Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, January 16, 2022

تحفظ اوقاف اور امارت شرعیہ


از /مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت  شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ. 
                      صدائے وقت 
=================================
اوقاف ملت اسلامیہ کا قیمتی سرمایہ ہیں، ماضی میں اسے ملت کے غیور، خود دار اور درد مند دل رکھنے والوں نے ملی ضرورتوں کے لیے وقف کیا تھا ، یہاں پر اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ بعض مخصوص حالات میں بعضوں نے وقف علی الاولاد کرکے اپنی جائیداد کے تحفظ کی کوشش بھی کی ، لیکن عموما جو مقاصد تھے وہ وہی تھے؛جس کا ذکر اوپر کیاگیا؛ یعنی سماج کے غریب ومحتاج اور نادار لوگوں کی مدد، مدارس اسلامیہ کے طلبہ کی کفالت ، مسلم سماج کی اجتماعی، تعلیمی، اصلاحی اور فلاحی کاموں کی انجام دہی میں تعاون ، ان کاموں کے لیے بڑی بڑی جائیدادیں وقف کی گئیں، پھر دھیرے دھیرے لوگوںکے مزاج میں تبدیلی آنے لگی ، دینے کا مزاج کم ہوا،زمینوں اور عمارتوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں تو بہت سارے واقفین کے وارثوں نے ہی وقف جائیدا کو خرد برد کرنا شروع کر دیا ، جو اپنوں کے خرد بردکی دسترس میں نہیں آیا ،اس پر غیروں نے قبضہ کر لیا ، اورہماری بے حسی کی وجہ سے آج اوقاف کی بہت ساری جائیداد پر باہو بلی اور دبنگوں کا قبضہ ہے ، عالی شان عمارتیں کھڑی ہیں، کڑوڑوں کی جائیداد ہے، لیکن ملت کو اس کا فائدہ نہیں پہونچ رہا ہے، مختلف ریاستوں کی سرکاریں بھی اس کام میں پیچھے نہیں ہیں، مرکزی حکومت نے بھی پارک وغیرہ بنوانے کے لیے اوقاف کی بہت ساری جائداد پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے ، اس بات کا اعتراف اوقاف کے لیے قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیر مین لال جان پاشا نے کیا، ان کی رپورٹ کے مطابق ’’اوقاف کی زمین اورعمارتوں پر کئی جگہ حکومت بھی قابض ہے اور کئی جگہوں پر وقف کی زمین کے سلسلے میں حکومت ہند کے ساتھ مقدمات چل رہے ہیں‘‘۔ کہیں کرایہ کے نام پرکچھ رقم مل رہی ہے تو وہ بھی علامتی ہے، اسی جگہ واقع دو سرے دوکان اور مکان کا کرایہ ہزاروں میں ہے ؛ لیکن وہیں پر وقف کی جو جائیداد ہے، اس کا کرایہ سو دو سو سے زائد نہیں ہے ، حکومت بہار کے مطابق ’’وقف کی آدھی جائیداد سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی ، جن اثاثوں سے آمدنی ہوتی ہے،ا ن میں صرف تین فی صد ایسے ہیں ، جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے زائد ہے‘‘ ۔
اس صورت حال کا احساس وادراک بہتوں کو تھا ، لیکن بہار کی حد تک میری معلومات کے مطابق عملی اقدام کیلئے اللہ رب العزت نے جس عظیم شخصیت کا انتخاب کیا وہ ابو المحاسن مولانا محمد سجاد بانی امارت شرعیہ کی ذات گرامی تھی ، بہار میں ۱۹۳۸ء تک اوقاف کی حفاظت اورنگرانی کے لیے ۱۹۲۳ء میں انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کے علاوہ ریاستی سطح پر کوئی قانون موجود نہیں تھا ،انگریزوں نے بہت سارے اوقاف ضبط کر لیے تھے، اور ان کو اس طرح اپنی ملکیت بنا لیا تھا کہ اس کی وقفی حیثیت کلیۃ ختم ہو گئی تھی ، الناس علی دین ملوکہم کے تحت بہت سارے لوگ جو اصلاً اوقاف کی زمین اور مکان کے کرایہ دار تھے، مالک بن بیٹھے ، اس طرز عمل نے اوقاف کو سخت نقصان پہونچا یا ،مسلمانوں نے انگریزوں سے اس کے تحفظ کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا، انگریزوں کے نزدیک غلام ہندوستان کے اس مطالبہ کی حیثیت ہی کیا تھی، پھر بھی ۱۹۲۳ء میں انگریزوں نے مسلم وقف ایکٹ بنایا ، اور اسے نافذ کر دیا ، یہ ایکٹ ظاہر ہے اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھا، مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒنے امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کی رہنمائی میںایک مسودہ قانون تیار کرایا اور اسے بہار مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کے ذریعہ اسمبلی میں پیش کرایا ،چونکہ یہ مسودہ مولانا کی نگرانی میں مرتب ہوا تھا ، اس لیے اس بل میں اسلامی قوانین وقف کی پوری رعایت ملحوظ رکھی گئی تھی ، بعد میں حکومت بہار نے اسی مسودہ کی روشنی میں ایک وقف بل پیش کیا؛ جو بڑی حد تک اسلامی اصول وقف کے مطابق تھا ، یہ بل اسمبلی میں منظور ہوا ، اوقاف کے تحفظ کی یہ پہلی کوشش تھی؛ جو امارت شرعیہ کے ذریعہ بہارمیں قانون بنوا کر کی گئی ۔
 اس طرح امارت شرعیہ نے مولانا کی نگرانی میں اوقاف کی جائیداد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرانے کی کامیاب جد وجہد کی ، اسمبلی میں ’’زرعی جائیدادوں ‘‘ پر جب ٹیکس کا قانون لایا گیا اور اغراض حکومت کی تکمیل کے لیے ٹیکس لگایا گیا تو اس میں اوقاف کی جائیداد بھی شامل تھی ، ظاہر ہے یہ اسلامی قانون وقف سے میل نہیں کھاتا تھا، مولانا محمد سجاد نے انڈی پنڈنٹ پارٹی کے ذریعہ اس میں ترمیمات پیش کرائیں ،مولانا نے صاف طور پر یہ بات کہی کہ
’’ اسلام میں وقف کی تقسیم  خیراتی وغیر خیراتی قطعا نہیں ہے ، جتنے اوقاف ہیں سب ہی خالصتاً لوجہ اللہ ہیں اور اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وقف علی الاولاد والاقارب پر جدید زائد ٹیکس لگایا جا سکتا ہے ، جو وقف سے پہلے نہیںتھا، او ردوسرے اوقاف پر نہیں لگایا جا سکتا یہ تفریق اسلامی قانون میں مداخلت بے جا ہے،جو کسی طرح درست نہیں۔ ( قانوی مسودہ :۴۸) 
 مولانا نے آخر میں حکومت کو متنبہہ کیا کہ ’’ وہ زرعی ٹیکس سے تمام اسلامی اوقاف کو مستثنیٰ کرے اپنی دانش مندی کا ثبوت دیں ، اور یہ کہ وہ اپنے کو اور مجھ کو کسی آزمائش میں مبتلا نہ کرے، ‘‘ ( ایضا ۵۴)
 چنانچہ تمام زرعی اوقاف کو اس قانون سے الگ رکھا گیا ۔ یہ دور انگریزوں کا تھا ، اس دورمیں بہار میں اوقاف کے کنٹرول اور تحفظ کی ذمہ داری ہر ضلع میں ضلع جج کی تھی، آزادی کے بعد بہار میں وقف ایکٹ ۱۹۴۷ء بنایا گیا ، جس کا نفاذ ۳؍ مارچ ۱۹۴۸ء سے ہوا ، بعد میں ۱۹۵۴ء میں مرکزی حکومت کی طرف سے وقف ایکٹ لایا گیا اور اسے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن مسلمان اس سے مطمئن نہیں ہوئے او رترمیم کے مطالبات جاری رہے ، ان مطالبات کے نتیجے میں ۱۹۵۴ء کے وقف ایکٹ میں ۱۹۵۹ء اور۹ ۱۹۶ء میں جزوی ترمیمات کی گئیں ، ۱۹۸۴ء میں اس ایکٹ میں وسیع پیمارے پر ترمیمات ہوئیں ،مسلمانوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی اور مسلم تنظیموں کے ذریعہ اسلامی اصولِ وقف کی روشنی میں سوالات اٹھائے گئے ، ان سوالات کی روشنی میں مرکزی حکومت نے وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء پاس کیا ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اوقاف کے تحفظ کے لیے موجودہ امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں ترمیمات کے لئے کامیاب جد وجہد کی، اوقاف کی تعریف وغیرہ میں بھی بنیادی ترمیم کرائی گئی ، غیر رجسٹرڈ اوقاف کو بھی حکومت نے وقف کے زمرے میں رکھا،یہ ایک بڑی کامیابی تھی جو اوقاف کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو حاصل ہوئی ، اس ترمیم سے قبل لال جان پاشا کی قیادت میں قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا ایک وفد مرکزی حکومت کی جانب سے مسلم اداروں کی ترمیمات اور وقف ایکٹ پر ان کے اشکالات جاننے  اور اوقاف کی حالت کاجائزہ کے لیے تین روزہ دورہ پر پٹنہ وارد ہوا تھا ، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ کے حکم پر ترمیمات کا خاکہ احقر نے مرتب کیا تھا ، اور حضرت کے حکم کے مطابق وفد کے سامنے امارت شرعیہ کی نمائندگی احقر’’ محمد ثناء الہدیٰ قاسمی‘‘ نے ہی کی تھی۔ 
قانونی اعتبار سے اوقاف کی جائیداد کے تحفظ کے لیے بہا راسٹیٹ میں سنی اور شیعہ اوقاف کے لیے الگ الگ بورڈ قائم ہے، ان کے ذمہ اوقاف کو رجسٹرڈ کرنے اور اوقاف کی جائیدا کے تحفظ کے ساتھ اسے واقف کی منشاء کے مطابق مفید اور بار آور بنانے کا کام ہے ، لیکن اس معاملہ میں دونوں بورڈ سست روی کا شکار ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہاں رجسٹرڈ اوقاف کی تعداد دوسری ریاستوں سے کم ہے، اس سلسلے میں عوامی بیداری بھی نہیں ہے ، رجسٹریشن کے کام سے قبل وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء کے سکیشن ۴ اور محکمہ اقلیتی فلاح کے نوٹی فیکیشن نمبر 843مورخہ 15/09/2008کے مطابق محکمہ اصلاحات آراضی کے پرسنل سکریٹری کو کمشنرکی حیثیت سے سروے کرانا تھا، اس کام کے لیے تمام اضلاع کے کلکٹر کو اسسٹنٹ کمشنر اور ڈ ی سی  لارکو سروے کمشنر مقرر کیا گیا تھا ، لیکن ابھی سروے کا کام ہی مکمل نہیں ہو سکا ہے ، جہاں سروے سرکاری کا رندوں کے ذریعہ کرایا گیا ہے،ان میں سے کئی جگہوں پر متعصب سروے کرنے والوں نے قبرستان کو کبیر استھان اور گورستان کو گئو استھان لکھ دیا ہے ، اس وجہ سے ان جگہوں پر کبھی بھی تنازع کھڑا ہو سکتا ہے ۔
ریاست میں وقف ترمیمی ایکٹ کے مطابق سروے کا کام ایک سال میں مکمل ہو جانا تھا ، لیکن دوسرے سرکاری کاموں کی طرح یہ معاملہ بھی التوا میں ہے ، چونکہ اس کے تمام اخراجات ریاستی حکومت ہی کو دینے ہیں، اس لیے کم از کم اس تاخیر کا سبب مرکزی حکومت کو نہیں قرار دیا جا سکتا ہے ،جب تک سروے کا کام مکمل نہیں ہو گا ، اوقاف کی جائیداد کی فہرست سازی اور درجہ بندی واقف کی منشا کے مطابق نہیں کی جاسکے گی؛ اس سلسلے میں ضرورت عوامی بیداری کی بھی ہے، اس کے بغیر نہ تو صحیح سروے ہو سکے گا اور نہ ہی وقف املاک پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف کوئی داروگیر کیا جا سکے گا ، وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء ترمیم شدہ 2013سیکشن ۵۱ کے تحت وقف جایداد کی فروختگی ،رہن رکھنے اور بدلین کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، اوقاف پر غیر قانونی قبضہ اور منتقلی کو مجرمانہ اعمال کے دائرہ میں لایا گیا ہے اور نا جائز خرید وفروخت پر دو سال تک قید وبند کی سزا بھی رکھی گئی ہے۔
اس کے با وجود خود بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ وقف املاک کی تقریبا ستر فی صدی جائیدادوںپر نا جائز قبضہ ہے اور وہ زمین ما فیاؤں کے دسترس میں ہے۔‘‘
بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈکی سالانہ رپورٹ۲۰۱۵۔۲۰۱۴ء کے مطابق بہار میں رجسٹرڈ وقف اسٹیٹ فی سبیل اللہ 2274 اور وقف علی الاولاد 182ہیں ، مقاصد اور منشاء واقف کے اعتبار سے دیکھیں تو وقف اسٹیٹ کی کل مساجد 833 عیدگاہ 57مزار ومقبرہ209، قبرستان6141مدارس ومکاتب 74، اسکول اور مسافر خانے 6,6،یتیم خانہ 4،اسپتال 2، درگاہ137، کربلا 55، خانقاہ 13، امام باڑہ224اور مکانات 194ہیں ، ان اوقاف میں آمدنی کے ذرائع والے وقف اسٹیٹ636ہیں، یہ وہ اعداد وشمار ہیں جس کا اندراج وقف بورڈ میں ہے ، اس کے علاوہ ہزاروں؛ بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ایسے اوقاف ہیں ، جن کا سروے اب تک نہیں ہو سکا اور ان کا اندراج بورڈ میں نہیں ہے ، واقف نے انہیں زبانی وقف کیا اور واقف کی منشاء کے مطابق اس کی آمدنی کا استعمال ہو رہا ہے یا ایسے ادارے اس پر قائم ہیں جو واقف کی منشاء کی تکمیل کرتے ہیں۔
بہار میں شیعہ وقف بورڈ الگ سے قائم ہے، اس کی سالانہ رپورٹ 2014-2015میں جو اعداد وشمار ذکر کیے گیے ہیں اس کے مطابق بہار میں شیعہ وقف بورڈ کے تحت کل وقف فی سبیل اللہ 130وقف علی الاولاد 68آمدنی والے اوقاف 68غیر آمدنی والے اوقاف 158ہیں ، مقاصد کے اعتبار سے دیکھیں تو مساجد 92قبرستان70، مدرسہ اور مکتب 1، ہاسپیٹل 2ہے، یہاں بھی بہت سارے اوقاف رجسٹرڈ نہیں ہیں،شیعہ وقف بورڈ نے ۱۸؍ فروری ۲۰۱۴ء کو ایک بڑی کامیابی اس وقت پائی جب اس نے خورشیدحسین وقف اسٹیٹ کی 57کھٹہ زمین پر سے نا جائز قبضہ ہٹانے میں کامیابی حاصل کی ، اس زمین کی قیمت آج کی تاریخ میں پچاس کڑوڑ سے زائد ہے ۔
سارے قانونی دفعات کے با وجود واقعہ یہ ہے کہ بہار میں اوقاف کو تحفظ حاصل نہیں ہے ، تبادلے اور مفید تر بنانے کے نام پر فروختگی کا بازار بھی گرم ہو تا رہا ہے ، اس صورت حال کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ اب لوگوں کی توجہ وقف کرنے کی طرف نہیں ہو رہی ہے؛ بلکہ کہنا چاہیے کہ وقف کرنے کا مزاج ہی سرے سے ختم ہو گیا ہے ، یہ بہت بڑا ملی خسارہ ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ وقف ایکٹ کی روشنی میں خرد برد کرنے والوں کو سخت سزادی جائے، اس کام کے لیے اوقاف کے متولی صاحبان وقف بورڈ کے ذمہ داران اور سماج کے با شعور طبقے کو آگے آنا چاہیے؛ کیونکہ اوقاف مسلمانوں کی ترقی کا بہتر ذریعہ بن سکتے ہیں ، ریاست میں مسلمانوں کی بد حالی پر حکومت کے لیے رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ، ایشین ڈولپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اہل کار شیبالی گپتا کا خیال ہے کہ ’’ وقف کی جتنی جائیداد ہے اس کا اگر اچھے کار پوریٹ ہاؤس کی طرح استعمال ہو تو مسلمانوں کی بد حالی مٹانے میں اس سے کافی مدد مل سکتی ہے ‘‘۔

Post Top Ad

Your Ad Spot