Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, April 24, 2022

ہندی اذان کی تجویز کے پس منظر میں.


بات کا بتنگڑ.... *[ ہندی اذان کی تجویز کے پس منظر میں]

از /ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی/صدائے وقت

================================

گزشتہ روز ڈاکٹر محی الدین غازی مدیر ماہ نامہ زندگی نو و سکریٹری تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند کی ایک تحریر بہ عنوان ‘ہندی میں اذان سنانے کا آئیڈیا’ منظرِ عام پر آئی تھی _ مختصر عرصہ میں اس پر زبردست ردّ عمل سامنے آیا ہے اور اس کے رد میں بہت سی تحریریں ، آڈیوز اور ویڈیوز گردش میں ہیں _ انہیں پڑھنے اور سننے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر غازی کی مکمل تحریر پڑھے بغیر ہی تبصرے کیے جارہے ہیں اور تبصرے بھی ایسے جو سراسر جھوٹ اور بہتان کے دائرے میں آتے ہیں ، اس لیے کہ انھوں نے وہ بات کہی ہی نہیں ہے جو ان کی طرف منسوب کی جا رہی ہے _ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تنقیدوں کی تان جماعت اسلامی ہند پر توڑی جارہی ہے ، ڈاکٹر غازی جس کے مرکزی قائدین میں سے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جماعت اسلامی ہند نے ایک فتنہ کو جنم دیا ہے ، جس کی سرکوبی کرنا موجودہ وقت میں امّت کے سوچنے سمجھنے والے سربرآوردہ افراد کی ذمے داری ہے _

.                ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی 

میری ذاتی رائے ہے کہ تفرّد پر مبنی کسی رائے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کی جائے تو وہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے _ امّت کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بہت سے مسائل میں بعض علماء نے جمہور سے ہٹ کر رائے اختیار کی ، لیکن امت میں اسے قبولِ عام حاصل نہیں ہوسکا اور آج وہ محض کتابوں میں دفن ہیں ، کوئی انہیں جانتا بھی نہیں ہے _ لیکن اس مسئلے پر شور و غوغا اتنا بڑھا ہے ، جس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے ، کہ ملک و بیرونِ ملک کے بہت سے احباب تقاضا کررہے ہیں کہ اس مسئلے پر میں اپنی رائے دوں اور اس کی وضاحت کروں _

تنقید کرنے والوں نے ڈاکٹر محی الدین غازی کی رائے کو اس طرح پیش کیا ہے ، گویا وہ کہہ رہے ہیں کہ اذان عربی زبان میں بند کردی جائے اور اس کی جگہ ہندی زبان میں دی جائے _ حالاں کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی ہے _ انھوں نے صاف الفاظ میں لکھا ہے :

” میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ عربی اذان کی جگہ ہندی اذان دی جائے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عام طور سے اہلِ علم نےعربی میں اذان دینے کو ضروری قرار دیا ہے ۔ میری تجویز یہ ہے کہ عربی اذان دی جائے اور اس کے ساتھ ہندی اذان سنائی جائے ۔

آگے انھوں نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے :
” یہاں میں پھر واضح کردوں کہ میری تجویز صرف ہندی میں اذان دینے کی نہیں ہے (گو کہ فقہ حنفی میں اس کی گنجائش ہے) _ تجویز یہ ہے کہ اذان تو عربی میں ہی ہو ، لیکن اسے ہندی میں (بھی) سنایا جائے ۔ ”

ڈاکٹر غازی نے اپنی اس تجویز کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ “ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے ہندی میں اذان سنادی جائے ، بعد میں عربی میں اذان دے دی جائے ۔ پہلے ہندی میں اس لیے تاکہ سب لوگ متوجہ ہوکر سنیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عربی میں اذان بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دی جائے اور ہندی میں لاؤڈ اسپیکر سے دی جائے ۔” ان تجاویز میں جو سقم ہے وہ ظاہر ہے _ اذان پہلے ہندی میں ، بعد میں عربی میں دی جائے تو عربی اذان کی اہمیت کم ہوجائے گی _ ہندی اذان لاؤڈ اسپیکر سے اور عربی اذان بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دیے جانے کا مشورہ اور بھی نامعقول ہے کہ اس طرح لوگوں کے کان عربی اذان سے نا آشنا ہوتے جائیں گے _ لیکن بہر حال اس سے واضح ہے کہ ڈاکٹر غازی عربی میں اذان موقوف کردینے کا مشورہ نہیں دے رہے ہیں ، لیکن دھڑلّے سے یہ بات ان کی جانب منسوب کی جا رہی ہے _ بہتان تراشی ، وہ بھی رمضان المبارک کے ماہِ مقدّس میں _ کچھ تو خوفِ خدا ہونا چاہیے _

ڈاکٹر غازی نے اپنی تحریر کا خاتمہ اس جملے پر کیا ہے : ” واضح رہے کہ یہ میری ذاتی تجویز ہے _” اس صراحت کا تقاضا تھا کہ جو بات بھی کہی جائے انہی کی طرف منسوب کرکے کہی جائے ، لیکن تنقید کرنے والوں نے اسے جماعت اسلامی ہند کے سرکاری اسٹینڈ کی حیثیت دی اور اسے’فتنہ’ سے تعبیر کیا _ اسے شرانگیزی اور جماعت اسلامی کو بدنام کرنے کی مہم کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے؟! جماعت اسلامی ہند سے بدگمانی اور عداوت کا اظہار وہ لوگ کریں جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں تو ان کا یہ رویّہ غیر متوقّع نہیں ، لیکن مسلمان ہی حسنِ ظن اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے جماعت کی طرف اپنی توپوں کے دہانے کھول دیں تو تکلیف ہوتی ہے _

بعض احباب کا مطالبہ ہے کہ جماعت اسلامی ہند کے امیر اس مسئلے پر بیان دیں اور جماعت کا موقف واضح کریں _ میں اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا _ جماعت اس موضوع پر پوری امت کے ساتھ ہے کہ اذان حسبِ معمول عربی زبان ہی میں ہوتی رہنی چاہیے _ البتہ اذان کا مفہوم کیا ہے؟ اور اس میں کس طرح توحید اور رسالت کا پیغام سمودیا گیا ہے؟ اسے مختلف ذرائع سے برادرانِ وطن تک پہنچانے کی ضرورت ہے _ جماعت اسلامی اس کی کوشش کررہی ہے ، چنانچہ ہندی زبان میں مولانا نسیم احمد غازی نے ایک کتابچہ ‘اذان اور نماز کیا ہے؟’ کے عنوان سے لکھا ہے ، جسے بڑے پیمانے پر عام کیا جارہا ہے اور جماعت کے زیرِ اہتمام پورے ملک میں ‘مسجد پریچے’ کے عنوان سے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں آبادی کے غیر مسلموں کو مسجد میں مدعو کرکے اذان اور نماز کا مفہوم سمجھایا جا رہا ہے _ اس کے اچھے اثرات سامنے آرہے ہیں. 

Post Top Ad

Your Ad Spot