Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, May 7, 2021

ڈاکٹر فخر الدین محمد ملت کے لئے فکر مند انسان تھے۔.. مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی



پٹنہ.. بہار /صدائے وقت /(عبد الرحیم برھولیاوی). 
==============================
ڈاکٹر فخر الدین محمد کے انتقال سے حیدرآباد سے ملت کے لئے ایک فکر مند انسان رخصت ہو گیا، وہ حیدرآباد کی ملی، تعلیمی سرگرمیوں کی جان تھے، میسکو کے اعزازی سکریٹری کی حیثیت سے ان کی خدمات قابل تعریف رہی ہیں، 
ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم۔مجلس اردو صحافت اور کاروان ادب کے صدر،اردو کارواں کے نائب صدر اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نےاپنےتعزیتی بیان میں کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ ڈاکٹر فخر الدین محمد صاحب سے میری صرف ایک ملاقات  تھی، میں ان کی دعوت پر سترویں یوم رحمتہ اللعالمین کے موقع سے حیدرآباد حاضر ہواتھا، یہ اجلاس ہر سال کل ہند مجلس تعمیر ملت کے زیر اہتمام منعقدہوتا ہے، اس سال وہ اس پروگرام کے لیے تشکیل مجلس استقبالیہ کے صدر تھے، یہ اجلاس ١٢/ ربیع الاول ١٤٤١ھ مطابق ١٠/نومبر ٢٠١٩ء کو اکزبیشین گراؤنڈ حیدرآباد تلنگانہ میں منعقد ہوا تھا، اجلاس میں بحیثیت مہمان مقرر انہوں نے مجھے مدعو کیا تھا، اس موقع سے میرے دو خطابات ہوئے، ایک سیرت پاک کے حوالہ سے اور دوسرا خطاب اگلے دن عظمت صحابہ کے عنوان پر ہوا تھا، دو دنوں کے اس قیام میں مجھے ان کے اخلاق و عادات اور ان کی ملی تعلیمی سرگرمیوں کو  قریب سےجاننے اور سمجھنے کا موقع ملا تھا، انہوں نے قیام کا انتظام ہوٹل میں کیا تھا، لیکن میں نے جب انہیں بتایا کہ ہوٹل میں تو مجھے تنہائی ڈس لے گی تو میرے اصرار پر دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد میں میرے بھتیجے اور داماد مولانا محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری کے پاس قیام کی اجازت دی اور جب تک حیدرآباد رہا میری خبر گیری کرتے رہے، میں ان کے اخلاق کریمانہ، پیشہ وارانہ مہارت، ملت کے تئیں ان کی دردمندی اور فکر مندی سے بہت متأثر ہوا، ان کے انتقال سے مجھے ذاتی صدمہ پہونچا ہے، مفتی صاحب نے اپنے تعزیتی کلمات میں ڈاکٹر صاحب کی رحلت کو بڑا ملی نقصان قرار دیا اور ان کے لیے مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا فرمائی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot