Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, May 4, 2019

نفرت نے لی میرے والد کی جان۔۔۔محمد رضوان ولد رمضان مرحوم۔

نئی دہلی۔۔۔۔۔صدائے وقت۔پریس ریلیز۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . 
ملک میں بڑھ رہی نفرت کی سیاست و سماج میں پھیلے تعصب کے زہر نے میرے والد کی جان لی۔یہ بات عدالتی حراست میں راجستھان کے کوٹا میں رمضان کی موت کے تعلق سے ان کے بیٹے رضوان نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔اس سلسلے میں انسان حقوق کی تنظیم  این سی ایچ آر او نے نئی دہلی میں ایک ہریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں مرحوم رمضان کے بیٹے محمد رضوان نے کہا کہ کچھ روز قبل میرے والد کی پیرول پر رہائی ہوئی تھی اور سزا معافی کے کاغذات ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے حکومت اور گورنر تک پہنچایا جا چکا تھا۔مگر اسی دوران ان کی بیماری اور ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال میں شفٹنگ ، رشتے داروں واہل خانہ سے نہ ملنے دینا، ملاقات کے لئیے پولیس کا رشوت 500 روپیہ کا مطالبہ اور پھر بیمار والد کی بے رحمی سے پولیس کی پٹائی سے آخر کار ان کی موت ہوگئی۔
سماجی کارکن ندیم خان نے اس پریس کانفرنس میں بتایا کہ موت سے پہلے محمد رمضان کی ایک ویڈیو کلپ جاری ہوئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے دھمکی دی ہے کہ اس کے خلاف جو کچھ واقعہ ہوا ہے وہ کسی سے بتائے گا نہیں۔مرحوم رمضان کی داڑھی ، ٹوپی مذہب کو لیکر بد سلوکی کی گئی۔
اس دوران پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے صوبہ دہلی کے صدر
پرویز احمد نے کہا کہ نفرت کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس واقعہ سے یہ بات عیاں ہے کہ نفرت کس حد تک لوگوں کے ذہنوں میں اتر چکی ہے۔
ایڈوکیٹ سپریم کورٹ جی بھاوسر نے کہا کہ حقوق انسانی تنظیم کا مطالبہ ہے کہ متاثر خاندان کو معقول معاوضہ دیا جائے اور پولیس اہل کار پر قتل کا مقدمہ درج کیا جائے و اہل خاندان میں کسی کو سرکاری نوکری دی جائے۔
دہلی یونیورسٹی کے پرفیسر اپوروانند نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے سرکار سے سب جائز مطالبات کو ماننے کی اپیل کی۔اس  کے علاوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ فضیل احمد ایوبی۔ایڈوکیٹ انصار اندوری و دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔
پریس کانفرنس میں وکلاء سماجی کارکنان و دانشوران بڑی تعداد میں موجود ریے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot