Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, February 4, 2022

اس بار بھی غائب ہے انتخابی ماحول سے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا مدعا



           رپورٹ:نشانت سکسینہ
          ترجمہ: محمد علی نعیم 
                    صدائے وقت 
==================================
پوری دنیا کلائمیٹ چینج اور آلودگی کے سنگین مسائل کا سامنا کررہی ہے لیکن ہندوستان میں یہ مسئلہ اب بھی انتخابی مدعا نہیں بن سکا ہے، آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اس ماہ اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اگرچہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے ابھی تک اپنی انتخابی منشور جاری نہیں کئے لیکن یہ صاف ہے کہ اس بار بھی موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی کا مسئلہ انتخابی ماحول سے بالکل غائب ہے 
آلودگی کے حوالے سے عالمی سطح پر گہری تشویش کے اظہار کے باوجود ہندوستان میں یہ انتخابی مدعا کیوں نہیں بنتا؟ اور کیا اتر پردیش کے رائے دہندگان موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے متفکر ہیں یا نہیں ؟ اس موضوع پر موسمیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز رکھنے والے کمیونیکیشن تھنک ٹینک کلائمیٹ ٹرینڈ نے ماہرین کی رائے جاننے کے لئے جمعے کو ایک ویبینار کا انعقاد کیا جس میں موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی کے مسئلے کو عوامی بحث کا موضوع کیسے بنایا جائے؟ اس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی
 ورلڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (WRI) انڈیا میں ایئر کوالٹی برانچ کے سربراہ ڈاکٹر اجے ناگپورے نے کہا کہ کوئی بھی مسئلہ سیاسی مدعا تب بنتا ہے جب وہ عام لوگوں کا مسئلہ ہو، لیکن صورتحال یہ ہے کہ آلودگی ابھی تک عام لوگوں کا مسئلہ نہیں بن سکی ہے ،اب تک یہ مسئلہ صرف پڑھے لکھے طبقے کا ہے، اگر ہم زمینی حقائق پر نظر ڈالیں اور عام لوگوں سے ان کے پانچ اہم مسائل کے بارے میں پوچھیں تو ان میں آلودگی کا مسئلہ شامل نہیں ہے، دہلی میں کرائے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سروے کے دوران ہم نے لوگوں سے پوچھا تھا کہ وہ کون سی 5 چیزیں ہیں جن سے آپ ناخوش ہیں چنانچہ اسکے جواب میں یہ واضح طور پر سامنے آیا کہ موسمیاتی تبدیلی ان پانچ چیزوں میں سے ایک نہیں تھی لہٰذا یہ صاف ہے کہ جب آلودگی عوامی مسئلہ نہیں ہے تو یہ سیاسی مدعا کیسے بن سکتا ہے، لوگ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں جانتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ اتنی ہی تعداد میں اموات موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں
ڈاکٹر ناگپورے نے کہا کہ جس طرح سے آلودگی ہماری صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے، اس کے مطابق ہم لوگوں کو اس سے باخبر نہیں کرارہے ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے اور اگر ہم اس کے حل کی بات کریں تو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی سائنسدان فضائی آلودگی کا حل نہیں نکال سکتا ،یہ کسی ایک طبقے کا کام نہیں ہے، سائنسدان ہمیں فضائی آلودگی کی وجہ بتا سکتے ہیں اور کچھ حل بھی بتا سکتے ہیں، لیکن زمین پر عمل درآمدی ہم سب کا کام ہے ،سائنس دان یقیناً فضائی آلودگی کے سنگین نتائج سے باخبر ہیں، لیکن زمین پر رہنے والے لوگوں کا مسئلہ مختلف ہے۔ ہمیں ایک منظم انداز اپناکرعام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور آلودگی کے موجودہ اور مستقبل کے سنگین نتائج کے بارے میں انکو آگاہ کرنا ہوگا، جس دن آلودگی کا مسئلہ عوامی بحث اور عوامی تشویش کو اپنی جانب متوجہ کرلیگا اسی دن یہ ایک سیاسی مدعا بھی بن جائے گا اور سیاسی جماعتیں اسے اپنے منشور میں شامل کرنے پر مجبور ہوجائیں گی 
مرکزی حکومت کے نیشنل ائیر کلین پروگرام کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن اور آئی آئی ٹی کانپور میں پروفیسر ایس این ترپاٹھی نے کہا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کلین ائیر کا مسئلہ ہندوستان میں سات آٹھ سال کے بعد اٹھنا شروع ہوا ہے۔ ہمارے ملک کے نیشنل کلین ایئر پروگرام کو ابھی صرف ڈھائی سال ہوئے ہے ،اس سے پہلے یہ پروگرام چند شہروں تک محدود تھے، یہ اچھی بات ہے کہ اب لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے اور اب اس بات پر کافی بحث ہونے لگی ہے کہ ہمیں اپنی ترقی کو کس طرح زیادہ سے زیادہ پائیدار بنانا ہے اور ہم کاربن نیوٹرلٹی کا ہدف کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ 
انہوں نے کہا کہ یوپی میں ہم نے محسوس کیا ہے کہ اب ریاستی اور مقامی سطح پر یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ ہمیں اس معاملے پر کچھ کام کرنا ہے اور اب معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، حالیہ دنوں کانپور میں تقریباً 5 نئے فضائی معیار کی نگرانی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں اور پورے اتر پردیش میں ایسے 100 سے زیادہ  سطح کئے گئے ہیں، بحث کا موضوع یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی ہے یا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ عوام اب کافی حد تک باشعور ہو چکے ہیں 
پروفیسر ترپاٹھی نے کہا کہ کچھ دن پہلے انہیں کانپور کے ایم پی کے دفتر سے فون آیا تھا اس دوران انہیں بتایا گیا کہ رکن پارلیمنٹ آپ سے ملنا چاہتے ہیں چنانچہ وہ ملے اور انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک بات کی اور کہا کہ کانپور میں فضائی آلودگی کی صورتحال بہت خراب ہے اور اس سمت میں بہتری لانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے، سیاسی حلقے سے آلودگی کے مسئلے پر بات کرنا ایک خوشگوار تجربہ تھا،ایسا بھی نہیں ہے کہ مکمل تصویر بہت اچھی ہو گئی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ معاملہ کچھ تو آگے بڑھا ہے، سب کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ہر ایک کا اپنا فرض ہے جو اسے ادا کرنا ہے، 
ٹائمز آف انڈیا لکھنؤ کے مقامی ایڈیٹر پروین کمار نے موسمیاتی تبدیلی کے سیاسی مسئلہ نہ بننے کی وجوہات کے عملی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں انتخابات کے دوران ترقی کی بات ضرور کی جاتی ہے، لیکن کیا ووٹ ڈالتے وقت یہ واقعی ایک مسئلہ بن جاتا ہے؟اتر پردیش میں ذات برادری اور مذہب کے مسائل اکثر حاوی رہتے ہیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اتر پردیش کے تمام 15 کروڑ رائے دہندگان اس کے تعلق سے بیدار ہیں یا نہیں،
انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ موسمیاتی تبدیلی کو ایشو بناکر اسے اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں، ہمیں سب سے پہلے سیاسی جماعتوں پر اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں ،سیاسی جماعتیں صرف اس بات کی فکر کرتی ہیں کہ انہیں اس مدعے سے ووٹ ملے گا یا نہیں 
کمار نے یہ بھی کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور دیگر طریقوں کو اپنانے کی بات ضرور کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں کوئی بھی اس سمت میں پہل نہیں کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کبھی بھی انتخابی مدعا نہیں بنتی 
ویبینار کے شروع میں کلائمیٹ ٹرینڈز اور یو گو کی جانب سے مشترکہ طور پر کئے گئے سروے کی رپورٹ  پیش کی گئی، اتر پردیش میں کیے گئے اس سروے کے مطابق تقریباً 47 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے شہر میں ہوا کا معیار ٹھیک نہیں ہے،نیز 73 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اس کی بڑی وجہ ہے اس کے علاوہ 65 فیصد لوگوں نے کہا کہ تعمیراتی مقامات اور سڑکوں سے اٹھنے والی دھول اس کی بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ 61 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ شہروں میں موجود صنعتوں سے آلودگی پھیلنے کی وجہ سے فضاء گندی ہو رہی ہے، 38 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کوئلے سے چلنے والے پاور اسٹیشنوں کی وجہ سے ہو رہا ہے 
سروے کے مطابق 64 فیصد لوگوں نے کہا کہ حکومت کو فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئے، 60 فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ عوام کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، 58 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ تھرمل پاور پلانٹس پر انحصار کم کیا جائے، 
سروے کے مطابق 75 فیصد لوگ مانتے ہیں کہا کہ اتر پردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں فضائی آلودگی کو مدعا بنایا جانا چاہئے، 86 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر بحث کو ترجیح دی جانی چاہئے ، 47 فیصد لوگوں نے اسے نہایت سنگین مسئلہ قرار دیا جبکہ صرف 10 فیصد لوگوں کی نظر میں یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 57 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا ریاست کی معیشت پر اثر پڑتا ہے، 38 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کوئی رائے نہیں قائم کر سکتے ہیں
ماہر ماحولیات ڈاکٹر سیما جاوید نے کہا کہ جتنی زیادہ معلومات عوام تک پہنچتی ہیں لوگوں میں اتنی ہی زیادہ بیداری پھیلتی ہے اور وہ اس عوام اس چیز سے پرہیز کرنے لگتی ہے، تمباکو کے خلاف مہم میں لوگوں کو کافی حد تک یقین دلایا گیا کہ تمباکو کینسر کا باعث بنتا ہے ،اس کے نتیجے میں لوگ تمباکو کے استعمال سے احتراز کرنے لگے اور اسی عوامی بیداری کی وجہ سے قانونی پابندیاں عائد کی گئی کہ کوئی بھی شخص عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی نہیں کر سکتا، لہذا یہ حقیقت ہے جب کوئی مسئلہ عوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتا ہے تو سیاست دان اسے ترجیح دیتے ہیں 
انہوں نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کے لیے ووٹ بینک عام طور پر دیہی لوگ ہوتے ہیں، اس لئے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بیداری کو گاؤں کی سطح تک لے جانا ہو گا تاکہ یہ مسئلہ دیہی سطح پر مدعا بنے، تب ہی اس سمت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی اور یہ ایک سیاسی مدعا قرار پائے گا 
ڈاکٹر سیما نے کہا کہ موسمیاتی شدت نے فضائی آلودگی کو بھی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، اتراکھنڈ میں کئی آفات نے موسمیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا ہےنیز اس بار اتر پردیش میں موسم کا انداز بدل گیا،کہا جاتا تھا کہ مکر سنکرانتی کے بعد سردی کم ہونا شروع ہو جائے گی لیکن واقعہ اس کے بالکل برعکس ہے، موسم کی بدلتی ہوئی کروٹوں کا اثر فصلوں پر پڑتا ہے، اس لئے اس وقت کسانوں اور دیہی عوام کو آلودگی کے مسئلے پر بیدار کرنے کا ایک اچھا موقع ہے 
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں جائزہ افسر کروناندھین سریواستو نے کہا کہ جب تک ہم خود نہیں سمجھیں گے کہ ہمیں اپنے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنا ہے تب تک کچھ نہیں ہوگا،حکومتوں سے ہر چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے لہذا سب سے پہلے اپنے آپ میں تبدیلی لائی جائے اور ہر شہری کو بیدار ہونا چاہئے 
ہندوستان میں فضائی آلودگی کو عام لوگوں کی بحث کا موضوع بنانا فی الحال بہت مشکل ہے۔ ہمیں چیزوں کو پنچایتی راج اور بلاک سطح تک لے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان اور الیکشن لڑنے والے لوگ ہم ہی میں سے آتے ہیں۔ اگر عام شہری آلودگی سے باخبر نہیں ہیں تو پھر ہم اپنے درمیان سے آنے والے سیاستدانوں میں یہ فکر کیسے پیدا کر سکتے ہیں 
،کونسل برائے توانائی ماحولیات و آبی پروگرام کی سینئر رہنما شالو اگروال نے کہا کہ پاور سیکٹر کا بنیادی مقصد سب کو معیاری، سستی اور پائیدار بجلی فراہم کرنا ہے۔ اگر ہم صرف بجلی کے دائرے کو دیکھیں تو 2015 میں دیہی یوپی کے 57 فیصد لوگوں کے پاس بجلی کے کنکشن تھے۔ جب ہم نے 2020 میں دوبارہ سروے کیا تو یہ بڑھ کر 90 فیصد ہو گیا، اترپردیش کے دیہی علاقے میں جہاں 2016 میں اوسطاً 9 گھنٹے بجلی دستیاب تھی، وہاں اب یہ بڑھ کر 16 گھنٹے ہو گئی ہے، لیکن بجلی کمپنیوں کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔ انہیں ہر سال تقریباً 30 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ بہت بڑا مالی نقصان ہے، کہیں نہ کہیں اس کا اثر عوام پر ہی پڑے گا 
انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں سبسڈی کے حوالے سے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن آپ کو کسی بھی سبسڈی کے لئے فنڈ تو لانا ہی ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس کا بار عوام کے سر ہی ہوگا،  آلودگی کو انتخابی مدعا بنانے کے لیے میڈیا کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا
انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کے مالیاتی تجزیہ کار کشش شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے۔ 2030 تک 450 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کو ہر سال 40 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو انسٹال کرنا پڑے گا، لیکن اس وقت ہم صرف 15 سے 20 گیگا واٹ کی صلاحیت ہی نصب کر پا رہے ہیں 
ایک پریزنٹیشن دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی ریاست ہے جہاں ملک میں پیدا ہونے والی کل بجلی کا 10% استعمال ہوتا ہے۔ اس ریاست میں بجلی کی مانگ بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ نہ صرف سالانہ ڈیمانڈ بلکہ پیک کی ڈیمانڈ بھی 23.8 گیگاواٹ کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ لیکن اتر پردیش اپنے قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے اہداف کے لحاظ سے بجلی کی زیادہ مانگ کے ساتھ دوسری ریاستوں سے پیچھے ہے.. 

Post Top Ad

Your Ad Spot