Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, February 16, 2019

" گفتگو" یعنی شخصیت کا آیئنہ۔!


کامران غنی صباؔ/ صدائے وقت۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
گفتگو سے انسان کی شخصیت، اس کے خاندان اور تعلیمی استعداد کا پتہ چلتا ہے۔ بہت زیادہ بولنا کمال نہیں ہے بلکہ کمال یہ ہے کہ زمانہ ہماری گفتگو کا پیاسا ہو۔ ضرورت سے زیادہ بولنا انسان کی شخصیت کو ناپسندیدہ بنا دیتا ہے۔ اسلام نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں ہماری رہنمائی کی ہے وہیں بات چیت کے تعلق سے بھی ہمیں رہنما اصول عطا کیے ہیں۔ قرآن میں کئی جگہ بہت واضح طور پربات چیت کرنے کا طریقہ و سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ مثلاً بہت واضح طور پر کہا گیا کہ ’’ ائے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔‘‘یا ’’ائے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی(سچی) باتیں کیا کرو۔‘‘ وہیں کئی مقامات پر اشارتاً بھی آدابِ گفتگو سکھائے گئے ہیں۔ مثلاً جب حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسمٰعیلؑ کو اپنا خواب بیان کرتے ہیں تو حضرت اسمٰعیل ؑ کے جواب میں ’آدابِ گفتگو‘ کا ایک بہت ہی لطیف نکتہ چھپا ملتا ہے۔ حضرت اسمٰعیل ؑ اپنے والدگرامی کا خواب سننے کے بعد سر اطاعت خم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ ذرا اس جملے پر غور کیجیے۔ عاجزی و انکساری کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوگی۔ اسمٰعیل ؑ یہ نہیں کہتے کہ ابا حضور میں صبر کروں گا، یا آپ مجھے صابر پائیں گے۔ وہ اپنی شخصیت کو ’صابرین‘ کی جماعت سے وابستہ کر کے پیش کرتے ہیں۔ یعنی وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس روئے زمین پر میں کوئی اکیلا صبر کرنے والا نہیں ہوں بلکہ اللہ کے رجسٹرمیں بہت سارے صابرین کے ساتھ میں بھی وابستہ ہونے والا ہوں۔حضرت اسمٰعیل ؑ کے اس چھوٹے سے جملے میں ’’میں‘‘ کی نفی کرنے کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر دوسرا شخص ’’میں‘‘ کے حصار میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ اسے اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ یہیں سے تکبر، خود نمائی اور ریاکاری کے دروازے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے :
’’انسانی گفتگو میں سب سے زیادہ خود غرض لفظ ’میں‘ ہے۔ اس لفظ کا زیادہ استعمال کسی شخص کی نرگسیت اور خود غرضی کو ظاہر کرتا ہے۔جب گفتگو میں ’میں‘ کا استعمال بڑھ جائے اور گفتگو ’میں‘ کے گرد گھومنے لگے تو جان جائیں کہ آپ اپنی خود غرضی سے خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘‘
ہمارے پاس بزرگانِ دین، صحابہ کرام اور سب سے بڑھ کر نبی کریمﷺ کی زندگی کا نمونہ موجودہے۔ شہنشاہِ کونین ﷺ کی عاجزی و انکساری کا تو یہ عالم تھا کہ مستدرک حاکم کی ایک روایت کے مطابق ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ کھڑے ہوئے تو آپ کی شخصیت کے رعب سے وہ کانپنے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پرسکون رہو میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ ایسی قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک روٹی کے ٹکڑے کھایا کرتی تھی۔
خود نمائی اور تکبر ایسے امراض ہیں جو انسان کے اعمالِ صالحہ کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں۔ وہ ہر وقت اپنی انا کی شراب میں مست رہنا چاہتا ہے۔ خلقِ خدا کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، دوسروں پر بے وجہ تنقید کرنا، خود کو علامہ وقت سمجھنا، اپنے تحریری و تقریری ، دینی و ملی، سیاسی و سماجی کارناموں کا خود سے ڈھنڈورا پیٹنا،سامنے میں ’’آپ‘‘ اور غائبانے میں’’تم‘‘کہنا ،ان امراض کی واضح نشانیاں ہیں۔ اگر ہم سورہ لقمان کی صرف اِس آیت کو ملحوظ نظر رکھیں تو خود نمائی اور تکبر جیسے مہلک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں:
’’لوگوں سے بے رخی اختیار نہ کرو اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ ہر متکبر، مغرور انسان کو پسند نہیں کرتا، اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو، اپنی آواز پست کرو، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔‘‘

Post Top Ad

Your Ad Spot