Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, July 17, 2021

_قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ایک بے مثال شخصیت_*

از۔۔۔قمر اعظم صدیقی_ بھرپور، حاجی پور ویشالی، بہار 
         9167679924📞
                             صدائے وقت۔
++++++++++++++++++++++++++++++++++
مجھ جیسا کم علم شخص قاضی صاحب رحمتہ اللہ علیہ جیسی شخصیت کے متعلق کچھ لکھے یہ  ان کی شخصیت کے شایان شان نہیں ہوسکتا ۔قاضی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی  خدمات اور کارنامے کچھ ایسے ہیں جس کے بارے میں اگر نہ لکھا جائے تو ہماری نئی نسل ان  کے کارنامے اور ان کے پیغام سے محروم رہ جائے گی۔ 4 اپریل 2002 ء کو آپ ایک ایسے وقت میں دنیا سے رخصت ہوئے جب ملت اسلامیہ ہند کو آپ کی سخت ضرورت تھی۔ مجاہد الاسلام کے معنی" اسلام کا مجاہد" کہ ہوتے ہیں تو بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے  کہ قاضی صاحب اسلام کے بہت بڑے مجاہد تھے  ۔آپ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر آل انڈیا ملی کونسل کے  بانی اور سکریٹری  جنرل تھے ۔اسلامک فقہ اکیڈمی کے بانی وموسس اور سیکریٹری جنرل و  مجمع الفقہ الاسلامی جدہ میں ہندوستان کے واحد رکن و رابطہ عالم اسلامی کے تحت  قائم مجمع الفقہ الاسلامی مکہ مکرمہ کے ممبر اور امارت شرعیہ بہار ، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے قاضی القضاۃ اور نائب امیر شریعت بھی تھے۔قاضی صاحب کے انتقال کے بعد ملت اسلامیہ نے علم و فکر کا بہت ہی قیمتی جوہر کھو دیا ہے جسے پر کرنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ قاضی صاحب کی پیدائش 1936ء  میں بہار کے  ضلع  دربھنگہ کے قصبہ جالے میں ہوئی۔ آپ کے والد مولانا عبدالاحد بھی کافی مشہور تھے۔ آپ کی والدہ مولوی محمد جمیل صاحب ساکن محلہ جالہ کی صاحبزادی  تھیں۔ ان کی والدہ بی بی نجوم فاطمہ سید عبدالفتاح صاحب نستہ کی صاحبزادی تھیں جو  اپنے وقت کے معروف صاحب معرفت بزرگوں میں سے تھے آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اس کے بعد عربی کی متوسطات تک  تعلیم محمود العلوم  دملہ ، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اور دارالعلوم مؤ میں  حاصل کی۔  اس کے بعد آپ1951ء میں دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے جہاں 1955ء تک زیر تعلیم رہے۔دیوبند سے فراغت کے بعد آپ جامعہ رحمانی مونگیر تشریف لے گئے وہاں آپ نے 1962ء  تک عربی کا درس دیا ۔اس کے بعد آپ امارت شرعیہ تشریف لائے۔  اس وقت مولانا منت اللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ امارت شرعیہ کے امیر شریعت تھے ۔امارت شرعیہ آنے کے بعد آپ اخیر تک  امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ و جھاڑکھنڈ کے قاضی القضاۃ رہے۔ انتقال کے  چند برسوں قبل آپ نائب امیر شریعت بھی بنائے گئے تھے۔  آپ نے اپنی 66 سالہ زندگی قوم و  ملت کی خدمت میں صرف کردی۔ قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے لیے تو سب جیتے ہیں مگر دوسروں کے لئے جینا واقعی قابل تعریف بات ہے۔  قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات پر الامین ایجوکیشنل ٹرسٹ بنگلور کی جانب سے کمیونٹی لیڈرشپ ایوارڈ، آئی او ایس دہلی کی جانب سے شاہ ولی اللہ ایوارڈ، امریکن فیڈریشن آف مسلم کی طرف سے سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ  ایوارڈ ، مسلم ایجوکیشن ایسوسی ایشن آف ساؤتھ انڈیا کی جانب سے بہترین اسلامی شخصیت  ایوارڈ پیش کیا گیا ۔ قاضی صاحب کے اندر خاص بات یہ بھی تھی کہ آپ کے اندر غریب امیر چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔ آپ سبھوں سے خلوص سے ملتے تھے اور کسی بھی طرح کی پریشانیوں کو آسانی سے سلجھا دیتے تھے۔  قاضی صاحب کی ملی و قومی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ آپ نے قضاء کے نظام کی توسیع اور زیادہ سے زیادہ مقامات پر دار القضاء کے قیام  لئے  شب و روز  کوشش کی اور اس اہم کام کے لئے لوگوں کو تیار کیا گیا۔امارت کا وفد لے کر گاؤں گاؤں شہر شہر پہنچے مکاتب قائم کیا۔ عوام اس سے دلچسپی لینے لگے۔ دارالقضاء  میں بڑی تعداد میں مقدمات آنے لگے۔ دارالافتاء میں سوالات بھی بڑھنے لگے۔ بیت المال کا استحکام حاصل ہوا۔ مسلمان تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ امارت کی آواز مسلمانوں کے مسائل کے لئے ایک ایسی نمائندہ  آواز سمجھی  گئ  کہ حکومت  بھی اسے اہمیت دینے پر مجبور ہوگئی۔قاضی صاحب کے کارناموں میں امارت شرعیہ کے منصب افتاء کی ترتیب ، نو ملی کونسل کی تشکیل،فقہ اکیڈمی کے قیام اور مسلم پرسنل لا بورڈ کی فکری  تہذیب کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ آپ نے قضاء اور افتاء کی تربیت کے لئے ایک مستقل ادارہ کی تشکیل المعھد العالی امارت کے ہی ماتحت کی جو نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔جو  اس وقت پورے ملک کا مرجع بنا ہوا ہے۔  1992ء میں آپ نے آل انڈیا ملی کونسل کی تشکیل فرماکر وحدت کلمہ کی بنیاد پر امت کو جوڑنے کا عمل شروع کیا۔  مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑنا، انتخابی سیاست میں مسلمانوں کا ووٹ متحد کرنا ، ٹاڈا قانون کا خاتمہ، کسی بھی سیاسی اور مذہبی مسلہ پر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا جو کام کونسل نے  کیا ہے وہ  ہندوستان کی ملی  تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔اسلامی فقہ اکیڈمی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جس میں ابھی ملک بھر کے ذہین اور باصلاحیت اصحاب علم  شریک ہیں اور نہایت اہم موضوعات پر تحقیقی اور  تصنیفی خدمات انجام دیا جا رہا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک میں آپ  شروع سے ہی سرگرم رول ادا  کرتے رہے۔  شاہ بانو کیس کے نتیجہ میں جو تحریک اٹھی اس میں  آپ نے پورے ملک کا دورہ کیا۔  بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے مجروح دلوں پر مرہم رکھنے اور ان کی پست ہوئ  ہمتوں  کو اونچا اٹھانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد مسلسل علالت کے باوجود اتفاق رائے سے  آپ کو مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیسرا صدر منتخب  کیا گیا ۔ آپ نے نظام قضاء سے متعلق "اسلامی عدالت" جیسی کتاب کی بھی تصنیف کی جو عربی اور اردو دونوں میں لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے قضاء کے موضوع پر نہایت ہی اہم کتاب "صنوان القضاء " کو ایڈیٹ کیا جو چار جلدوں پر مشتمل ہے اور کویت سے چھپی ہے۔ آپ اور بھی  کئی کتابوں کے مصنف تھے۔قاضی صاحب نے دینی  تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل تعلیم پر بھی  خاص توجہ دی۔ امارت شرعیہ کے نگرانی میں آپ نے چمپارن ، پورنیہ ، دربھنگہ ،چترا اور آخیر میں راؤر کیلا (اڑیسہ) میں ٹیکنیکل ادارے قائم کرکے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا جو  کارنامہ انجام دیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔اس کے علاوہ آپ نے درجنوں مدرسے قائم کیے۔ جالے میں آپ نے ایک اقامتی  اسکول بھی کھلواۓ۔ پورنیہ میں کونوینٹ کے لیے سات ایکڑ  زمین  خریدی گئی لیکن اس کا قیام آپ کی زندگی میں عمل میں نہیں آیا تھا ۔مہاراشٹر میں آپ نے یتیم بچوں کے لیے ایک اسکول کھلوایا جس کا خرچ ملی کونسل کی جانب سے پورا کیا جاتا ہے۔
 آپ کا انتقال 4 اپریل 2002 ء کو رات  6 بج کر 45 منٹ پر دہلی کے اپولو  اسپتال میں ہوا۔ 5 اپریل 2002 کو صبح سوا سات بجے جامعہ ملیہ دہلی میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔  اس کے بعد آپ کو ہوائی جہاز کے ذریعہ پٹنہ ایئرپورٹ لایا گیا جہاں سے آپ کو امارت شرعیہ پھلواری شریف کے دفتر لایا گیا۔  یہاں تقریباً 15 ہزار لوگوں نے امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب کی امامت میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔  نماز جنازہ سے قبل آپ کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ نوازا گیا۔ اس کے بعد آپ کو بذریعہ طیارہ دربھنگہ لے جایا گیا پھر وہاں سے  آپ کو مہدودلی لے جایا گیا ۔ مہدولی آپ کا سسرال ہے۔وہیں آپ نے چار سال قبل زمین لے کر اپنا گھر بنوایا تھا۔وہاں ساڑھے آٹھ بجے رات میں  آپ کے بھتیجا موصوف عالم و دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کے جسد خاکی تدفین آپ کے مکان کے صحن میں  ہی  چہار دیواری کے اندر عمل میں آئ۔قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تو اب  ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن انہوں نے اپنے لئے  ثواب جاریہ کا بہت سارا راستہ کھول رکھا ہے۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے، آپ کے درجات کو بلند کرے آمین۔

Post Top Ad

Your Ad Spot