Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, June 28, 2019

دنیا نا مرد کو جینے نہیں دیتی۔۔!!!


ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
.....................................................
چند برس پہلے ا یک فلم آئی تھی ”کرانتی ویر“۔ نانا پاٹکر نے اس میں اہم رول ادا کیا تھا اور انہیں بہترین اداکاری کے لئے فلم فیئر ا یوارڈ بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم کا ایک منظر بہت سبق آموز ہے جنہوں نے دیکھا ہے انہیں یاد 
ہوگا۔

ایک ظالم ساس‘ اپنی بہو کو غنڈوں کے  حوالے کرتی ہے۔ دو غنڈے اسے گھر سے کھینچ کر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چیختی ہے چلاتی ہے... اس کا کمسن بیٹا محلہ والوں سے مدد کی بھیک مانگتا ہے۔ کوئی آگے نہیں بڑھتا۔ سامنے ایک کھاٹ پر بیٹھا ناناپاٹکر قہقہہ لگاتا ہے۔ مظلوم عورت اسے گالیاں دے کر کہتی ہے کہ وہ ایک مظلوم عورت کو بچانے کی بجائے اس پہ ہنس رہا ہے۔ نانا پاٹکر کا جواب قابل غور ہے.. ارے تم کو دوسروں کا محتاج رہنے کی عادت ہوگئی ہے... اوپر والے نے دانت دیئے... اس نے ہاتھ دیئے استعمال کیوں نہیں کرتی۔ عورت کی سمجھ میں آجاتا ہے وہ ایک غنڈہ کے ہاتھ میں دانتوں سے کتردیتی ہے۔ وہ بلبلاکر ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔ عورت موسل اٹھاتی ہے دونوں کی  کی پٹائی کرتی ہے اور دونوں غنڈے بھاگ جاتے ہیں۔
فلمیں صرف تفریح یا وقت گذاری کے لئے نہیں دیکھی جانی چاہئیں۔ ان سے سبق بھی لیا جاسکتا ہے۔ بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔
ملک میں آج جو حالات پیش آرہے ہیں‘ جس طرح سے ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر جارحیت کے ذریعہ خوف مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا مقابلہ کیا جانا چاہئے۔ اخباری بیانات‘ سوشیل میڈیا پر ویڈیو کلیپنگ شیئر کرنے سے غیر ضروری مشوروں سے نوازنے سے کچھ ہونے والا نہیں۔ جہاں جہاں یہ واقعات پیش آرہے ہیں۔ وہاں کوئی مدد کے لئے نہیں آیا نہ مستقبل میں اس کی امید ہے۔ لوگوں کے لئے تو یہ ویڈیو گرافی کا بہترین موقع ہے۔ جتنے لوگ اپنے کیمروں سے ہجومی تشدد کے واقعات کو شوٹ کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک بھی اگر مظلوم کی مدد کے لئے آگے بڑھیں تو یقین مانئے حملہ آور فرار ہوجائیں گے کیوں کہ بزدل طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ گروپ کی شکل میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ اکیلے ہوں تو بھیگی بلی بن کر نظریں نیچی کرکے گزر جائیں گے۔ چاہے اس علاقہ میں ان کی اکثریت ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں حملے ہوئے وہاں مظلومین نے اپنی اور اپنے ارکان خاندان کی جان بچانے کے لئے منت اور سماجت کی۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل مومن کے نہیں کہ نرم ہوں؟ یہ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ جتنا گڑ گڑاؤگے وہ اتنے ہی اپنے آپ کو سورما سمجھ کر ظلم ڈھاتے ہیں۔ آپ چاہے ان کے کہنے پر نعرے لگاؤ یا نہ لگاؤ یہ چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ کیوں کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ وہ ایسا کرکے اپنی قوم میں ہیرو بن جائیں گے۔ سوشیل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر دباؤ کے نتیجے میں گرفتار ہو بھی جائیں تو قانون کے محافظین دراصل انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں جیل میں ان کے ساتھ وی آئی پی جیسا سلوک یا جاتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ عدالتوں میں بھی فیصلے ان ہی کے حق میں ہوتے ہیں۔
ہمارے لئے یہ حالات نئے نہیں ہیں۔ جب ہم دنیا کی سب سے بہترین قوم میں پیدا کئے گئے تب سے ساری اقوام ہمارے خلاف رہی ہیں۔ ہم اکثر ماضی میں کھوئے رہتے ہیں اپنے شاندار ماضی کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ مگر اپنے اسلاف کے کردار کو یاد نہیں کرتے جنہوں نے آج کے مقابلے اس سے کہیں زیادہ مظالم سہے۔ انہوں نے کبھی دشمن کے آگے ہاتھ نہیں جوڑے۔ منت سماجت نہیں کی۔ کیوں کہ ان کا یہ ایمان تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔ آج اس ایمان کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ موت لکھی ہے تو ٹل نہیں سکتی۔ حیات ہے تو کوئی مار نہیں سکتا۔ اس لئے مقابلہ کیا جائے۔ حملہ آور تعداد میں زیادہ بھی ہوں‘ اور جب اپنے بچنے کی امید کم ہو تو کیوں نہ مرتے مرتے اتنا مقابلہ کیا جائے کہ حملہ آور زندگی بھر اسے یاد رکھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری ہمت سے اس کی ہمت جواب دے دے۔ جہاں مقابلہ ہوا وہاں دشمن یقینا کمزور ہوگا کیوں کہ ہماری ایمان کی طاقت اس پر غالب رہے گی۔ اگر مقابلہ کے بجائے منت و سماجت کی جائے، عاجزی کی جائے، گڑگڑایا جائے تو جو زندگی بچ جائے گی اس میں ہمیشہ ہم اپنے آپ سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔
آج ہم کمزور ہیں اس لئے نہیں کہ تعداد میں کم ہیں۔ اس لئے کہ ہماری توانائیاں آپس میں ایک دوسرے کو مٹانے، نیچا دکھانے میں ضائع ہورہی ہیں۔ ہم جسمانی طور پر قوی نہیں ہیں‘ رات بھر جاگتے ہیں‘ دیر تک سوتے ہیں اور سوشیل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں۔
اگر ہم جسمانی طور پر مضبوط ہوں‘ چستی پھرتی ہو‘ ایک چار پر بھاری ہو تو قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں ہم سب کی جان ہے‘ ہم کم تعداد کے باوجود اپنی شناخت اور وقار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ آپ کو اپنے آپ کو صحت مند بنانے پر کوئی پابندی نہیں...
اللہ تعالیٰ کو ایک عام مسلمان کے مقابلہ میں قوی مسلمان زیادہ پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہترین پہلوان تھے۔ بہترین شہسوار تھے۔ شمشیر زنی میں آپ ا کا جواب نہیں تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی معاملہ تھا۔ افسوس کہ آج ہم میں سے کچھ صحت مند ضرور نظر ا ٓتے ہیں مگر یہ اپنی طاقت اور اثرات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ زمینات پر قبضے، جبری وصول، کمزوروں پر ظلم کیلئے جانے جاتے ہیں۔ آج قوم کے ہر بچہ کو صحت مند بنانے کی ضرورت ہے۔ ہر بچے کو پھرتیلا بننا ہوگا۔ ان فنون میں مہارت حاصل کرنی ہوگی جس سے وہ ظالموں کی جارحیت کا مقابلہ کرسکیں۔ ہر مدرسہ، ہر عصری تعلیم کے اسکول میں اپنی حفاظت کے طریقہ قانون کے دائرہ میں رہ کر انہیں سکھانے ہوں گے۔ آپ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس آئی پی ایس ضرور بنائیں‘ ساتھ ہی انہیں ”مرد“ بھی بنائیں جو جارحیت پسند نامردوں کا مقابلہ کرسکے۔
اسپورٹس کے نام پر ہم کرکٹ کے شیدائی ہیں‘ کچھ فٹبال بھی کھیلتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان دنوں فٹبال، جیسے اسپورٹس کو بھی ”انڈور“ گیم میں بلکہ ایک ٹیبل پر ایک چھوٹے سے باکس تک محدود کیا جارہا ہے۔ یعنی جس طرح شاپنگ مال میں ویڈیو گیمس کے ذریعہ بائیک اور کار ریسنگ کا شوق پورا کرتے ہیں ویسے بھی فٹبال، ہاکی اور دوسرے انڈور گیمس کو ویڈیو گیمس میں تبدیل کیا جارہا ہے جس سے بچے ذہنی طور پر کمزور، جسمانی طور پر لاغر ہوجاتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ آؤٹ ڈور یا میدانی کھیل مردانہ ہوتے ہیں اور انڈور گیمس زیادہ تر زنانہ ہوتے ہیں۔ یہ قلعوں میں محصور شہزادے اپنی تفریح کے لئے کھیلا کرتے تھے۔ ”انڈور گیمس“ شکست خوردہ ذہنیت کی غمازی کرتے ہیں۔ خیر یہ بات بے موقع لگے گی مگر کہنی ضروری تھی اس لئے ہماری نئی نسل اس کی عادی ہوتی جارہی ہے۔ اسے مردانہ کھیلوں کی عادت ڈالنی چاہئے۔ ان کی سانس بنے گی تو ان کی ہمت بھی بندھی رہے گی۔ ہاتھ پاؤں مضبوط ہوں گے تو مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی پیدا ہوگا۔
موجودہ حالات میں قوم کو ”مرد“ بنانے کی ذمہ داری والدین‘ اساتذہ‘ علماء اور قائدین کی ہے وہ خوف نکالیں، غزت کے ساتھ جینے کی تلقین کریں۔ قوم زندہ رہے گی تو ان کی قیادت بھی زندہ رہے گی۔ اس کے لئے اپنے اپنے اختلافات کی گھٹری کو دفن کرکے ایک ہونے کی ضرورت ہے... ایسا ناممکن تو نہیں...
موب لنچنگ کے جو واقعات ہورہے ہیں‘ جب ان کا مقابلہ کیا جائے گا کچھ حملہ آوروں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا تو اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی آنے والے حالات کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مرد آدمی عموماً عورتوں اور بچوں کی وجہ سے کمزور ہوجاتا ہے۔ انہیں بچانے کے لئے خود قربان ہوجاتا ہے۔ اس لئے جب اس کے ساتھ اس کے ارکان خاندان بھی یہ طئے کرکے کہ زندگی اور موت‘ عزت و ذلت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ غنڈوں کا مقابلہ کریں گے تو انشاء اللہ ان کا پلڑا بھاری رہے گا۔ کیوں کہ ظلم کرنے والے کمزور ہی ہوتے ہیں طاقتور تو مظلوم کی حفاظت کرتا ہے۔ اِن کمزوروں اور بزدلوں سے کیسا ڈر اپنے آپ کو موبائل کے قید سے باہر نکالو۔ آج سے ہی نماز کی پابندیوں کے ساتھ باقاعدہ ہلکی پھلکی ہی سہی ورزش کا اہتمام کرو! انشاء اللہ‘ اللہ کی مدد شامل حال رہے گی۔ اور ایک بار پھر ہم غالب رہیں گے۔انشاء اللہ...

Post Top Ad

Your Ad Spot