Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, July 14, 2021

حضرت مولانا حمزہ صاحب جوار رحمت میں....

۔
تحریر۔۔۔۔۔۔۔شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی۔۔۔
                     صدائے وقت
====================================
شام میں ساڑھے چار بجے جب کہ ہلکی ہلکی بارش نے موسم میں خنکی پیدا کردی تھی، کمرے میں بیٹھ کر کتابوں کے اوراق میں کچھ معلومات کی تلاش میں مصروف تھا کہ مولانا حفظ الرحمن صاحب اعظمی نے خبر دی کہ مولانا محمد حمزہ صاحب جونپوری انتقال فرما گئے، زبان پر آیت ترجیع آئی اور اسی کے ساتھ ذہن کے پردے پر پندرہ سال قبل ماضی کی تصویریں ابھرنے اور مٹنے لگیں،

مولانا محمد حمزہ صاحب مرحوم سے شناسائی زمانۂ طالب علمی سے ہے، مدرسہ بدرالاسلام شاہ گنج میں شیخوپور کے کئی اساتذہ مصروف تدریس تھے اور ان ہی کی نگرانی میں کئی طالب علم بھی، چھٹیوں کے مواقع پر وہاں جانا ہوتا تو مولانا مرحوم سے ملاقات ہوتی، 2005میں رسمی فراغت کے بعد تدریس کے سلسلے میں مستقل میں یہاں آگیا، اور ایک سال تک تدریسی فرائض میں مصروف رہا، ان ہی ایام میں مولانا مرحوم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان کی زندگی کے بہت سے گوشے سامنے آئے۔

مولانا محمد حمزہ صاحب مرحوم کا خانوادہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است کا مصداق ہے، جس ماحول میں انھوں نے آنکھیں کھولی،وہ دینی علوم، اوظاف واوراد اور تلاوت قرآن کے زمزموں سے گونج رہا تھا، ہر طرف اسلامی تمدن کی بہاریں خیمہ زن تھیں، اس خاندان کو جونپور خطے میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ کئی پشتوں سے ارباب علم وکمال پیدا ہوتے رہے ہیں، ہمارے رفیق محترم مفتی عبیداللہ شمیم صاحب نے اس خانوادے کے علماء ومشائخ کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے مناسب ہے کہ اسے بعینہٖ نقل کردیا جائے وہ ہر لحاظ سے مکمل اور جامع ہے،،
مولانا محمد حمزہ خان قاسمى  
ابن مولانا احمد قاسمى ابن مولانا سعيد شاه عليه الرحمة وفات 22/رجب 1391ھ مطابق 14/ ستمبر 1971ء ابن سلطان شاه (ولادت 1274ھ وفات 1343ھ) 
جونپور اتر پردیش کا ایک تاریخی ضلع ہے جو سلطنت شرقی کا دارالسلطنت بھی رہ چکا ہے اسی ضلع کا مشہور گاؤں موضع لپری ہے، آپ كا گھرانا بھی اسی گاؤں کا ایک علمی گھرانہ رہا ہے، آپ كے پر دادا  سلطان شاہ علیہ الرحمۃ  
مشہور نقشبندی بزرگ چاند شاہ علیہ الرحمۃ کے اجل خلفاء میں تھے۔ اور دادا سعید شاہ علیہ الرحمۃ ایک باکمال شاعر ہونے کے باوجود مذہبی امور کے سخت پابند تھے۔ فرائض ونوافل و وظائف؛ تہجد اشراق تلاوت قرآن کا انکا ایسا معمول تھا جس میں کسی بھی حال میں فرق نہیں آنے پاتا تھا۔
آپ كے جد اعلى حضرت شاه  سلطان صاحب رحمه الله  (پيدائش 1274ھ وفات 1343ھ) مشہور بزرگ حضرت چاند شاه صاحب عليه الرحمة كے خليفہ تھے، ان كى زندگى بالكل ساده اور بے تكلف تھى، ديہاتى زبان ميں گفتگو كرتے تھے، جو بھى الله كا نام پوچھتا اسے بتلا ديتے، مگر تقوى وللہيت كى بركت تھى كہ آنے والى نسليں بھى اس وصف سے متصف ہيں۔
شاه صاحب كے تين صاحبزادے ہوئے۔
(1) مولانا شاه عبد الغفور صاحب
(2) مولانا دين محمد صاحب جو ايک جيد عالم تھے، ان ہی كے صاحبزادے مولانا ابو العرفان خان صاحب ندوى تھے جو ايک عرصہ تک ندوة العلماء كے مہتمم رہے ہيں۔ 
(3) مولانا شاه سعيد احمد صاحب، جن كى اولاد ميں الله تعالى نے خوب خوب بركت دى، ان كے پانچ صاحبزادے ہوئے۔
(1) مولانا جميل احمد صاحب جو مدرسہ بدر الاسلام  شاه گنج كے بانى ہيں۔
 (2) حافظ عقيل احمد صاحب، (3) مولانا احمد صاحب قاسمی جو ايک عرصہ تک مدرسہ بدر الاسلام كے ناظم رہے ہيں، اور آپ کے والد تھے۔
(4) مولانا امين صاحب اور نمبر (5)  مولانا عثمان احمد صاحب جن کے صاحب زادے مولانا اکرم صاحب قاسمی اور مولانا ارشد صاحب مظاہری وغیرہ ہیں۔
مولانا حمزہ خان صاحب دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور جید عالم دین تھے، علماء سے محبت کرنے والے تھے، خصوصا مدنی خاندان سے بہت تعلق تھا اور یہ تعلق بہت قدیم تھا، آپ کے والد حضرت مولانا احمد صاحب حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور انہیں سے بیعت وارادت کا تعلق تھا۔(تحریر مفتی عبیداللہ شمیم صاحب)

مولانا محمد حمزہ صاحب خاندانی روایت کے مطابق دینی تعلیم کے حصول میں مشغول ہوئے اور دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی، اور مملکت قطر میں ایک جامع میں امامت وخطابت کے منصب پر فائز ہوگئے، 
1997میں والد محترم مولانا محمد احمد صاحب کا انتقال ہوا تو مدرسہ کی نگرانی کے لئے آپ کی ضرورت محسوس ہوئی،اور پھر ادارے کے اہتمام کے تقاضے کے تحت قطر کی ملازمت ترک کرکے جد امجد کے قائم کردہ ادارے مدرسہ بدرالاسلام شاہ گنج کے انتظام واہتمام میں مشغول ہو گئے،

2006میں راقم الحروف نے اس ادارے میں تدریس سے وابستہ ہوا تو اس وقت مولانا حمزہ صاحب  بحیثیت مہتمم مدرسہ ہی میں موجود تھے،اور اس کی تعمیر وترقی میں مصروف تھے ،اور ہر لحاظ سے اسے معیاری بنانے میں کوشاں تھے، اور انھوں نے جد وجہد اور کوشش ومحنت سے کافی ترقی بھی مدرسہ کو عطا کی۔

مولانا محمد حمزہ صاحب مرحوم،بہت خلیق،ملنسار، خوش مزاج اور مہمان نواز تھے، اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت نفیس،باذوق اور رکھ رکھاؤ کے حامل شخص تھے، نستعلیقیت ان کی ہر ادا سے ٹپکتی تھی، خورد ونوش اور لباس پوشاک میں نفاست کا بہت اہتمام کرتے تھے، عرب میں زیادہ مدت تک رہنے کی وجہ سے وہاں کی تہذیب وتمدن بھی خاصی حد تک زندگی میں شامل تھی،  عمومآ وہ عربی لباس جبہ وغیرہ ہی پہنتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اخلاقی اوصاف کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل صورت میں بھی بہت وجاہت عطا فرمائی تھی، لحیم شحیم،دراز قد اور لمبی وگھنی ڈارھی، آنکھوں پر سنہرا چشمہ سر پر عموما عربی رومال،دیکھنے والوں کو پہلی ہی نظر میں مرعوب کردیتا تھا، 

مولانا حمزہ صاحب زبردست خطیب تھے، آواز میں بلندی
بجلیوں کی گھن گرج اور لہجے میں جوش وخروش کا ایک دریا ہوتاتھا  جو بات کہتے نہایت بے باکانہ انداز میں کہتے، اور انتہائی جرأت مندانہ انداز میں بے خوفی سے کرتے،
ان کی تقریر علاقے میں بہت مقبول ومشہور تھی، 

مولانا رحمت اللہ علیہ بہت مہمان نواز اور فیاض بھی تھے،انھوں نے قطر کے زمانے میں بہت پیسے کمائے مگر اکثر رشتے داروں کی ضروریات میں خرچ کیا،خود اپنے لیے انھوں نے کوئی پراپرٹی نہیں بنائی،  علماء کے بہت قدرداں تھے،ان کی بہت عزت واکرام کرتے تھے، حضرت مولانا ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند کے تو شیدائی تھے ویسے بھی ان کا پورا خانوادہ مدنی خاندان کا ہمیشہ عقیدت مند رہا ہے۔

مولانا مرحوم بہت کم گو تھے مگر کم آمیزی انتہا پر نہیں تھی کہ جس سے تمکنت کا احساس ہو، اور مخاطب کو اکتاہٹ محسوس ہونے لگے، البتہ ایک حد میں رہ کر گفتگو ہوتی جس میں علمی وفکری باتیں بھی ہوتیں اور ظرافت وبذلہ سنجی بھی ہوتی،مگر سنجیدگی ووقار بہرصورت باقی رہتا۔ایک سال تک مستقل عصر کےمعا  بعد ان کی مجلس میں حاضری رہی،ان کے گھر سے چائے آتی،تھوڑی دیر تک گفتگو ہوتی اس کے بعد ہم اپنے کمروں میں چلے جاتے،

مولانا مرحوم قران کریم بھی بہت عمدہ پڑھتے تھے،بالکل عرب کے طرز پر اور عرب کے لہجے پر، حتی کہ نماز کی انتقالی تکبیریں بھی عربوں ہی کے انداز وآہنگ پر ہوتی تھیں،
اس طرز کی وجہ سے قرات میں بہت دلکشی اور جاذبیت پیدا ہوجاتی تھی، اور سماعتوں کے لئے گراں بار نہیں ہوتی تھی۔

سانس کی تکلیف اس وقت بھی انہیں تھی، اور یہ مرض شاید عرب میں ہی لاحق ہوچکا تھا، لیکن زندگی اتنی متاثر نہیں ہوئی تھی کہ ظاہر ی جسم پر اس کے اثرات نمایاں ہوں، ادھر پندرہ سال سے ملاقات کی نوبت نہ آسکی، اس دوران اس مرض کی کیا پوزیشن تھی اس سے لاعلمی ہی رہی، ادھر چند سال سے طبیعت زیادہ علیل رہنے لگی تھی، بالاخر وقت موعود آچکا،اور 14/جولائی 2021مطابق 3/ذی الحجہ 1442/بروز بدھ طائر روح قفس عنصری سے پرواز کرگیا۔

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
14/جولائی 2021/ 3/ذی الحجہ 1442بروز بدھ

Post Top Ad

Your Ad Spot