Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, June 1, 2019

ایک بار سوچئیے ضرور۔۔۔۔۔۔۔۔جیل کی دیواروں میں سسک رہی انسانیت کی خبر گیری کیا ہم پر لازم نہیں،؟؟؟


۔________صداۓوقت______
یہ الله رب العزت کا بے پناہ شکرواحسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور دن رات کے اپنے معمولات میں سے اکثر نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو دور ہمیں ان نعمتوں کا خیال بھی نہیں گذرتا۔
مگر زندگی کبھی کبھی ایسے موڑ پہ کھڑاکردیتی ہے کہ الله تعالی کی شانِ کریمی کا استحضار ہماری آنکھوں کے سامنے خود بخودمنڈرانے لگتا ہے۔
کچھ ایسا ہی واقعہ آج جمعیتہ علماءضلع بنارس کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیش آیا جب ان ساتھیوں کو اپنے چند مقامی دوستوں کی گزارش پر سینٹرل جیل میں بند قیدیوں کے ساتھ باہم افطار 
کرنے کا موقع ملا ۔

اترپردیش کے 26 اضلاع کے تقریبا 750 قیدیوں میں مسلم قیدیوں کی تعداد تقریبا 250 ہے جس میں اکثر اپنے گھروالوں کی غربت کے سبب صحیح پیروی نہ کرپانے کی وجہ سے توکچھ مختلف اعذار کی بنیاد پر 20،20 سال اور 25 ،25 سال سے جیل کی ان سلاخوں میں اپنے شب وروز گذارنے پر مجبور ہیں۔ طویل عرصے سے ان کال کوٹھریوں سے باہر نکلنے کی راہ تکتے اور تنہائیوں میں سسکتے سسکتےان کی آنکھ کے آنسو سوکھ چکے ہیں۔
صرف اپنے بال بچوں اور اپنے گھر والوں کی عید کی تیاری اور ان کے شوق کو پورا کرنے میں ہم دن رات سرگرم عمل ہیں وہیں ان جیلوں میں کچھ ایسے بھی قیدی ہیں کہ جب وہ ان جیلوں میں قید ہوئے تو ان کا بچہ ایک مہینے کاتھا اور وہ آج بیس سال کا ہوچکا ہے ۔
کیا انسانی اقدار کا تحفظ پوری ملت کے ذمے لازم نہیں؟
  کیا ایسے کمزور اور بے بس لوگ جوغربت کی بنیاد پر اور صحیح پیروی نہ ہوپانے کی وجہ سے آج بھی ان جیلوں سے نکل کر اپنوں سے ملنے کے لئے تڑپ رہے ہیں ۔۔۔۔ہمیں ان کی مدد کو آگے نہیں آنا چاہئے؟
ان کی تکلیف کااندازہ صرف اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ساتھیوں اور دیگر احباب سے مل کر وہ تمام قیدی اتنے جذباتی ہوگئے کہ اس بات کا اصرار کرنے لگے کہ آپ لوگ بس یوں ہی کبھی کبھی ہم سے ملنے چلے آیا کیجیے۔۔تاکہ ہمیں اس بات کا احساس رہے کہ اس جیل کی چہاردیواری کے باہر بھی چند ایسے لوگ ہیں جو انسانی اور ایمانی رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ۔
یہ ہم سب کے لئے بہت بڑالمحہ فکریہ ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم سے سوشل ورک اور خدمت خلق کا بڑابڑا دعوی کرنے والے ہم لوگ اپنی ذمےداریوں سے کس قدر چشم پوشی کررہے ہیں۔

آئیے رمضان کریم کے اس بابرکت اور باعظمت مہینے میں اپنے ان بھائیوں کے حق میں خیر کی دعا کریں ۔۔۔اور ان کی جیلوں سے رہائی کے ممکنہ اسباب پرسنجیدگی سےغور کریں ۔۔
______منجانب ______
جمعیتہ علماء ضلع بنارس

Post Top Ad

Your Ad Spot