Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, May 2, 2022

*رمضان المبارک و عیدالفطر کی تیاریاں اور خواتین*



 *بقلم: پروفیسر ڈاکٹر عبدالحليم قاسمی*
                        صدائے وقت 
=================================
حسبِ حیثیت و گنجائش اپنے لئے اور اپنے ماتحتین کے لیے کھانے پینے کا حلال نظم و نسق اور انتظام کرنا نہ صرف عبادت بلکہ صدقہ مقبول و مبرور کا مرتبہ و مقام رکھتا ہے، 
 *المسلم إذا أنفق نفقة على أهله وهو يحتسبها كتبت له صدقة " رواه البخاري في الصحيح،* 
حدود شرع میں رہکر سنت رسولﷺ کی پاسداری کرتے ہوئے اسباب و ذرائع تک رسائی اور کوشش کرنا، وسائل کی حصولیابی کی جدوجہد کرنا، عطاء کردہ نعمتوں پر شکر کی ادائیگی بجا لانا نہ صرف باعثِ ثواب بلکہ اضافہ نعمت کا ذریعہ بھی ہے، 
 *لَئن شکرتم لازیدنکم القرآن* ، 
جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنا کھانا پینا دوسروں کو کھلانا، میزبانی کرنا اہم ترین عبادات میں شامل ہے،
یہی وجہ ہے کہ بھونک اور نماز  یا نماز با جماعت کا وقت اگر ایک ساتھ ٹکرا جائیں تو مسئلہ یہ ہے کہ پہلے کھانا تناول فرمایا جائے پھر نماز ادا کی جائے،
مکن ہے کہ اشتہاء غالب انہماکِ عبادت میں خلل انداز ہو اس لیے پہلے انسانی ضرورت کی تکمیل اس کے بعد اطمنان سے عبادت،
شریعت محمدی ﷺ نے حضرت انسان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ہر مواقع پر شرعی گائیڈ لائن جاری کیں تاکہ زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی مل سکے، 
دوسرا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نفل روزہ جیسی اہم عبادت کو مہمان نوازی کے ارادہ سے مہمان کے اعزاز میں حالات کے پیش نظر روزہ توڑ مہمان کے ساتھ شریک طعام ہوا جا سکتا ہے، اس سے پتہ چلا کہ جائز اور فطری تقاضوں کو شریعت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، 

 *رمضان اور افطاری کی تیاریاں* 
خواتین کا گھروں میں موجود بچوں، شوہروں ، پڑوسیوں،قرب و جوار اعزاء و اقارب، محلہ کی مسجدوں میں بھیجنے کے لیے قسم وانواع کی افطاری کے لیے پہلے خام رسد و راشن  کا انتظام کرنا پھر تیار کرنا اس کے بعد کھانا بنانا وغیرہ سبھی کچھ انسانی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے بالواسطہ عبادت کے زمرے میں داخل ہے،
نو عمر بچے بچیاں جو حال فی الحال روزے داروں کی فہرست میں عنقریب داخل ہوئے ہیں انکے یہاں مختلف اقسام کی افطاری اور تیاریاں و لوازمات نہ صرف اہمیت کی حامل بلکہ بعض اوقات روزہ رکھنے میں شوق و ہمت دلانے میں معاون ہوا کرتی ہیں، 
عبادت محض خالص ذکر و اذکار کا نام نہیں ہے، 
بلکہ بعض اوقات حالات کے تفاوت سے انسانی خدمات کو نفلی عبادات پر سبقت حاصل ہوا کرتی ہے، 

 *خواتین اور عیدالفطر کی تیاریاں،*
رمضان المبارک میں خواتین کے افطاریوں کی تیاری میں مصروف اور آخری ایام میں عیدالفطر کی خوشیوں کے چشن منانے اور شرعی تعلیمات کے پیش نظر بچوں کے لیے، شوہروں کے لیے، غریبوں میں تقسیم کرنے لئے ، اعزاء و اقارب میں ہدیہ دینے، عیدی بھیجنے کے لئے روزہ رکھکر بازاروں کا رخ کرنا، اچھے عمدہ کپڑوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی پسند اور اپنے شوہروں کی کمائی اور جیب کا خیال رکھتے ہوئے کفائتی خریداری کرنا، پسند نہ آنے پر پھر دوبارہ روزہ کی حالت میں بازار کا رخ کر واپس کرنے کے لیے مارکیٹ کے چکر لگانا کوئی آسان کام نہیں، کبھی وقت پر مطلوبہ چیز ملنا اور کبھی نہ ملنا، پھر کپڑوں کے سلوانے کے لیے بازاروں کے چکر لگانا وغیرہ، 

 *عیدالفطر اور شرعی احکامات*
عیدالفطر کی اصل خوشی بچوں کی ہوا کرتی ہے، شرعی احکامات کے مطابق حسبِ گنجائش نئے اور اچھے کپڑوں کا انتخاب، گھروں میں مہمانوں کی آمد کے پیش نظر گھروں کی تزئین کاری، صفائی ستھرائی، زیبائش و ڈکوریشن کے سامانوں کی خریداری، شادی شدہ بچیوں، بہوؤں، دامادوں کے نخروں کی تلافی انھیں خواتین کی بس اور ہمت کی بات ہوا کرتی ہے ،
عیدالفطر کے دن قوامی و غیرقوامی سویاں، نمکین ڈشیں، اور شام کو رشتہ داروں کی دعوت اور خاندان پرستی پر مشتمل طویل و عریض دسترخوان انھیں خواتین کی کوششوں کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں جنکی وجہ سے نہ صرف حقوق العباد اور صلہ رحمی پروان چھڑا کرتی ہے بلکہ مردوں کے سر فخر سے بلند سے بلند تر نظر آتے ہیں،

 *خواتین کی حوصلہ افزائی*
پورے رمضان ڈبل شفٹ ڈیوٹی کے علاوہ بچوں کو تیار کر اسکول بھیجنے کی ڈیوٹی، رزوہ، نماز، صدقات، تلاوتِ میں بھی مردوں پر سبقت تمام تر قربانیاں دینے کے باوجود سوشل میڈیا، واٹسپ گروپ، اہل علم کی تقریروں میں کہیں نہ کہیں بازاروں میں گھومنے،بازاروں کی زینتِ بننے، اپنا قیمتی وقت افطاری کے تیاری میں برباد کرنے، غرضیکہ ہر قسم کے ادبی و غیر ادبی الفاظوں سے نوازنے کے علاوہ الزام لگتے رہے ہیں،
ظاہر ہے کہ ہر مسلم گھرانے میں ملازمین اور نوکروں کے انتظامات نہیں ہیں کہ جہاں ملازمین سے گھروں میں سامان منگوا کر خریدا جائے،
نہ ہی ہر مسلم گھرانے اتنے مالدار ہیں کہ خواتین ایسے شو روم یا شاپنگ مال کا رخ کریں جہاں ہفتہ واری منگل، بدھ اور اتوار والی سستی بازار جیسی بھیڑ سے بچ سکیں،
 *مرد حضرات اور انداز شکر*
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ خواتین افطاری کی تیاریوں میں مصروف نہ ہوں ان کے لیے صرف درج ذیل صورتیں ممکن ہیں،
صرف کھانے پر قناعت کریں افطار سے احتراز کریں،
افطاری کا انتظام بازار سے کریں جو آپ کی صحت اور روزہ دونوں کو متاثر کر سکتا ہے، 
افطاری کے انتظام کے لیے غیر روزہ دار گھریلو ملازمہ کا انتخاب کریں،
عیدالفطر کی ساری خریداری کے انتظام کا سارا ذمہ خود اپنے سر لیں، 
یا کسی خوش مزاج ملازمہ کی تعیناتی کریں جو صبر و تحمل پر قائم رہتے ہوئے گھروں کے چکر لگا کر خواتین کو سامان پسند کرا سکے،
یا سب لوگ مل کر کوئی ایسی مارکیٹ بنائیں جہاں صرف خواتین کا داخلہ ممکن ہو،
ان تمام ممکنات کے بعد ساری خواتین کے بازاروں میں داخلہ پر مکمّل پابندی عائد کی جا سکتی ہے، 
بصورت دیگر آپ کے بچے، خود آپ کی، آپ کے پورے خانوادے کی خیال رکھنے والی خواتین کا شکریہ ادا کرنا نہ سہی البتہ تنقید کرنا کسی بھی طرح درست نہیں، 
شکریہ 
 *مورخہ 2 مئی بروز پیر 2022*

Post Top Ad

Your Ad Spot