Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, August 11, 2018

صحبت کے اثرات پر ایک سبق آموز تحریر

ایک لڑکی کی شادی چمڑا رنگنے والے (جانوروں کی کهال کی صفائی کرنے والے)کے لڑکے کے ساتھ ہوگی-چونکہ چمڑا رنگنے کے کام میں چمڑے کی بدبو آتی ہے تو جب وہ لڑکی اپنے سسرال پہنچی تو اسے گهر میں چمڑا رنگائی کی وجہ سے بہت بدبو آئی-مجبوری تهی، کیا کرتی--خیر اس نے ہر وقت گهر کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے خوب صفائی وغیرہ کرنے کی عادت ڈال لی-کچھ عرصے کہ بعد اسے گهر میں سے چمڑے کی بدبو آنی بند ہوگی-لڑکی بہت فخر سے سب کو بتاتی کہ دیکھو میری صفائی کی وجہ سے چمڑے کی بدبو آنا بند ہو گی ہے
لیکن حقیقت میں یوں ہوا تها کہ مسلسل اٌس بدبو دار ماحول میں رہ رہ کر اٌس لڑکی کی بدبو کو محسوس کرنے والی حٍس ہی ختم ہو گی تهی اور وہ یہ سمجھتی رہی کہ اٌس کی صفائی کی وجہ سے بدبو ختم ہوگی ہے-یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بدبو والے ماحول میں مسلسل رہے تو اٌس کی ناک بدبو کو محسوس کرنا ہی چھوڑ دیتی ہے یا کسی خاص ماحول میں مسلسل رہنا شروع کر دے تو پهر اٌس ماحول کی خرابی اٌسے خرابی محسوس ہی نہیں ہوتی اور وہ اٌس خرابی کو خرابی سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے-اسی طرح جب انسان مسلسل گناہ کے ماحول میں رہنا شروع کر دے تو پهر اٌسے گناہ، گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا-اور دوسرے لوگوں کے سامنے بھی اپنے گناہ کا ذکر فخر کے ساتھ یا ایک مذاق کے طور پر کرنا شروع کر دیتا ہے-گناہ پہ شرمندہ ہونے والی حٍس ختم ہو جاتی ہے ضمیر مردہ ہو جاتا ہے-اصل تقٰوی یہی ہےکہ انسان اٌس دینا کے ماحول میں ، جہاں گناہ کے مواقع کثرت سے ملتے ہیں-اپنے آپ کو گناہ کی آلودگی سے بچا کر رکھے-کسی بزرگ سے تقٰوی کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:تقٰوی اپنے آپ کو گناہوں سے بچانے کا نام ہے کے جیسے تم اپنے کپڑے کانٹے والی جھاڑیوں میں الجھنے سے بچاتے ہو..!!
منقول۔۔۔بشکریہ ویب سائٹ شعور۔

Post Top Ad

Your Ad Spot