Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, June 10, 2021

جامعہ ‏ملیہ ‏ اسلامیہ ‏ دہلی ‏کے ‏ شعبہ ‏ تاریخ ‏کے سابق ‏ صدر ‏ پروفیسر ‏ رفاقت ‏ علی ‏خان ‏کے ‏انتقال ‏پر ‏ تعزیتی ‏ پیغام ‏. ‏

اعظم گڑھ.. اتر پردیش /صدائے وقت /نمائندہ /10 جون 2021. 
==============================
٨ جون بروز منگل تقریباً ٨ بجے شب جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبہ تاریخ وثقافت کے سابق پروفیسر وصدر کنور رفاقت علی خان دار جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔پروفیسر خان اچھے استاذ اور شریف النفس انسان تھے ان کی شخصیت بڑی دلکش اور انداز نرالا تھا ان کے چہرے کی ہلکی سی مسکراہٹ ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیتی۔
مرحوم ١٩٣٩ میں پیدا ہوئے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی اور مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔جامعہ میں درس وتدریس سے قبل بحیثیت پرنسپل مولانا آزاد کالج اورنگ آباد میں خدمات انجام دیں مرحوم جامعہ ملیہ میں مغل اور اسلامی تاریخ  کےبہتریں استاذ تھے ۔مغل راجپوت ریلیشن کے ایک اہم پہلو پر ان کا تحقیقی مقالہ داد تحسین حاصل کر چکا ہے  اسی طرح تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب جدو جہد آزادی میں مسلمانوں کا کردار منظر عام آچکی ہے 
جامعہ میں دوران طالب علمی ان کی جس چیز نے ہم لوگوں کو متاثر کیا وہ ان کی ذہانت؛ تاریخی بصیرت؛ معروضی نقطۂ نظر اور جمہوری رویہ تھا۔ان کا دل بڑا تھا وہ اپنے طلباء کی قدر کرتے تھے انکی مدد کو تیار رہتے
وہ تقریبا بیاسی سال کے تھے آج جب کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ان کی سب باتیں یاد آرہی ہیں ۔پسماندگان میں ان کے دو بیٹوں کے علاوہ شاگردوں کی ایک کثیر تعداد ہے 
مذکورہ باتیں ڈاکٹر علاءالدین خان صدر شعبہ تاریخ وثقافت شبلی نیشنل کالج نے ایک تعزیتی پیغام میں کہیں انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بڑا رنج وملال ہے کہ ہم آج ایک مشفق استاذ سے محروم ہو گئے وہ سارک رائیٹر فورم سے بھی وابستہ تھے ان کی وجہ سے مجھے بھی متعدد بار اس فورم کے پلیٹ فارم سے اپنے تحقیقی مقالات پیش کرنے کا موقعہ ملا انکی خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اپنے طلباء کو آگے بڑھانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور تمام متعلقین وپسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

Post Top Ad

Your Ad Spot