Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, May 26, 2019

اکیسواں روزہ۔۔۔۔۔۔۔اکیسواں سبق۔۔۔۔۔۔۔۔۔رمضان المبارک کے موقع پر سلسلے وار تحریر۔


صدائے وقت۔/ ماخوذ/ عاصم طاہر اعظمی۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
درمضا ن رحمت کا مہینہ ہے
اللہ نے انسان کو بہت سی خصو صیا ت سے سر فرا ز فرما یاہے، اس پر بے شما ر انعا م واکر ا م کیا ہے،رب العالمین کی نعمتو ں میں سے ایک عظیم نعمت ’’رحمت‘‘ بھی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو نعمت سے نوازتا ہے، اس صفت کاظہوررحیم 
بندوں پر ہی ہو تا ہے۔

اللہ رحمن ہے، رحیم ہے، رحم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اپنے بندوں کو صبرورحمت کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہنے کاحکم دیتاہے ؛لیکن اسی روئے زمین پر بسنے والے اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جواس عظیم نعمت سے محرو م ہیں،اس محرومی کے چند اسبا ب ووجو ہا ت ہیں ، ہمیں ان پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ رمضا ن کے اس بابرکت اور رحمت والے مہینہ میں ہم بھی رحمتِ خداوندی سے لطف اندوز ہو سکیں ، اور محرو می کاشکا رنہ ہوں ذیل میں ان اسباب کومختصرا ً نقل کیا جا رہا ہے:
(۱)گناہوں کی کثر ت :یہ ایک ایسا عمل ہے،جودل پرایسا زنگ لگاتاہے، کہ انسان اندھا ہو جا تا ہے،گناہوں کے علا وہ اس کو کچھ اور سو جھتا ہی نہیں ، بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت دل ہو جا تا ہے، بنی اسرا ئیل کی اس صو رت حا ل کو قرآ ن نے بیان کیا ہے:  ’’ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِيَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً‘‘ (البقرۃ: ۷۴) اور جب بنی اسرائیل نے خداوندی احکا م کو ما ننے سے انکا ر کر دیا ، شریعت کے تئیں سر کشی شروع کردی تو قرآن نے کہا: ’’فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ لَعَنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ ‘‘ (المائد: ۱۳) یعنی جب بنی اسرا ئیل نے اپنا عہد وپیما ن توڑدیا ، تو ہم نے انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیا اوران کے دل کو سخت کر دیا ۔
(۲)ما ل پر اترا نا : مال کی کثر ت، اس کی وجہ سے فخر ومبا ہا ت ؛نیز سر کشی اور تکبر بھی انسان کو رحمت سے دور رکھتاہے، اسی کو قرآن نے کہا ہے :’’کَلاَّ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَیَطْغٰی أَنْ رَّآہُ اسْتَغْنٰی‘‘۔ (العلق: ۶،۷)
(۳)ضرورت سے زائد شکم سیری: جب انسا ن ضرورت سے زائد کھا لیتاہے، توکفران ِنعمت کے جا ل میں پھنس جا تا ہے، انعا ما ت کی ناشکری کر نے لگتا ہے، مغرور اور متکبر ہو جا تا ہے، اسی لیے روزہ کی مشروعیت کی ایک مصلحت خو اہش نفس کا خا تمہ بھی ہے، لو گوں میں سب سے زیا دہ رحمت ومحبت کا جذبہ روزہ داروں میں ہو تا ہے، کیو ں کہ بھو ک وپیاس بر داشت کرنے اورمشقتو ں کو جھیلنے کی وجہ سے ان کا دل مسلما نو ں کے تئیںنرم پڑجا تا ہے، ہر ایک کے سا تھ لطف ومہر با نی اور شفقت ورحمت کے سا تھ پیش آنے کا شو ق پیدا ہو تا ہے۔
ہر مسلما ن کاصفت ِرحمت سے متصف ہو نا ضروری ہے، ایک مسلما ن کو چاہیے کہ دوسرے مسلما ن کے سا تھ رحمت ومحبت کے سا تھ ہی پیش آئے ، ذمہ دارنگراں کو چاہیے کہ اپنی رعا یا کے سا تھ رحم وکر م کا معا ملہ کرے ، ان کے ساتھ شفقت اور نرمی سے پیش آئے،ایک دوسرے کے ساتھ رحم وکر م کا معاملہ کرنے والو ں کے لیے اللہ کے رسو لؐنے دعا کی ہے فرما یا۔: ’’اللّٰہُمَّ مَنْ وُلِّيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِيْ شَیْئًا فَشَقَّ عَلَیْہِمْ، فَاشْفُقْ عَلَیْہِ وَمَنْ وُلِّيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِيْ شَیْئًا فَرَفَقَ بِہِمْ فَارْفُقْ بِہٖ‘‘ خدایا !جس شخص کو میری امت کا کوئی معا ملہ سپرد کیا گیا ،پھروہ لو گو ں کے سا تھ شفقت سے پیش آیا تو،توُ بھی اُس کے ساتھ شفقت کا معا ملہ فر ما !اور جس شخص کو میر ی امت کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی پھر اس نے لو گوں سے نرمی کا معا ملہ کیا تو ، توُ بھی اس کے سا تھ نر می کا معا ملہ فرما ! ایک دوسری روایت میں ہے، اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ارشا د فرما تے ہیں: ’’مَنْ وَلاَّہُ اللّٰہُ أَمْرًا مِنْ أُمَّتِيْ فَاحْتَجَبَ دُوْنَ حَاجَتِہِمْ وَخُلَّتِہِمْ وَفَقْرِہِمْ، اِحْتَجَبَ اللّٰہُ دُوْنَ حَاجَتِہٖ وَخُلَّتِہِ وَفَقْرِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘ یعنی جس شخص کے کندھو ں پر میر ی امت کی کوئی ذمہ داری ڈالی گئی ، اس نے لو گو ں کی حاجت روائی کی ، غر بت اورفقیر ی میں ان کے کا م آیا تو اللہ تبارک و تعا لی روزقیا مت میں اس کی حاجت روا ئی فرما ئیں گے۔
علما ء اور اسا تذہ کو چا ہیے کہ اپنے طلبہ کے سا تھ رحم و کر م کا معا ملہ کریں ،ان کے ساتھ نر می سے پیش آئیں ، آسان ترین اور عمدہ تر ین لب ولہجے میں ان سے مخا طب ہوں، تاکہ طلبہ اپنے اسا تذہ سے محبت کریں ، ان کے کلام سے نفع اندوز ہو سکیں ، ایسے لوگو ں کو اللہ اجرو ثو اب سے نو ازتے ہیں ،اللہ تعا لی نے اپنے رسو ل کو بھی اس کی نصیحت کی ہے:  ’’فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم ولو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حو لک ‘‘اما م کو چاہیے کہ مقتدیو ں کے سا تھ رحم و کر م کا معا ملہ کرے ، ان کے لیے مشقت اور ضرر کا با عث نہ ہو ، بلکہ محبت وحکمت اور مہر با نی کے ساتھ پیش آئے، اللہ کے رسو ل ؐکا ارشا دہے: ’’مَنْ أَمَّ مِنْکُمْ بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفُ فَإِنَّ فِیْہِمُ الْکَبِیْرَ وَالْمَرِیْضَ وَالصَّغِیْرَ وَذَا الْحَاجَۃِ‘‘ یعنی اما م کو قرأت میں تخفیف کر نی چا ہیے کیو ں کہ مقتدیوں میں بو ڑھے اور بیما ر لو گ بھی ہو تے ہیں ، چھو ٹے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ، ایک مر تبہ حضرت معاذؓ نے لمبی قرأت کر دی تو آپ ؐنے ان سے فرمایا! معاذ ؓ! تم تو لو گوں کو مشقت میں ڈالتے ہو۔۔۔۔۔۔۔معا ذؓ!تم تو لو گو ں کو مشقت میں ڈالتے ہو ، ۔۔۔۔۔۔۔ معا ذؓ!تم تو لو گوں مشقت میں ڈالتے ہو ۔ایک روا یت میں ہے کہ حضر ت عثمان بن ابی العا ص ثقفیؓ نے اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے فر ما یا!اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قو م کا اما م بنا دیجیے !توآپ ؐنے ان سے فر مایا :تم اپنی قو م کے امام ہو، کمزوروں کا خیا ل رکھو :داعی اور مبلغ کو چا ہیے کہ امت کے سا تھ رحم وکر م کا معا ملہ کرے، نرم انداز میںانہیںنصیحت کرے ، شفقت ومحبت سے انہیں دین کی با تیں سنائے، کسی کو رسو انہ کرے ، کسی پر تنقید نہ کرے ، کسی پر ملا مت نہ کرے ، مجمع عام میں گنہ گا روںپر لعن طعن نہ کرے ، اسی لیے جب حضرت مو سی اور ہارون علیہما السلا م فر عو ن کے پا س اللہ تعالی کا پیغام لے کر جا رہے تھے تو اللہ نے دو نوں حضرات کو نرم کلا می کی نصیحت کی تھی :’’فَقُوْلاَ لَہُ قَوْلاً لَیِّنًا، لَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشٰی‘‘ (طٰہ: ۴۴) مزید بر آں قر آن نے اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تبلیغ کے وقت حکمت اور خو ش کلا می کی تلقین کی ہے، فرمایا !’’أُدْعُ إِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِيَ أَحْسَنُ ‘‘ (النحل: ۲۵) قرآن وحدیث کے یہ احکا م آج علما ء کو دعو ت ِفکردے رہے ہیں ، ہمیں اپنے طرز عمل کے محا سبہ کی ضرورت ہے، حضرت اما م شا فعیؒ فرما تے ہیں :مجھے تنہائی میں نصیحت کیا کرو !مجمع ِعام میں نہیں !کیو ں کہ لو گو ں کے ما بین نصیحت کر نا ایک طر ح کی تو بیخ ہے، اور میں اس کو نا پسندکرتا ہوں : لیکن اگرتم میر ی مخا لفت کرو گے ، میر ی با ت نہ ما نو گے تو اس وقت دہشت میں مبتلانہ ہو نا ، جب تمہاری بات سنی نہیں جا ئے گی ۔
والد کو چا ہیے کہ اپنی اولا د کے سا تھ رحم وکر م کا معا ملہ کرے، کیو ں کہ بچو ںکے ساتھ والدین کی شفقت ومحبت کا ان کی نیکی اور کا میابی میں بہت بڑا دخل ہوتاہے اور سختی وشدت دونو ں چیزیں مضر ہو تی ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فر ما تے ہیں: ’’مَا کَانَ الرِّفْقُ فِيْ شَيئٍ إِلاَّ زَانَہُ، وَمَا نَزِعَ الرِّفْقُ فِيْ شَيئٍ إِلاَّ شَانَہُ ‘‘ کہ نرمی جس چیز میں ہو گی وہ اس کو عمدہ بنائے گی اور جس چیزسے نرمی نکا ل لی گئی ، وہ چیز عیب دار ہو جائے گئی ۔
اے روزہ دارو !تم نے بھو ک بر دا شت کی :(اللہ قبو ل فرما ئے ) لیکن ہزارو ں پیٹ بھو کے ہیں اور ایک لقمے کے منتظر ہیں ، کیا ہے کوئی کھلا نے والا ؟
اے روزہ دارو !تم نے پیا س کی شدت بر دا شت کی !ہرزاروں پیاسے انسا ن !پانی کے ایک گھو نٹ کے منتظر ہیں ؛تو کیا ہے کوئی پانی پلا نے وا لا ؟
اے روزہ دا رو!تم عمدہ لبا س زیب تن کر تے ہو !ہزا روںلو گ ایسے ہیں جن کے پا س پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں ، وہ کپڑے کے ایک ٹکڑے کے منتظر ہیں : تو کیا ہے کوئی :کپڑا پہنا نے والا !؟
خدایا !ہمیں اپنے دامنِ رحمت میں ڈھانپ لے !گناہوں کو معا ف فرما! خطائوں کو درگذر فرما !لغزشو ں پر پر دہ ڈا ل دے ۔۔۔۔۔۔۔ آمین

Post Top Ad

Your Ad Spot