اور فیس بک پر اسے پسند کرنے والوں کی تعداد ساٹھ لاکھ ہے۔اس نے امریکہ میں کمپیوٹرکی مشہور سیلیکان وادی میں نوکری، چالیس سال کی عمر میں ہی چھوڑ دی اور ھندوتوا کے تصور کی ترویج کے لیئے خود کو وقف کر لیا۔ اسے روسی ناول نگار، آیان رینڈ (Ayn Rand) کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے جو نسل پرستی کے لیئے ہر قتل، جرم اور غیر اخلاقی حرکت کو جائز سمجھتی تھی۔ اس شخص پر متعصب خیالات کے الزام کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی تھیسز میں ’’چوری ‘‘ (Plagiarism) کرنے کا بھی الزام تھا ،لیکن اسکے باوجود اسے مشہور عام سیکولر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں آنریری پروفیسر رکھا گیا۔ چوتھی تنظیم جسے 150,621ڈالر ملے وہ ’’سیوا انٹرنیشنل‘‘ ہے ۔یہ بھی راشٹریہ سیوک سنگھ کی ایک ذیلی تنظیم ہے اور آر ایس ایس کے نوے فیصد رفاحی ادارے اسی تنظیم کی سربراہی میں قائم ہیں۔ اس تنظیم کے بورڈ کا چیئرمین رمیش بھوٹاڈا ہے جو امریکہ میں راشٹریہ سیوک سنگھ کا سربراہ ہے۔ ان چاروں تنظیموں سے کہیں زیادہ جس تنظیم نے امداد حاصل کی وہ ’’ہندو امریکن فاؤنڈیشن‘‘ ہے۔ اسے 388,664ڈالر ملے۔ یہ وہ تنظیم ہے جو خود کو ایک وکالتی گروہ (Advocacy Group) کہتی ہے اور پورے تعصب کے ساتھ راشٹریہ سیوک سنگھ، ویشوا ہندو اور بجرنگ دل جیسی متعصب تنظیموں کی ہر سطح پر وکالت کرتی ہے۔ امریکہ کی اکثر ریاستوں میں ’’شہریت ایکٹ‘‘ کے خلاف فضا تھی۔اس تنظیم نے بھارت کے اس نسل پرستانہ اقدام کا پورے امریکہ میں دفاع کیا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ امریکہ کے صدر رمیش بھوٹاڈا اسی تنظیم کے بورڈ آف گورنر میں ہے۔ 2018ء میں ٹیکس کے کاغذات کے مطابق رمیش بھوٹاڈا نے 48ہزار ڈالر سیوا انٹرنیشنل، 30ہزار ڈالر ہندو امریکن فاؤنڈیشن اور تیس ہزار ڈالر ہندو سوامی سیوک سنگھ (یہ راشٹریہ سیوک سنگھ کا امریکی نام ہے) کو دیئے۔
یہ سب کچھ پہلی دفعہ نہیں ہورہا۔ ساؤتھ ایشین سٹیزن ویب نے 2014ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس کے مطابق 2001 سے 2012ء تک ایکال ودیالہ کو تین کروڑڈالر، سیوا انٹرنیشنل کو چار لاکھ ڈالر اور انفنٹی فاؤنڈیشن کو دو لاکھ ڈالر ملے تھے۔ امریکہ نے بھارت کی ہر اس تنظیم کو سرمایہ فراہم کیا جو شدت پسند ہندو تھی اور جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر دوسری اقلیتوںکے بھی خلا ف تھی۔ اس حکومتی امریکی سرمائے کی وجہ سے ان تمام تنظیموں کو صرف مالی مدد فراہم ہوئی بلکہ عالمی سطح پر ان کے جرائم کو ایک اخلاقی جواز بھی فراہم ہوا ۔ یہ وہ بیس سال تھے جب پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا تھااور امریکہ بھارت کے ہندو شدت پسندوں اور دہشتگردوں کو سرمایہ پہنچا رہا تھا۔وہ متعصب ہندو جو پاکستان کے خاتمے کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں۔ کروڑوں مسلمانوں کے خون سے رنگین ہاتھوں کو امریکی امداد اور میڈیا کی لانڈری نے نہ صرف دھویا ہے بلکہ انہیں خوبصورت بنا کر پیش بھی کیا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot