Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, May 22, 2019

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔


✍:-شمس تبریز قاسمی/صداۓوقت
مصر دنیا کے قدیم ترین ملکوں میں سے ایک ہے ۔ اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ مختلف قوموں کے عروج وزوال کی ہزاروں داستانیں اس کے سینے میں دفن ہے ۔انبیاء کرام کا مسکن رہنے کا اسے شرف حاصل ہے ۔ من وسلوی کا نزول ہوتے ہوئے بھی اس سرزمین نے دیکھا ہے ۔خودساختہ ،خداؤں ، جادوگروں ،ظلم وستم ، مذہب کی بالادستی کبھی شرک وبدعت کا غلبہ ، اسلامی سیاست کا مرکز ، علم و ادب کی آماجگاہ ، دریائے نیل ، حضرت موسی اور فرعون کے درمیان حق وباطل کی لڑی گئی جنگ ، زلیخا کا حسن ۔حضرت یوسف علیہ السلام علیہ السلام کی قید ، ان کی حکمرانی،حضرت عمر بن العاص کی فوج کشی اور صلاح الدین ایوبی کی تاریخ ساز حکومت ، فاطمی دور اقتدار کا زول ،تاناشاہی کا خاتمہ جمہوریت کا آغاز اخوان المسملمن کی جدو جہد اور پھر حسنی مبارک اور السیسی کی فرعونیت جیسی بے شمار تاریخین اس ملک سے وابستہ ہیں ۔ہر ایک تفصیل طلب اور دل چسپ ہے ۔
عرب جمہوریہ مصر یا مصر، جمہوریۃ مصر العربیۃ، بر اعظم افریقہ کے شمال مغرب اور بر اعظم ایشیا کے سنائی جزیرہ نما میں واقع ہے ۔ مصر کا رقبہ 1001450 مربع کلو میٹر ہے۔ مصر کی سرحدوں کو دیکھا جائے تو مغرب میں لیبیا، جنوب میں سوڈان، مشرق میں بحیرہ احمر، شمال مشرق میں فلسطین شمال میں بحیرہ روم ہیں۔آبادی کے حساب سے مصر دنیا کا پندرہواں اور افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ مصر کے 7کروڑ 88 لاکھ لوگوں کی اکثریت دریائے نیل کے قریب رہتی ہے۔ اسی علاقے میں مصر کی قابل کاشت زمین بھی پائی جاتی ہے۔ مصر میں 90 فی صدمسلمان ہیں ۔ 9 فی صدقبطی عیسائی ہیں ۔ جبکہ ایک فی صددیگر قومیں ہیں۔
مصر کی تاریخ تقریبا 6 ہزار قبل مسیح شروع ہوجاتی ہے ۔ تاہم اس کی شناخت 1350 قبل مسیح ہوئی تھی ۔ یہ دریافت مینا س نامی شاہی گھرانے نے کی تھی جس کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ تقریبا تین صدی تک مصری میں اس خاندان کی حکومت برقرار رہی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ بھی اسی مصر سے وابستہ ہے جہاں کے بازار میں انہیں فروخت کیا گیا ۔وہاں کی جیلوں میں انہیں قید میں رکھا گیا ۔ پھر وہ وقت بھی آیاجب مصر کے فرماں رواں نے اپنی سلطنت حضرت یوسف علیہ السلام کے قدموں میں میں ڈال دی اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی خداد حکمت عملی کا بھرپور مظاہر ہ کرتے ہوئے روئے زمین پر مصر میں ایک خدائی سلطنت کی بنیاد ڈال دی ۔
مصر کی تاریخ کا سب سے مشہور باب خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون اور اس کی خدائی کو خاک میں ملانے والے حضرت موسی علیہ السلام پر مشتمل ہے ۔ فرعون کو اپنی طاقت و سلطنت کا غرور تھا تو حضرت موسی کلیم اللہ کو پرودگار عالم کی ذات پر مکمل یقین تھا ۔ با لآخر خالق کائنات نے فرعون کی فرعونیت کے خاتمہ کا کچھ ایسا انتظام کیا کہ فرعون اور اس کی سلطنت پوری دنیا کے لئے جائے عبرت بن گئی۔ فرعون کی خدائی کو خاک آلودکرنے والے شخص کی پروش اسی فرعون کے گھر میں ہوئی ۔ اسی کے اہل خانہ نے حضرت موسی علیہ السلام کے پیغام پر لبیک کہا۔ ہرطرح کا تعاون اسی فرعون کے گھر سے ہوا۔ اسی کی سلطنت میں موسی علیہ السلام نے ایمان کی تبلیغ شروع کی ۔ عوام کو فرعون کی خدائیت سے توبہ کرکے رب العالمین کی بارگاہ میں سرجھکانے کا پیغام دیا ۔ جب فرعون کو اچھی طرح یہ یقین ہوگیا کہ ہماری تمام تدبیریں کی ناکامی کی شکار ہورہیں ۔ ہماری خدائی بے بس ہو تی جارہی ہے ۔موسی کے خدا کے سامنے ہماری ایک نہیں چل رہی ہے تو اس نے اپنے تیر کا آخری ترکش آزمانے کا منصوبہ بنایا ۔سلطنت کی پوری فوج کے ساتھ حضرت موسی علیہ السلام پر چڑھائی کردی۔ اس یقن کے ساتھ کہ آج موسی او ر اس کے ماننے والوں کا خاتمہ ہوجائے گا کیوں کہ آگے سمندر ہے ا ور پیچھے ہماری فوج ۔ بچ نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے ۔لیکن یہ آخری کوشش فرعون ہی کے خاتمہ کا سبب بن گئی ۔ دریائے نیل میں حکم خداوندی سے بارہ راستے بن گئے ۔ حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے تما اصحاب مامون طریقے سے دریا پارکرکے مصر سے نکل گئے لیکن جب اسی پل پر فرعون اور اس کی فوج کے قدم پڑے تو پانی کی سرکش موجوں نے فرعون اور اس کی پوری فوج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ تب فرعون کو یہ احساس ہواکہ رب میں نہیں ہوں بلکہ وہ ہے جس کی طرف موسی علیہ السلام بلاتے ہیں لیکن فرعون کا یہ پچھتاوا بے سود رہا ۔ جس دریا سے کبھی ایک بچے کو اٹھاکر اس کی پروش و پرداخت کی تھی اس دریا نے اسے قبول کرنے سے بھی انکار کردیا ۔فرعون کا یہ عبرت ناک انجام پوری دنیا کے یہ پیغام بن گیا کہ ظلم وستم کو روارکھنے اور حق کے سامنے باطل کو بڑھاوادینے کا انجام یہ ہے کہ ایسے مجرم کی سلطنت بھی ختم ہوگی ۔ اس کا غرور بھی خاک میں ملے گا۔ اسے کوئی شی قبول نہیں کرے گی ۔ جیت ہمیشہ حق ہوگی باطل ہمیشہ پسپا ہوگا۔
مصر میں ان دنوں پھر ایک ایسے ہی حق وباطل کی جنگ چھڑی ہوئی ہے ایک طرف فرعونی اوصاف سے وابستہ لوگ ہیں تو دوسری طرف حضرت موسی علیہ علیہ االسلام کے وارثین ہیں ۔ فرعون کے خاندان والے مصرسے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذریعہ قائم کی گئی خدائی سلطنت کا ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ وہ اسلامی آثار و نقوش کو مٹاکر پھر وہی لادنیت ، ظلم وستم اور تاناشاہی قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد فرعون کے ذریعے ڈالی گئی تھی تو دوسری طرف اسلام پسنہ طبقہ ہے ۔ اخوان المسلمین جیسی جماعت ہے جو مصر کو فاتح مصر حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ تعالی کی منشاء کے مطابق دیکھنا چاہتی ہے ۔ یہ جماعت مصر کو اس صورت میں برقرار رکھنا چاہتی ہے جس کی بنیاد حضرت یوسف علیہ السلام نے ڈالی تھی ۔ مصری عوام کو وہ نظام مملکت دینا چاہتی ہے جوحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی نے اپنی خلافت اور حضرت عمربن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنی گورنری کے زمانہ میں دیا تھا۔ اخوان المسلیمن کے جیالے اس سرزمین سے مسجد اقصی کو آزادکرانے کی جد وجہد میں مصروف ہیں جو اس سے قبل صلاح الدین ایوبی نے کیا تھا ۔ ان کی یہ کوششیں رنگ لاچکی ہیں ۔ اخوان المسلیمن نے80 سالہ جد وجہد کے بعد مصر سے ایک فرعونی نظام کا خاتمہ کیا تھا ۔ مصری کی چو طرفہ ترقی کے ساتھ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی شان وشوکت کی واپسی کرنے کے فراق میں تھی ۔ مسجد اقصی کی آزادی کے بارے میں حکمت عملی طے ہورہی تھی کہ اسی دوران فراعنہ مصرنے پھر سر ابھار لیا اور منتخب حکومت کا تختہ پلٹ دیا ۔ جون 2012 میں عوامی حمایت سے صدر منتخب ہونے والے محمد مرسی کو فوج نے ایک سال بعد 2013 میں برطرف کرکے جیل کے سلاخوں میں ڈال دیا ۔امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت سے پھر اسی قدیم دور کی واپسی ہوگئی ۔ حسنی کی جگہ اب السیسی کو اقتدار مل گیا ۔ جس نے صدر بننے کے فورا بعد کہا تھاکہ ہم اخوان المسلمین کا نام و نشان مٹادیں گے۔ چناں چہ السیسی نے حلف لینے کے فورا بعد اخوانیوں کی ناکہ بندی شروع کردی۔ ایک ایک کرکے اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کا قتل شروع کردیا ۔ ا ب تک تقریبا 500 سے زائد اخوانیوں کو پھانسی دی جاچکی ہے ۔ السیسی نے صدر محمدمرسی اور اخوان کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع اور عالم اسلام کے رہنما شیخ یوسف القرضاوی تک اپنے ظلم کا ہاتھ دراز کرلیا ۔ محمد مرسی کے لئے 20 اپریل 2015کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اس کے بعد 16 مئی 2015کو پھانسی کا فیصلہ آگیا ۔
لیکن ان سب کے باوجود حق جیت کی ہوگی ۔ سچائی کی ہوگی ۔ انبیاء کے وارثین اور صحابہ کرام کے جانشین کی ہوگی ۔ کیوں کہ ہزراوں سال قبل تباہ کی گئی فرعونی سلطنت یہی بتاتی ہے کہ مصر انبیاء کے وارثین کا ہے خداکے باغیوں کا نہیں ۔ ظلم وستم روا رکھنے والوں کو زیادہ دنوں تک یہ سرزمین برداشت نہیں کرے گی۔
فیصلہ سننے کے بعد صدر مرسی کے بیٹے اسامہ مرسی نے کچھ اسی انداز میں اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ ’’یہ فیصلہ ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہے۔ مگر ظالموں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے ہمارے عزائم پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں!اس سے نہ ہمارے قدم ڈگمگانے والے ہیں، نہ صدر مرسی کے!نہ مصر کی تحریک آزادی اس سے کمزور پڑنے والی ہے!‘‘مصر کی اس تحریک آزادی کا محور کبھی اشخاص نہیں رہے ہیں ۔ ایک نہیں ہزراوں مرسی ایسے پید اہوں گے ۔‘‘ مضمون کے اختتام پر مرسی کا وہ ایمان افروز بیان بھی دیکھ لیجئے جو انہوں فیصلہ آنے کے بعد کہاتھاکہ ’’ جو لوگ اس راہ میں شہید ہوچکے ہیں، میری جان ان سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔اس تحریک کی جڑیں سیکڑوں شہداء کے خون سے سیراب ہوچکی ہیں، میرا خون بھی ان کے خون میں مل کر اس کی توانائی میں اضافہ کرے گا‘‘۔
سچ ہے کہاہے شاعر اسلام نے کہ
آئین جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی!

Post Top Ad

Your Ad Spot