Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, August 1, 2021

عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم کی رحلت علمی حلقوں کا عظیم خسارہ ..۔ مولانا محمدنعیم الدین


۔
غازی پور: ..اتر پردیش ۔  ( نامہ نگار : ۔ خاطر احمد)
====================================
عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم اور ممتاز و مؤقر استاذ حدیث مولانا عبدالخالق سنبھلی کے سانحہ ارتحال پرمدرسہ اشاعت العلوم سٹی ریلوے اسٹیشن واقع شاہی مسجد غازی پور میں ایک تعزیتی جلسہ بعد نمازظہر منعقد ہوا جس کی صدارت مدرسہ ھٰذا کے ناظم اعلٰی مولانا محمد نعیم الدین غازی ؔ نے کی، پروگرام کا آغاز شیر علی راعین کے تلاوت قرآن مجید سے ہوا ۔ 

شاہی مسجد غازی پور کے امام حافظ صاحب علی نے اپنے تعزیتی پروگرام میں کہا کہ مولانا کا آبائی وطن یوپی کا ضلع سنبھل ہے ،جہاں 5؍ جنوری 1950ء میں ان کی پیدائش ہوئی تھی ۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد انہوں نے مختلف مدارس میں تعلیمی خدمات انجام دی ،جس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں ان کا 1982ء میں تقررہوا۔ مولانامرحوم ایک خوش اطوار، خو ش مزاج، رقیق القلب، متواضع، سادگی پسندا انسان تھے، مولانا کامیاب مدرس، بہترین قلم کا ر ہو نے کے ساتھ بہت اچھے مقرر بھی تھے۔
ابن بقال نےاپنےمختصر تعزیتی پیغام میں ا ستاذ حدیث حضرت مولانا عبدالخالق سنبھلی کی وفات پر انتہائی حزن و ملال کا اظہار کیا ۔ مولانا دارالعلوم دیوبند کے مخلص رہنما اور علماء حق کا نمونہ تھے۔ درس و تدریس کے ساتھ آپ نے اہم انتظامی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیں، 2008 میں نائب مہتمم بنائے گئے جس پر تادم آپ فائز رہے۔ 

آج کے تعزیتی جلسہ کی صدارت مدرسہ اشاعت العلوم غازی پورکے ناظم اعلٰی مولانا محمد نعیم الدین غازی ؔ نےکر تے ہوئے، اپنے تعزیتی پیغام میں گہرے رنج و غم کااظہا رکیا اور کہا مولانا عبدالخالق سنبھلی ؒکے انتقال کوعظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند اورعلمی حلقوں کا عظیم خسارہ بتایا اور کہاکہ مرحوم نے تقریباً 40؍ سال تک دارالعلوم دیوبند کی بے مثال ،مخلصانہ خدمات انجام دیں، حضرت علم و فن میں مہارت کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کی بھی گہری سوجھ بوجھ رکھتے تھے، 19/ذالحجہ 1442ھ جمعہ کے روز دوپہر قریب ساڑھے تین بجے مظفرنگر اسپتال میں حضرت  مولانامرحوم نے آخری سانس لی۔شب گیارہ بجے مولانا مرحوم کی نماز جنازہ احاطہ مولسری میں ادا کی گئی، بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔مولانامرحوم نے کئی مو ضوعات پر کتا بیں لکھی ۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹاں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
حضرت کے لیےْمجلس میں ایصال ثواب کیا گیا اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم نور اللہ مرقدہ کو جنۃ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماے، شرکاء مجلس فاطر احمد، ذیشان خان ، محمد عدنان ، محمد ارسلان خان وغیرہ موجود تھے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot