Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, May 1, 2022

*تکمیلِ رمضان اور صدقۃالفطر*



از *بقلم:پروفیسر ڈاکٹر عبدالحليم قاسمی*
              
                      صدائے وقت 
================================
رمضان المبارک کے روزے مکمل کرنے کے بعد روزے داروں کو جہاں ایک طرف شریعت محمدی کی بجا آوری پر روحانی سکون و اطمنان محسوس ہوتا ہے وہیں دوسری طرف جسمانی پھرتی، چستی، تیزی کے علاوہ کسلمندی فاسد مواد سے بدن کی صفائی و تنقیہ، نظام ہضم کی اصلاح، بھوک برداشت کرنے کی عادت، اشتہاء پر کنٹرول اور بھی بہت سی عارضی بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے،

 *روزوں کی تکمیل اور خالقِ کائنات کی نوازش*
جس طرح کسی طالب علم کو دوران تعلیم دشوار گزار مراحل کی صعوبتوں و دشواریوں اور امتحانات سے گزرنے کے بعد فیصلہ کن کامیابی و کامرانی اور کورس مکمل کرنے پر جلسہ تقسیم اسناد(convocation)کا انعقاد کر انعام و اکرام اور توصیفی اسناد سے نوازا جاتا ہے باالکل اسی طرح رب ذو الجلال بندوں کے ایک ماہ روزہ رکھنے و قیام لیل کے نصاب کی تکمیل و تعمیل پر لیلۃالجائزہ چاند رات سے موسوم انعام و اکرام اور بخشش والی رات کی تقریب کا اہتمام جس کے رضاکار فرشتے ہوا کرتے ہیں منعقد فرما کر روزے داروں کو اپنی رضا اور خوشنودی کی خوشخبری سناتے ہوئے جنت کا سرٹیفکیٹ عنایت فرما کر بخشش کا پروانہ سناتے ہیں،

 *عیدالفطر کی خوشیاں اور مساکین کی دلجوئی*
رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد عید الفطر ایک ایسا واحد تیوہار اور خوشی کا دن ہے جسکی نہ صرف توثیق و منظوری حدیث نبوی ﷺ(ان لکل قوم عیدا وھذا عیدنا) سے ہے بلکہ باقاعدہ طور پر جشن تقریب کے مکمل احکامات اور گائیڈ لائن احادیث نبوی ﷺ اور دور صحابہ سے ماخوذ و منسوب اور مستنبط ہیں،

 *مساکین کے ساتھ دلجوئی اور صدقۃالفطر*
شریعت محمدی کی تعلیمات کے مطابق عام مسلمانوں کو عید کی خوشیاں و تقریب مناتے وقت یہ ہدایات جاری گئیں کہ عید کی خوشی مناتے وقت امت محمدیہ کے غرباء و مساکین کو فراموش نہ کیا جائے بلکہ ان مساکین کے لیے رہتی دنیاں تک ایک مخصوص مالیاتی فنڈ صدقۃالفطر کے نام سے مختص کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا’’حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اﷲ عنہما روای ہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فطرانے کی زکوٰۃ فرض فرمائی ہے کہ ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جَو ہر غلام اور آزاد مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان کی طرف سے اور حکم فرمایا کہ اسے لوگوں کے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ادا کر دیا جائے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
 عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی وَالصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاةِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.
*صدقۃالفطر کی ادائیگی کب فرض ہوئی*
سن دو ھجری میں امت محمدیہ پر روزے فرض کئے گئے اسی سال صدقۃالفطر کی ادائیگی بھی فرض کی گئی،
صدقۃالفطر کی فرضیت قرآن وحدیث، اجماع صحابہ و اجماع امت سے ثابت ہے،

 *صدقۃالفطر کی ادائیگی کی حکمت*
( *1* ) روزوں کی حالت میں روزے داروں سے ہونے والی لغزشوں و کوتاہیوں سے روزہ دار کے پاک و صاف ہونے کے لئے فطرہ کی ادائیگی کرنا،
( *2* ) مساکین کی دلجوئی و معاونت، عید کے دن جہاں صاحب ثروت و حیثیت اپنی خوشیاں منائیں وہیں فطرانہ کی ادائیگی سے غرباء و مساکین کی شمولیت خوشیوں میں ممکن ہو سکے،
( *3* )مساکین کے ساتھ الفت و محبت کے اظہار کے سوا بدن انسانی کا صدقہ باری تعالیٰ کی حیات بخشی اور بے پایاں نعمتوں کی نوازش کی عطائی پر،

 *صدقۃالفطر کی ادائیگی کے شرائط*
( *1* ) مسلمان ہونا شرط ہے کافر پر ادائیگی نہیں،
( *2* ) صدقۃالفطر کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کے مانند مالک نصاب یعنی مال و دولت کی خاص مقدار ہونا یا پورے ایک سال کا گزرنا شرط نہیں بلکہ اپنے اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے سے زائد خوراک و مال و دولت کی موجودگی پر فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے،
( *3* )وقت واجب، عیدالفطر کا چاند نکلتے کے بعد نماز عید سے قبل فطرہ کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے،
( *4* ) وقت جواز، عید کا چاند نکلنے سے دو تین روز پہلے بھی ادائیگی جائز ہے تاکہ غرباء و مساکین کے لیے عید کی تیاری ممکن ہو سکے جو کہ اصل فطرۃ کا مقصد ہے،
فطرانہ کی ادائیگی کا اصل مقصد عیدالفطر کی خوشیوں میں غرباء و مساکین کا اشتراک ہے، لھذاٰ عید کی نماز سے قبل واجب اور اتنے دنوں پہلے کہ عید کی تیاری ممکن ہو سکے جائز ہے،
رمضان کے شروعاتی دور میں مقصد کے فوت ہونے کے امکانات اور دوسرے مصارف میں رقم کے خرچ ہوجانے کے اندیشہ کے پیش نظر پہت پہلے ادائیگی مناسب نہیں ہوا کرتی ہے، 

 *مصاريف فطرۃ* 
فقراء و مساکین حدیث نبویﷺ زکاۃ الفطر طھرۃ للصائم من اللغو والرفث وطعمۃ للمساکین،

 *فطرۃ کی ادائیگی کن کن کی طرف سے* 
آزاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹے بڑے ہر مسلمان پر ادائیگی واجب ہے، 
یتیم اگر صاحب حیثیت ہو، 
میت کی طرف سے اگر وقت وجوب یعنی عید کا چاند نکلنے سے عید کی نماز تک وقفہ میں وفات پائی ہو،
حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے فطرۃ کی ادائیگی واجب نہیں، 
مشاہرہ، اجرت ،تنخواہ پر مامور ملازمہ یا ملازم خدمتگار کے فطرانہ کی ادائیگی کی ذمہ داری خود انھیں ملازمین کے ذمہ ہوگی، البتہ اگر اس کا مالک ادا کردے تو ادائیگی درست مانی جائے گی، 

 *فطرۃ کی ادائیگی کے مقامات*
بہتر اور مستحب ہے کہ فطرۃ کی ادائیگی اسی جگہ کی جائے جہاں رہتے ہوں، اگر اس جگہ کوئی مستحق نہ ہو یا دوسرے مقامات پر زیادہ ضرورت ہو تو ایسی صورتوں میں منتقلی درست ہے،
*فطرۃ کے پیرامیٹرز و مقدار*
صدقۃالفطر کی ادائیگی کے مدنظر چار جنسوں میں سے کسی ایک کی بنیاد پر فطرۃ کی مقدار کا تعین کر اصل شئ یا اس کی مالیت کی ادائیگی ضروری ہوا کرتی ہے،
مقدار کے تعین کے بعد قیمت کی ادائیگی کی صورت میں علاقائی قیمتوں میں فرق کی وجہ سے رقم کا گھٹنا بڑھنا ممکن ہے،
( *1* ) کھجور وزن 3.266 کلو گرام اصل چیز یا اس کی قیمت مبلغ 1050 روپے ایک شخص کی طرف سے،
( *2* ) کشمش وزن 3.266 کلو گرام اصل کشمش یا اسکی قیمت مبلغ 950 روپے ایک شخص کی طرف سے،
( *3* )گندم/گیہوں 1.633 کلو گرام یا اسکی قیمت 50 روپے
( *4* ) جو 3.266 کلو گرام یا علاقائی قیمت مبلغ 90 روپے کی ادائیگی،

 *زکوٰۃ اور صدقۃالفطر میں فرق*
عوامی طور پر غیر تعلیم یافتہ اور عام لوگوں میں زکوۃ اور فطرۃ میں کافی کنفیوژن اور سمجھنے میں دشواری ہوا کرتی ہے،
ایک عوامی غلط فہمی ہے کہ بہت سارے لوگ دونوں کو ایک ہی سمجھ کر اپنے اوپر زکوٰۃ واجب نہ ہونے کی صورت میں اپنے کو صدقۃالفطر سے بھی ناسمجھی کی بنیاد پر مستثنیٰ کر لیتے ہیں،
 *غلط فہمی کی وجوہات*
غلط فہمی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دور حاضر میں زکوٰۃ کے لین دین کو ماہ رمضان کے ساتھ ایسا مختص کردیا گیا کہ عام طور پر غیر رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی، فقراء کی موجودگی، عاملین زکوٰۃ کی وصولی کا تصور ختم ہوتا چلا گیا،
جبکہ زکوٰۃ کا لین دین پورے سال میں جب بھی خاص مقدار پر ایک سال مکمل ہوجائے ادائیگی لازم ہوا کرتی ہے،
صدقۃالفطر کی ادائیگی کے لئے رمضان المبارک کا ہونا شرط ہے چونکہ فطرۃ دراصل روزوں میں وقوع پذیر لغزشوں کی تلافی ہے،
زکوٰۃ کا محور و مقصد اور مدنظر پورے سال کے فقراء و مساکین ہوا کرتے ہیں،
جبکہ صدقۃالفطر کا بنیادی مقصد عید کی خوشیوں میں فقراء و مساکین کا اشتراک مدد و نصرت ہوا کرتی ہے،
بالفاظ دیگر گویا ہر شخص جس کے پاس بھی رمضان کے آخری ایام میں اپنے اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے سے زائد حیثیت کا مالک ہے تو ایسی صورتحال میں اس پر اپنے اور اپنے ماتحتین کی طرف سے فطرۃ نکالنا فرض اور واجب ہے،

 *حقوق العباد کی پامالی کی سزائیں*
زکوٰۃ و فطرۃ کی عدم ادائیگی اور فقراء و مساکین کی بے خیالی اور نظر انداز کرتے کے نتیجے میں بندوں کے حقوق کی پامالی کے علاوہ اسلامی تعلیمات کی عین خلاف ورزی اور سماج میں ظاہر ہونے والے خلفشار، حادثات اور برے نتائج کا باعث بھی ہیں،
انفرادی لغزشیں، تساہلی، کوتاہیوں کے برے نتائج فرد واحد تک محدود ہوا کرتے ہیں جبکہ بندوں کے معاملات میں خصوصاً فقراء و مساکین کے حقوق کی پامالی کے برے نتائج معاشرے و سماج پر بری طرح اثر انداز ہوا کرتے ہیں،
شکریہ
 *مورخہ 30 اپریل بروز سنیچر 2022*
 *abdulhaleemeumc@gmail.com*
 *WhatsApp 9307219807*

Post Top Ad

Your Ad Spot