Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, April 14, 2021

ضلع ‏پنچایت ‏ ممبر ‏ حلقہ ‏ جگدیش ‏پور ‏ سے ‏ امید ‏وار ‏ شمیم .احمد ‏ایڈوکیٹ ‏کے ‏ لئے ‏ ‏محمد مرسلین اصلاحی ‏کی ‏ دردمندانہ ‏ اپیل ‏. ‏

از/ محمد مرسلین اصلاحی /صدائے وقت /14 اپریل 2021. 
+++++++++++++++++++++++++++++
 شمیم احمد ایڈوکیٹ  ضلع پنچایت حلقہ جگدیش پور سے مہاپردھان عہدہ کے امید وار ہیں۔  شب و روز عوامی رابطہ میں مصروف کار ہیں ۔ بہ حیثیت امیدوار اپنے حلقہ جگدیش پور میں پورے عزم استقلال اور اعتماد کے ساتھ رواں دواں ہیں ۔ 
مجھے شمیم احمد ایڈوکیٹ سے اس حیثیت سے یک گونہ ہمدردی ہے کہ ایک ایسا شخص جو قوم کی قیادت کے لئے اٹھا ہے جس کے پاس اعلی تعلیم ،  بہترین اخلاق ، نئی سوچ  اور نیا جذبہ ہے ۔ ایسے لوگ اس میدان میں شاذ ہوتے ہیں ۔ شمیم احمد ایڈوکیٹ ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جن کے اندر بھر پور قائدانہ صلاحیت موجود ہے ۔ اب جب کہ سیاسی بساط بچھائی جا چکی ہے اور مہرے آمنے سامنے ہیں ۔  ایسے محاذ پر ہمارا ملی اور قومی فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعیت اور ملی بیداری کا ثبوت دیں کہ ہم ایک زندہ دل قوم ہیں اور فکری طور پر روشن سوچ رکھتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کامرانی اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب ہم اور آپ یک آواز ہوں۔ کسی قوم کو اس وقت تک عروج نہیں ملتا جب تک اس کے  اندر خلوص ، جذبہ ، اجتماعیت اور کڑی جد و جہد کا داعیہ نہ پایا جائے ۔ ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ محض دعوہ کسی نتیجہ کا ضامن نہیں ہوتا۔  قومی ترقی اور فکری بلندی اس کا مقصود ہونا چاہئے۔ اور  جس قوم کے منشور میں جذبہء ایثار نہیں ہوتا ہے ان کے یہاں ہمیشہ قیادتوں کا فقدان ہوتا ہے ۔ حیرت یہ ہے کہ ہمارا رویہ یہ اس سے سوا ہے لائق اور قابل امیدوار کاانتخاب بمشکل ہی ہوتا ہے بلکہ اپنے ہی ہم چشموں میں اس کے اعتماد  کو آگ لگائی جاتی ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم اس روئیے کے سبب کف افسوس ملتے رہ جائیں  اور مستقبل میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے ۔ مجھے اس بات کی انتہائی خوشی ہے کہ شمیم احمد ایڈوکیٹ جیساقائد قوم کی رہنمائی کے لئے گلیوں کی خاک چھان رہا ہے جس کا  تعلیمی معیار اور فکری اپج ایک ایسی یونیورسٹی کا رہیں منت ہے جہاں سے ماہر قانون و سیاست اٹھے ہیں ۔ شمیم احمد ایڈوکیٹ اس روایت کو زندہ کر رہے ہیں ۔ بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر ترجیحات سماجی  ترقی و بہبود ہے ۔  میں اکثر سوچتا ہوں اگر ہم ایسے بنیادی  انتخابات میں اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکے تو شاید آئندہ ہمارا حال کیا ہوگا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنا فکری اور نظریاتی رویہ ذرا سا تبدیل کریں تو ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے 
اس فکر میں غنچے زرد ہوئے اس سوچ میں کلیاں سوکھ گئیں 
آئین _  گلستاں کیا ہوگا۔ ________ دستور _  بہاراں  کیا  ہوگا 
یہی بنیادی سوال ہے  جو ہر شخص کی زبان پر ہے  لیکن  کیا اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ہم فکری و اجتماعی طور پر تیار ہیں یا اپنے حق رائے دہی میں کسی انتشار کا شکار ہیں ۔  آئیے  ہم  یہ عہد کرتے ہیں کہ شمیم احمد ایڈوکیٹ کی حمایت میں عملی طور پر اجتماعیت کا ثبوت دیں اور اپنی طاقت اور وقت کی مصلحت کے پیش نظر اس بھائی کی حمایت کے لئے ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہوکر نئی تاریخ رقم کریں تاکہ باطل طاقتیں یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہ اسی قوم کے وارث ہیں جنہوں نے برسہا اپنی شناخت قائم رکھی جن کے تذکروں سے  تاریخ کے صفحات آج بھی معمور ہیں ۔  لیکن صد حیف ہماری حمایت اور ہمارا پورا زور اس چیز پر صرف ہوتا جس کا متقاضی یہ وقت نہیں ہے ، ہم اپنا ملی اور اجتماعی فریضہ ادا کریں ۔ اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش دیں ۔ ایسا نہ ہو کہ کمان کسی اور  ہاتھ میں چلی جائے اور جب تک ہم کسی نتیجہ پر پہنچیں وقت نکل جائے  ۔ اس لئے ہمیں شمیم احمد ایڈوکیٹ  کی اجتماعی اور اخلاقی طور پر حمایت کرنی چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ آپسی چپقلش ، باہمی انتشار اور فکری کج روی کے سبب ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں ۔ یہ وقت سوچنے کا نہیں ۔ بلکہ عملی طور پر اپنے درست حق رائے دہی کے استعمال کا ہے 

مسلم ووٹروں سے ہمدردانہ اور مخلصانہ اپیل ہے کہ شمیم احمد ایڈوکیٹ کی حمایت میں کھل آئیں اور ملی جذبہ اور بیداری کا ثبوت دیں کیوں کہ دیگر نمائندوں کے مقابل شمیم احمد ایڈوکیٹ ہر طبقہ سے بھاری اکثریت میں اعتماد حاصل کر رہے ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔ جگدیش پور حلقہ میں سیاسی منظر نامہ تب بدلے گا جب مسلم اکثریت اپنا ووٹ ایک ساتھ اس امید وار کو کریں جو ہر طبقے میں مقبول ہے جہاں یادو ، دلت اور مسلم مثلث کے زاویئے ہیں  ۔ شمیم احمد ایڈوکیٹ سماج وادی پارٹی کے بینر تلے ایک اہم کڑی ہیں جن کے پاس ہر طبقے سے اعتماد حاصل ہو رہا ہے ۔ بس ہمیں اپنا ملی اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

محمد مرسلین اصلاحی

Post Top Ad

Your Ad Spot