Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, June 7, 2021

ہر ‏ آدمی ‏میں ‏ ہوتے ‏ ہیں ‏ دس ‏ بیس ‏ آدمی ‏. ‏. ‏. ‏. ‏


تحریر /  مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ. 
                       صدائے وقت. 
 =============================
انسان فرد کے اعتبار سے یک و تنہا ہوتا ہے، اور اتنا تنہا ہوتا ہے کہ وہ سومیں بھی اپنے کو اکیلا محسوس کرتا ہے، تصوف کی اصطلاح میں بات کریں تو وہ بھری پری دنیا  اور انجمنوں میں بھی تنہا ہوجاتا ہے، اسی کو "خلوت در انجمن کہتے ہیں" کسی فکر اور خیال میں اس طرح کھویا کھویا رہتا ہے کہ گردو پیش کے شورو غوغا، چیخ و پکار، اچھل اچھل کر کی جانے والی تقریر یں بھی اس کی سماعت پر اثر انداز نہیں ہوتیں اور وہ اپنی دنیا میں مگن ہوتا ہے، یہ دنیا عشق حقیقی کی بھی ہوسکتی ہے اور مجازی کی بھی، لو اللہ سے لگا کر بھی یک سو ہوا جاسکتا ہے، اور محبوبہ و معشوقہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوکر بھی؛لیکن یہ کیفیت ہر انسان کی نہیں ہوتی، انسان کا سماجی جاندار ہونے کی وجہ سے اس طرح الگ تھلگ ہونا عموماً نہیں ہوتا؛کیونکہ اس سے کاروبار زندگی پر فرق پڑتا ہے۔
عام حالات میں ہر آدمی کو دس بیس آدمی کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے، وہ گھر میں بیٹا، بیٹی، پوتا،پوتی، دادا،دادی، باپ،ماں اور شوہر بیوی کی حیثیت سے زندگی گذارتا ہے، ہر ایک کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، گھریلو معاملات سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا،اس میں گھریلو ضرورتیں بھی آتی ہیں، نان نفقہ بھی آتا ہے، بچوں کی تعلیم وتربیت کے مسائل ہوتے ہیں، معاشی تنگی  کا سامنا ہوتا ہے اور سب کی خواہشات اور مطالبات کی فراہمی اور پُورتی کرتے کرتے انسان نڈھال اور بے بس ہوجاتا ہے، چرچراہٹ، زود رنجی، چیخ و پکار کی عادت اسی کا ثمرہ ہے،
 گھر سے باہر نکل کر دفتر جاتا ہے تو اس پر کاموں کا دوسرا بوجھ آپڑتا ہے، کہیں ہم افسر ہوتے ہیں اور کہیں ہم نوکر، اسکول میں کبھی ہمیں معلم کی ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے اور کبھی متعلم کی، کہیں ہمیں کچھ دینا ہوتا ہے ، اور کہیں کچھ لینا، گھر سے باہر ہی ایک بڑا سماج بسا ہے، جن کی امیدیں ہم سے الگ الگ وابستہ ہوتی ہیں، ان کے تقاضوں کو پورا کرنا ان کے لیے وقت نکالنا بھی آسان نہیں ہوتا، مختلف سمتوں میں کام کی یہ شکلیں ہمارے ذہن و دماغ کو بھی متأثر کرتی ہیں اور ہماری کارکردگی کو بھی ۔
ہر آدمی کسی نہ کسی ملت کا فرد ہوتا ہے، اس کی کچھ مذہبی ذمہ داری ہوتی ہے، ہمیں اپنی اس ذمہ داری کو بھی ادا کرنا ہوتا ہے، ہم کسی مسجد کے امام ہوتے ہیں یا مقتدی، ہم کسی ادارے کے ذمہ دار اور ناظم ہوتے ہیں اور کبھی اس کے رکن کی حیثیت سے قائد کے احکام و ہدایات پر آمَنَّا صَدَّقْنَا کہتے نظر آتے ہیں، ان تمام حیثیتوں کے اپنے اپنے تقاضے ہیں، ان تقاضوں کی تکمیل کی وجہ سے کبھی کبھی ہمارے اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ اس تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی مختلف انداز میں گزارنی ہوتی ہے، ہم ہوتے تو ایک ہی ہیں؛لیکن ہمارے اندر اتنے کردار بستے ہیں اور ہم الگ الگ اوقات میں الگ الگ رول ادا کرتے نظر آتے ہیں، فلمی دنیا میں ڈبل رول کی اصطلاح عام ہے اور اس کو اہمیت دی جاتی ہے؛لیکن انسان زندگی کے اسٹیج پر جو ادا کاری کرتا ہے اس میں اسے سینکڑوں رول وقفے وقفے سے ادا کرنے ہوتے ہیں، بہت سارے لوگوں کے لئے اتنے کردار کا ادا کرنا پریشانی کا باعث ہوتا ہے اور وہ نفسیاتی طور پر اعصابی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کے مظاہر بار بار دیکھنے میں آتے ہیں، چرچراہٹ، جھنجھلاہٹ، غیر مطمئن زندگی اسی اعصابی تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کے برعکس کئی لوگ ان تمام کرداروں کو اس خوبی سے ادا کرتے ہیں کہ وہ گھر، سماج،دفتر اور ملی اداروں میں کامیاب، خوش حال اور مقبول افراد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، ایسے لوگوں کی زندگی قابلِ رشک ہوتی ہے اور لوگ اس کو مثال میں پیش کیا کرتے ہیں۔
ایسی کامیاب زندگی گذارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس حیثیت کو تسلیم کرلیں کہ اس دنیا میں ایک ساتھ سب کو خوش نہیں رکھا جاسکتا، اگر کسی سے سب خوش ہیں تو بقول امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رح یا تو وہ منافقت برتتا ہے یا اپنی ذمہ داریوں کو صحیح سے ادا نہیں کرتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے کردار پر وقفہ وقفہ سے نظر ڈالنی چاہیے، اپنے تمام کرداروں کی اہمیت، مقاصد اور افادیت کا تجزیہ کرنا چاہیے،  ذہنی، دماغی و جسمانی طور پر اپنی ترجیحات اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے متنبہ اور حساس رہنا چاہیے، تبھی تمام کرداروں کے ساتھ انصاف ممکن ہوسکے گا۔
یہ بات میں اس پس منظر میں لکھ رہا ہوں کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ متضاد کرداروں کو نبھانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوپاتا اور نہ ہی ہم اپنے سبھی کردار کو برابروقت اور اہمیت دینے پر قادر ہوتے ہیں، ایسے میں ہمیں ترجیحات کی درجہ بندی کرنی چاہیے اور ان مسائل و معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے؛ جو ہماری معاشی،سماجی، اقتصادی،ملی ترقیات کے لئے ضروری ہیں ، ترجیحات طے کرنے کے بعد آپ کے لئے ممکن ہوگا کہ ہر کردار میں خود کو فٹ کرنے کی جد و جہد میں جو وقت لگا رہے ہیں اور جس کی وجہ سے اعصابی تناؤ کے شکار ہورہے ہیں، اس سے بچ سکیں، پھر جو ترجیحات آپ نے طے کی ہیں اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرنا چاہیے اور یہ مان کر چلنا چاہیے کہ اس کے مثبت اور مفید نتائج جو بھی سامنے آئیں گے اسی میں ہماری ترقی کا راز بھی مضمر ہے، اس خیال کی وجہ سے آپ کے کام کی رفتار تیز ہوگی، سلیقہ مندی آۓ گی اور نفسیاتی طور پر آپ مطمئن رہ پائیں گے۔
مختلف اور متنوع قسم کے کردار کی ادائیگی کے لیے منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور نظام الاوقات کی پابندی کی بھی، ہمارا بہت سارا وقت غیر منصوبہ بند انداز میں کام کرنے اور نظام الاوقات کے نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے؛حالانکہ وقت سونے سے زیادہ قمیتی ہے اور تجربہ  بتاتا ہے کہ جنہوں نے وقت ضائع کیا وقت بھی انہیں ضائع کردیتا ہے؛اگر ایک ہی وقت میں کئی کردار ادا کرنا ہو تو بھی ترجیحات کا خیال رکھیں؛البتہ دوسرے کردار کو اس طرح نظر انداز نہ کریں کہ لوگ سمجھیں کہ اس کردار سے آپ کی دلچسپی ہے ہی نہیں، اعتدال اور توازن کے ساتھ سارے کردار کی ادائیگی کی کوشش کیجئے اہم اور غیر اہم کے فرق کو سمجھئیے ذہنی اور اعصابی تناؤ سے بچتے ہوئے، دنیا کی پٹری پر زندگی کی گاڑی کو کھینچتے چلئیے اور اس طرح کھنچیے کہ دنیا کہے کہ یہ کئی دماغوں کا ہی انسان نہیں،کئ کرداروں کا انسان ہے، اور لوگ آپ کو کئی بار دیکھنے کی خواہش کریں۔ندا فاضلی کا مشہور شعر ہے۔
ہر آدمی میں بستے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہوکئ بار دیکھنا

Post Top Ad

Your Ad Spot