Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, August 11, 2018

آعظم گڑھ کی متفرق خبریں۔

: محمد عامر اصلاحی .
. . . . . . . . . . . . . . . . .
سرائےمیر آعظمگڑھ ۔ضلع کے بردہ بازار سے متصل پرائمری اسکول کے پاس آعظمگڑھ جونپور ہائوے پر اہل ۔پی ۔ جی سلنڈروں سے بھرے ٹرک کی سامنے سے آرہے ڈی ۔ سی ۔ ایم ٹرک سے زور دار ٹکر ہوگئی حادثہ کے بعد ٹرک کے انجن میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کی چنگاری سیلینڈروں تک پہنچ گئی ۔اور زور دار دھماکوں کے ساتھ سیلینڈر پاس کے مکانات میں جا کر گرنے لگے ۔دھماکوں کی آواز اور آگ کے شعلوں سے پورے حلقہ میں افرا تفری مچ گئی ۔اطلاع پاکر ڈائل 100 نمبر موقع پر پہنچ کر مکانات سبھی لوگوں کو باہر نکال لیا اور کچھ دیر کے لئے آمد و رفت روک دیگئی ۔سرکل افسر لالگنج سجیدانند ۔بردہ تھانہ انچارج سنجے کمار سنگھ اور فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا کافی مشقت کے بعد فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا ۔حادثہ قصبہ کے باہر ہوا جہاں مکانات دور دور تھے اس لئے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا پولیس ذرائع کے مطابق حادثہ کے وقت ٹرک پر چار سو اہل ۔پی ۔ جی سیلینڈر لدے ہوئے تھے اور ٹرک جونپور سے آعظمگڑھ اور ڈی سی ۔ایم آعظمگڑھ سے جونپور جارہے تھے حادثہ میں دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور اور خلاصی بری طرح جھلس گئے ہیں ۔
۔....................................محمد عامر اصلاحی .
۔....................................
سرائےمیر آعظمگڑھ ۔۔قصبہ اہرولا میں تھانہ سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر بے خوف بدمعاشوں نے مٹھائی فروش کو گولیوں سے بھون کر فرار ۔واردات سے مشتعل مقامی تاجروں نے پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کرتے ہوئے نہر بائی پاس چوراہے پر سڑک پر لاش رکھ کر جام لگا دئے کافی مشقتوں کے بعد پولیس کپتان کی یقین دہانی پر جام ختم ہوا ۔
اطلاعات کے مطابق جتندر عرف ناٹے 35 ولد موہن رہائشی مطلوب پور کی قصبہ اہرولا میں تھانہ سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر مٹھائی و چائے کی دوکان ہے ۔ہفتہ کی صبح 30 ۔ 8 پر اپنی دوکان پر بیٹھے تھے اسی اثنا ایک بائک پر تین مسلح بدمعاش آدھمکے اور چائے پیئے جتندر انہیں گراہک سمجھ کر چائے دئے ۔چائے پینے کے بعد بدمعاشوں نے جتندر پر گولیاں برسا کر فرار ہونے لگے گولیوں کی آواز سن کر مقامی افراد بدمعاشوں کا پیچھا کرنا چاہے تو بدمعاشوں نے گھوم کر پھر ایک فائر پھر کیا اور اسانی کے ساتھ بدمعاش فرار ہوگئے ۔مقامی افراد کا الزام ہے کہ پولیس کے سر پر اتنی بڑی واردات ہوگئی اور پولیس سوتی رہگئی ۔شدید زخمی حالت میں جتندر کو مقامی افراد پرائمری ہیلتھ سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا جس سے مشتعل عوام نے نہر بائی پاس چوراہے پر لاش کو رکھ جام لگا کر پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کئے ۔مقامی پولیس نے واردات کی اطلاع اعلی حکام کو دیے اطلاع پاتے ہی پولیس کپتان رویشنکر چھوی اور کئی تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جام ختم کرانے کیلئے کافی مشقت کئے پولیس کپتان رویشنکر چھوی کی قاتلوں کی گرفتاری اور متاثرہ کنبہ کی مالی امداد کی یقین دہانی پر جام ختم ہوا.
۔.....................................: محمد عامر اصلاحی .
۔...................................
سرائےمیر آعظمگڑھ ۔۔قصبہ اہرولا میں تھانہ سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر بے خوف بدمعاشوں نے مٹھائی فروش کو گولیوں سے بھون کر فرار ۔واردات سے مشتعل مقامی تاجروں نے پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کرتے ہوئے نہر بائی پاس چوراہے پر سڑک پر لاش رکھ کر جام لگا دئے کافی مشقتوں کے بعد پولیس کپتان کی یقین دہانی پر جام ختم ہوا ۔
اطلاعات کے مطابق جتندر عرف ناٹے 35 ولد موہن رہائشی مطلوب پور کی قصبہ اہرولا میں تھانہ سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر مٹھائی و چائے کی دوکان ہے ۔ہفتہ کی صبح 30 ۔ 8 پر اپنی دوکان پر بیٹھے تھے اسی اثنا ایک بائک پر تین مسلح بدمعاش آدھمکے اور چائے پیئے جتندر انہیں گراہک سمجھ کر چائے دئے ۔چائے پینے کے بعد بدمعاشوں نے جتندر پر گولیاں برسا کر فرار ہونے لگے گولیوں کی آواز سن کر مقامی افراد بدمعاشوں کا پیچھا کرنا چاہے تو بدمعاشوں نے گھوم کر پھر ایک فائر پھر کیا اور اسانی کے ساتھ بدمعاش فرار ہوگئے ۔مقامی افراد کا الزام ہے کہ پولیس کے سر پر اتنی بڑی واردات ہوگئی اور پولیس سوتی رہگئی ۔شدید زخمی حالت میں جتندر کو مقامی افراد پرائمری ہیلتھ سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا جس سے مشتعل عوام نے نہر بائی پاس چوراہے پر لاش کو رکھ جام لگا کر پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کئے ۔مقامی پولیس نے واردات کی اطلاع اعلی حکام کو دیے اطلاع پاتے ہی پولیس کپتان رویشنکر چھوی اور کئی تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جام ختم کرانے کیلئے کافی مشقت کئے پولیس کپتان رویشنکر چھوی کی قاتلوں کی گرفتاری اور متاثرہ کنبہ کی مالی امداد کی یقین دہانی پر جام ختم ہوا۔۔۔تاہم حالات کافی کشیدہ ہیں کسی نا خوشگوار واقعے نمٹنے کے لئے قصبہ میں کثیر تعداد میں پولیس فورس مستعد ہے
فوٹو ۔۔لاش روڈ پر رکھ کر جام لگائے .موقع پر ایس پی اعظم گڑھ پہنچ کر جام ہٹوانے کی کوشش میں لگے ہیں۔۔تا دم تحریر عوام سڑکوں پر ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot