Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, July 8, 2019

بول ابیض (سفید پیشاب).....اطبإ کو ڈرانے والا ہیشاب۔


از/حکیم وڈاکٹر شاہدبدر فلاحی علیگ /صداٸے وقت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        ڈاکٹر صاحب یہ بچہ کئی مہینوں سے بیمار ہے۔ اسکے علاج کیلئے میں بہت دوڑا لیکن ڈاکٹر صاحبان اسکا مرض نہیں پکڑ پا رہے ہیں۔ میں مزدور آدمی ہوں۔ ۔۔پلے داری کا کام کرتا ہوں۔ ۔۔اسی مزدوری سے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔
 وہ ایک مزدور شخص جسے غربت نے  جوانی میں بوڑھا کر دیاتھا۔ اسکے ساتھ ایک سات آٹھ سال کی عمر کا بچہ۔ ۔۔نحیف و نزار۔ یہ بات ۲۰۰۹ کی ہے۔ جب میرا مطب اراضی باغ ملت نگر اعظم گڑھ میں تھا۔
میں نے پوچھا۔ اس بچے کو ہوا کیا ہے ؟  اس شخص نے پلاسٹک کی Transparent بوتل میں بالکل سفید گاڑھی جمی ہوئی نیم سیال چیز مجھے دکھائی اور کہا کہ یہی اس بچے کے پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے،۔اسکو ہلکا ہلکا سا بخار رہتا ہے، اور بچہ دن بہ دن بہت کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اس کے علاج کیلئے اعظم گڑھ شہر کے بچوں کے کئی ڈاکٹر کے پاس گیا ہوں۔ لیکن کسی کی دوا سے کوئی آرام نہیں ہے۔کسی نے جڑی بوٹی سے علاج کا مشورہ دیا تو آپ کے پاس آیاہوں۔
  اس بوتل میں پیشاب ہے؟؟ میں اسکو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ زمانۂ طالب علمی اور دورانِ انٹرن شپ، ایسے ایک بھی مریض سے سابقہ پیش نہیں آیا تھا،اور نہ ہی کلاس میں اس موضوع پر کوئی لیکچر سنا تھا۔مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ پیشاب ہے۔ میں نے اپنے مطب میں رکھی دوسریTransparent پلاسٹک بوتل اسے تھما دی، کہ اسمیں پیشاب کر کے لاؤ۔۔یہ پیشاب بھی پہلے جیسا ہی بالکل  گاڑھاسفید تھا،۔ ۔جسے زمین پر گرایا تو گرنے کے کچھ دیر بعد جم گیا۔ پہلی بار یہ بیماری میرے مشاہدے میں آئی تھی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی یقین نہیں آرہاتھا۔میں نے کچھ دیرتوقف کے بعد کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں بچہ ٹھیک ہو جائے گا انشا ء اللہ۔۔اس بچے کے علاج کیلئے آپ کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا 
پڑے گا۔ دوا میں دونگا۔ بس جب تک کہوں علاج جاری رکھیں۔ میں نے بس یونہی کوئی دوا دیکر بھیج دیا۔ اور کہا کہ آپ دس دن بعد آئیں۔ میں نے اس دن جانے کون سی دوا دی۔مجھے یاد نہیں۔ میں تو اس نئی بیماری کو پڑھنا اور علاج ڈھونڈنا چاہ رہا تھا۔۔میں نے اللہ سے دعا کی۔ اے اللہ آپ میری رہنمائی فرما دیجئے۔۔اسکے بعد اپنے پاس موجود ذخیرۂ کتب کو کھنگالنا شروع کردیا۔بول کے طبعی اور غیر طبعی اقسام و رنگت کو موضوع ِ مطالعہ بنایا۔۔تلاش و جستجو کا سفر جاری رہا۔

   ابتدا میں نے شرح اسباب۔ ترجمہ کبیر سے کی۔لیکن مقصود حاصل نہیں ہوا۔دن رات کر کے استاذ الاطباء کی کتابوں کو الٹتا پلٹتا رہا۔ابوال غریبہ کے عنوان سے درج ذیل بحث نے میر ی ہمت بندھائی۔ غیر طبعی پیشاب پانچ قسم کا ہوتا ہے۔
  اول۔غسالی۔ گوشت کے دھوون کی طرح، ایسے پیشاب کا سبب گردہ کی قوت ہاضمہ و ممیز ہ کی کمزوری ہوتی ہے۔یا جگر کی قوتوں کا ضعف۔
   دوم۔ غلیظ پیشاب جسکے ساتھ غلیظ خلطیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ اسکا سبب گردے کا ضعف۔ اور۔ اخلاط کی کثرت ہوتی ہے۔
  سوم۔ بول شعری۔ یعنی وہ پیشاب جسمیں بال یا دھاگے کے مانند کوئی چیز ظاہر ہو،پیشاب کے یہ تار دو دو بالشت تک لمبے ہوتے ہیں۔ ۔گاہے، انکا رنگ سفید ہوتا ہے، اور گاہے سرخ۔یہ گردے کے ضعف ہضم سے، اور گاہے عروق کے ضعف ہضم سے پیدا ہوتاہے۔ گاہے اسکی تولید غلیظ غذاؤں سے ہوتی ہے اور یہ صورت زیادہ خطرناک نہیں ہوتی۔
چہارم۔ بول مدی۔ پیشاب میں خالص پیپ یا خون آمیز پیپ خارج ہوتی ہے۔ اسکا سبب جگر کے پھوڑے کا پھٹنا یا آلاتِ بول کے ورم کا پھٹنا یا اسکا سبب آلات ِبول کے قرحے ہوتے ہیں۔

 پنجم۔ بول وسمی(روغنی پیشاب)
 غیر طبعی پیشاب کے علاج میں یہ درج تھا۔بول غسالی کے علاج کیلئے۔ ضعف جگر و گردہ کی بحث کی طرف رجوع کریں۔ بول غلیظ(گاڑھا پیشاب)اسکا علاج ضعف گردہ کے باب میں ملاحظہ کریں۔
   بول شعری (تاروالے پیشاب )  ملطف و مقطع دوائیں۔ اور پتھری کی دوائیں۔ استعمال کریں۔ (تفصیلی عبارت کی تلخیص۔ ص۷۶۶۔از۔ اکسیر اعظم۔تالیف حکیم محمد اعظم )
 میں نے مطالعہ کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ تو یہ بحث میرے مطالعہ میں آئی”۔۔۔۔پیشاب کی رنگت کے اعتبار سے پانچ قسمیں ہیں:
   ا۔زرد۔ ۲۔سرخ۔ ۳۔ سنبر۔۴۔سیاہ۔ ۵۔سفید۔۔۔۔۔سفید پیشاب یعنی بول ابیض۔ اسکی دو قسمیں ہیں۔
  ۱۔ابیض حقیقی۔ یہ دودھ کی طرح سفید ہوتاہے۔ اس طرح کا پیشاب بلغم۔ اور سردی کی زیادتی سے آتا ہے۔کبھی اس طرح کا پیشاب اس امر کی علامت ہوتا ہے کہ شحم (چربی) یا سمین (رواج) پگھل کر پیشاب میں آرہی ہے۔یاا عضاء اصلیہ پگھل کر آرہے ہیں۔
۲۔شفاحت قارورہ(ابیض مشف)۔ اسمیں کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ اسکو مجازی طور پر سفید کہا جاتا ہے۔  (موجز القانون۔ ص۱۱۶)
پیشاب کی رنگت میں تبدیلی بول زلال سے بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ مذکو ر ہے۔ "جب البومن براہ پیشاب خارج ہونے لگی تب اس مرض کو ڈاکٹری میں البو می نوریاAlbuminuria)۔ ۔۔بول زلالی(کہتے ہیں۔ یہ مرض گردہ کی خاص علامت ہے”۔(مخزن حکمت۔ ج دوم ص ۶۵۰)
حکیم اجمل خاں صاحبؒ ۔ البومی نوریا کے تعلق سے بیان کرتے ہیں۔
 "۔۔۔۔اس بیماری میں گردے ضعیف ہو کر لاغر ہوجاتے ہیں۔ اور گردوں کی چربی انڈے کی سفیدی کی طرح  کا مادہ پیشاب مین خارج ہونے لگتا ہے۔ اس مرض میں گردوں کی ساخت میں خرابی ہوجاتی ہے پیشاب سفید کثیر ا لمقدار۔اور بار بار آتا ہے۔ کمر میں ہلکا ہلکا درد رہتا ہے‘‘۔(حاذق۔ حکیم جمل خاں۔ ص ۴۰۴)
  لیکن بول زلالی میں پیشاب کی رنگت بالکل سفید یا بالکل دودھ کی طرح نہیں ہوتی۔  میں نے سفید پیشاب کی حقیقت جاننے کیلئے اطباء کے معمولات مطب انکے مجربات پر مشتمل کتابوں کو کھنگالنا شروع کیا۔
 ایک حکایت میں سفید پیشاب کا ذکر پڑھا۔
 حکایت:  چھوٹے بچوں کو سفید پیشاب آتا ہو۔ اور چونہ کی طرح سفید ی زمین پر جمتی ہو۔یہ گولیاں
بہت مفید ہیں۔ دال نخود بریاں، سیل کھڑی،گندہ بہروزہ۔ چنے کے برابر وزن کی گولیاں بنائیں۔
   ایک ایک گولی۔ صبح و شام یہ گولیاں بننے کے ۳ دن بعد تک کام کرتی ہیں۔ اسکے بعد انکا فعل جاتا رہتا ہے۔

 (رموز الاطباء ج دوم۔ حکیم محمد فیروز الدین ص۵۲۰ )
 یہاں یہ جان کر اطمینان ہو ا کہ اس جیسے پیشاب کا یہاں تذکرہ موجود ہے۔لیکن علاج ناقابل فہم۔ کہ محض ۳ دنوں بعد۔ ان گولیوں کا اثر جاتا رہے گا۔۔ایک دوسری کتاب میں یہ تفصیل نگاہوں سے گذری۔
"…عام طور پر پانچ سال تک کے بعض بچے پیشاب کرتے ہیں تو سفید ہو کر جم جاتا ہے۔اسکو جریان تو نہیں کہ سکتے۔ بلکہ یہ بچوں کی بد ہضمی کیوجہ سے ہوتا ہے” (مجربات۔ شاہدہ قریشی۔ بحوالہ۔ حکماء کی زندگیوں کا طبی نچوڑ ص۱۱۰)
 مجربات کی ایک دوسری کتاب میں یہ واقعہ پڑھنے کو ملا کہ بچوں کو کبھی گھوڑے کے پیشاب کی طرح سفیدی مائل گدلا پیشاب آنے لگتا ہے جو زمین پر جم جاتا ہے۔اور کبھی اسکے ساتھ قئے اور دست بھی آنے لگتے ہیں یہ سب کچھ ہضم معدہ کی خرابی سے ہوتا ہے”
 ریوند خطائی، شربت ورد۔ایک تولہ، عرق سونف، کے ساتھ کھلائیں۔ اور غذا کی بے اعتدالی رفع کرائیں۔  (مجربات فخر الاطباء۔ حکیم فقیر محمد چشتی۔ ص ۱۳۵)
 افادات مسیح الملک۔میں درج ایک حکایت نے مسام شوق کو مہمیزدی "ایک صاحب نے اپنے بچے کو جسکی عمر ابھی تین سال تھی،مطب میں پیش کرکے اسکی کیفیت بیان کی کہ بچے کو قریب ایک ماہ سے سفید گاڑھا پیشاب آرہا ہے جو تھوڑی دیر کے بعد جم جاتا ہے۔اجابت تھوڑی تھوڑی اور بار بار ہوتی ہے۔پیٹ میں نفخ رہتا ہے،بچہ روز بہ روز دبلا ہوتا جارہاہے۔تشخیص کی گئی کہ بچہ ضعف جگر کی شکایت میں مبتلا ء ہے۔اسکے لئے درج ذیل ادویہ تجویز کی گئیں۔
علاج۔ جوارش مصطگی ۳ ماشہ، ہمراہ شیرہ بادیان صبح شام پلائیں،  شیرۂ دانہ ہیل نبات سفید ۶ ماشہ،  سفوف چٹکی بعد غذا پھنکائیں۔ (حکایت نمبر۔۱۳۔ افادات مسیح الملک۔ حکیم حافظ محمد اجمل )

اسی کتاب میں درج ایک دوسری حکایت سے۔کچھ مزید رہنمائی ہوئی "دو تین ماہ سے ہضم خراب ہے۔ بھوک کم لگتی ہے، قبض رہتا ہے، پیشاب کسی قدر غلیظ آتا ہے۔ کبھی کبھی پیشاب کے ساتھ سفید مادہ بھی خارج ہو تا ہے کمزوری روز برورز بڑھتی جا رہی ہے۔
تشخیص کی گئی کہ ضعف جگر کے سبب سے یہ شکایت لاحق ہوئی ہیں۔ اور پیشاب کے ساتھ غیر منہضم غذا خارج ہوتی ہے۔
انکے لئے مندرجہ ذیل ادویہ تجویز کی گئیں۔
 ۱۔قرص فولاد۔ایک قرص۔۔جوارش جالینوس کے ساتھ صبح شام
۲۔جوارش مصطگی۔ دونوں وقت کھانا کھانے کے بعد۔ ایک ماہ دوا استعمال کرنے کے بعد۔ انکا خط آیا کہ پہلے سے بہت آرام ہے لیکن کمزوری بدستور ہے۔
انکو جواب دیا گیا۔ کہ زیر استعمال ادویہ بدستور جاری رکھیں اور طاقت کیلئے حب خاص۔ایک ایک۔گولی۔کا اضافہ کر لیں۔ (حکایت نمبر ۱۲۹۔افادات مسیح الملک۔ ص ۱۹۱)
 ان حکایات و واقعات کو پڑھکر یہ واضح ہوا کہ ایسا ضعف ہضم و ضعف جگر کی وجہ سے ہوتا ہے۔اور یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ گو کہ یہ مرض چھوٹے بچوں کو ہوتا ہے لیکن بڑی عمر کے لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ میں تفصیل درج ہے۔
 ایک صاحب۔ حکیم محمد ظفر خاں کے مطب میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا "میرے بچے کی عمر پانچ سال ہے۔ ۱۸ گھنٹہ سے پیشاب نہیں ہوا مثانہ پیشاب سے بھرا ہوا ہے۔جسکی وجہ سے بہت بے چین ہے۔بعض اوقات پیشاب زمین پر جم جاتا ہے بچہ کے ہضم کی حالت اچھی نہیں ہے۔
تشخیص
 ہضم کی خرابی سے کیلوسی اجزاء مثانہ میں پہونچ جاتے ہیں۔ اور وہاں منجمد ہوکر حبس بول کی شکایت پیدا کرتے ہیں۔   (مطب عملی۔حکیم حاجی محمد ظفر خاں ص ۲۴۸)  اس واقعہ کو پڑھکر سمجھ آیا کہ ایسا گاڑھا پیشاب مثانہ میں منجمد بھی ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اخراج بول ایک مشکل امر ہوتا ہے۔
 حسب ذیل حکایت کے مطالعہ سے میں بالکل نتیجے تک پہنچ گیا۔
  "ایک صاحب کو پیشاب میں سفید و غلیظ رطوبت آتی تھی۔بعض نے منی خام اور بعض نے ریگ تجویز کیا۔   ڈاکٹرصاحبان نے بھی جدید طریقہ سے جانچ پڑتال کر کے فرمایا کہ۔ شوگر اور کبھی کبھی البومن کے اجزاءمقدار سے زیادہ آجایا کرتے ہیں۔ اندیشہ ذیابیطس وغیرہ کا ہے۔اسلئے ڈاکٹر ی علاج باقاعدہ شروع ہوا۔  لیکن سفید رطوبت کی کبھی بیشی اور کبھی کمی ہو جایا کرتی تھی۔ پورے طور پر آمد بند نہ ہوئی ‘‘۔
 بالآخر حکیم سید شاہ انیس احمد قادری۔ داؤ د نگر ضلع گیا۔کو دکھلا یا گیا۔انھوں نے کہا کہ۔یہ کیلوسی رطوبت ہے۔جو کبد کے ضعف ہضم کے باعث پیشاب کی راہ سے خارج ہوا کرتی ہے۔ اسلئے تقویت اصلاح ہضم معدی و کبدی کی جائے۔ تو یہ رطوبت بند ہو جائے گی۔
حکیم صاحب نے بعد غذا جوارش جالینوس۔ اور صبح کے وقت معجون فلاسفہ ہمراہ عرق مشتہی کھانے کو دیا۔یہاں تک کہ جمیع اعراض و امراض سے اسکو نجات مل گئی۔ (رموزالا طباء۔ ج دوم ص ۵۵۵۔۵۵۶)
 اس حکایت کو پڑھکر واضح ہوا کہ یہ کیلوسی رطوبت ہے۔ جو پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے۔ضعف ہضم و ضعف جگر کیو جہ سے ایسا ہوتا ہے۔ اب مجھے ہضم معدی، ہضم کبدی کا مطالعہ کرنا تھا۔میں نے اس پورے نظام ہضم و انجذا ب کو مطالعہ کا موضوع بنایا۔
 نظام ہضم و انجذاب۔ جب غذا منہ سے براہ حلق معدہ و آنتوں میں جاتی ہے تو اس راستہ میں غذا میں مختلف رطوبات ملنے سے کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ چنانچہ لعاب دہن غذا کے ساتھ ملکر اسے نرم بناتا ہے۔ اور غذا کو قابل ہضم بناتا ہے۔ جب غذا معدے میں پہونچتی ہے تو معدے کا ہضم شروع ہوتا ہے۔اس پر رطوبت معدی تراوش پاکراسکو ہضم کرتی رہتی ہے۔ معدے کے اندر جب غذا ہضم ہوجاتی ہے۔ تب اسکو کیموس Chymeکہتے ہیں، اس کاقوام آش جو کی مانند گاڑھا۔ اور۔ مزے اور بو میں ترش ہوتا ہے۔جس قدر کیموس بنتاہے۔ رفتہ رفتہ معدے سے براہ بواب اثناء عشری  Deodenumمیں گرتا رہتا ہے۔جب کیموس معدے سے اثناء عشری آنت میں آتا ہے تو اسمیں۔ جگر اور مرارہ کی مشترک نالیCommon bileductسے صفرا۔اور۔ رطوبت لبلہ کے ملنے سے غذا کے روغنی اجزاء تحلیل ہونے لگتے ہیں۔ اور اسکی رنگت سفید دودھیا ہوجاتی ہے۔ تب اسکو کیموس Chymeکہتے ہیں۔
   کیلوس یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”رسـ”۔ڈاکٹری اصطلاح میں در حقیقت کیلوس صرف اس دودھیا رطوبت کو کہتے ہیں۔ جو دوران ِہضم چھوٹی آنتوں سے بذریعہ عروق کیلوسیہ یا عروق لبنیہ۔ جذب ہوکر مجریٰ صدر کی راہ خون میں جاملتی ہے۔ (مخزن حکمت ج اول۔ص ۸۱)
 کیلوس اپنی ساخت میں خون کے مشابہ ہوتا ہے۔ یعنی اسکا کچھ حصہ تو آب خون کی طرح سیال ہوتا ہے۔اور کچھ دانہ ہائے خون کی طرح دانے دار ہوتا ہے۔ کیلوس کے دانوں کو کائل کا رپسلز کہتے ہیں۔ خون کے سفید دانے انھیں کیلوس کے دانوں سے بنتے ہیں۔
 ہضم معوی۔ کو سمجھنے کیلئے آنتوں کی ساخت کا سمجھنا ضروری ہے۔آنتوں کا بیرونی طبقہ آبدار جھلی کا ہوتا ہے۔ اسکے نیچے والا حصہ عضلاتی ریشوں کا اسکے نیچے والا خانہ دار ساخت کا جسمیں عروق و اعصاب ہوتے ہیں۔ عضلاتی طبقہ۔ میں گول۔ اور عمودی دو قسم کے ریشے پائے جاتے ہیں۔
  عروق۔ عرق کی جمع ہے۔ جسکے معنی رگ کے ہوتے ہیں۔ عروق کاا طلاق(۱) شرائین (۲)اور دہ(۳) عروق جاذبہ و عروق لبنیہ (۴) عروق خشنہ پر ہوتا ہے۔
   شرائین واوردہ میں خون ہوتا ہے اسلئے انکو عروق دمویہ کہتے ہیں۔ عروق خشنہ سے مراد ہوائی نالیوں کی باریک رگیں۔ جو غذا ہم کھاتے ہیں۔ اسکا بڑا حصہ بشکل فضلات جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ اور کچھ حصہ بشکل خلاصٔہ غذا جسم میں جذب ہو جاتا ہے۔ اس فعل کو انجذاب یا امتصاص کہتے ہیں۔ جن عروق سے یہ فعل انجام پاتا ہے۔ انھیں عروق جاذبہ یا عروق مصّاصہ (Absorbents) کہتے ہیں۔
عروق جاذبہ دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ۔ایک وہ جو آبی رطوبت (لمف۔ بمعنی پانی)کو جذبہ کرکے خون میں پہونچاتی ہیں۔ ان عروق جاذبہ کو انگریزی میں لمفے ٹکس کہتے ہیں۔
 لمف کی رطوبت پانی کی مانند صاف، شفاف بے رنگ قدر ے زردی مائل ہو تی ہے۔ اسکا مزہ نمکین ہوتا ہے۔ اسمیں بونہیں ہوتی۔ یہ پانی کی نسبت بھاری ہوتا ہے۔ (مخزن حکمت ج اول۔ص ۴۸)
جسمانی ساختوں میں جہاں سے لمف تراوش پاتی ہے۔ پہلے با ل سی باریک عروق جاذبہ بنتی ہیں جنھیں لمفے ٹکس کے پی لریز کہتے ہیں۔ پھر ان سے بڑی عروق یا نالیاں بنتی ہیں جنھیں طب میں رواضع کہتے ہیں۔ اسکی سب سے بڑی نالی کو مجری صدر Thorasic duct کہتے ہیں۔
 خون جب عروق شعر یہ میں پہونچتا ہے تو آبِ خون Plasma۔ان عروق کی دیواروں سے تراوش پاکر اعضاء کی ساختوں میں بھر جاتا ہے۔ انھیں سیراب کرتا ہے انکی پرورش کرتا ہے۔ اس تراوش یافتہ آب خون کو لمف (رطوبت لمفاویہ ) کہتے ہیں۔
 چھوٹی آنتوں کی اندرونی سطح پر مخمل کے ریشوں کی طرح بے شمار چھوٹے چھوٹے ابھار پائے جاتے ہیں جنھیں ’’ولائی‘‘ کہتے ہیں۔ ہر ایک ابھار یار یشہ گو یا۔ ایک چھوٹی سی جاذب نالی ہوتاہے۔ یہ ابھار۔ بالخصوص صائم”Jejunum”۔ اور دقاق "ilium”میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جب کیلوس(دودھ جیسی سفید رطوبت ) ان مخملی ریشوں پر بہتا ہے۔تو وہ انکو جذب وجمع کر کے مجری صدر Thorasic duct۔ میں پہنچا دیتے ہیں۔ ان عروق کو عروق کیلوسیہ یا عروق لبنیہ کہتے ہیں۔ انگریزی میں Lactealsکہتے ہیں۔
عروق جاذبہ کی ساخت مثل وریدوں کے ہوتی ہے۔ ان میں کواڑوں کی کثرت ہوتی ہے۔ انھیں کی کثرت سے انکی شکل تسبیح کے دانوں کی طرح دانے دار ہوتی ہے۔ غذا کے بقیہ اجزاء ہضم ہو کر رقیق ہوجاتے ہیں۔ تو انکو زیادہ تر عروق ماسار یقیہ جذب کرتی ہیں۔ اجزاء  نشاستہ۔ آنتوں میں ہضم ہو کر شکر میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ تو شکر بھی رطوبت امعاء میں تحلیل ہو کر زیادہ تر عروق ماسار یقیہ  کے ذریعہ جذب ہوتی ہے۔غرضکیہ غذائی مواد کا اکثر حصہ چھوٹی آنتوں میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔ اسکے بعد غذا بڑی آنت میں چلی جاتی ہے۔ بڑی آنتوں میں بھی کسی قدر انجذاب کاعمل ہوتا ہے۔
 جگر کے افعال میں سے ایک خاص فعل صفراء پیدا کرنا ہے، صفرا جگر میں پیدا ہوتا ہے۔ ’’صفراء ہی پے ٹیک سیلز‘‘ بناتے ہیں۔
صفرا غذا کے روغنی اجزاء کو قابل ہضم وجذب بناتا ہے،صفراء آنتوں میں غذا کو متعفن وفا سد نہیں ہونے دیتا۔ صفرا ء ایک قدرتی و طبعی مسہل ہے۔ یہ آنتوں کے غدود میں تحریک پیدا کرکے رطوبات مواد کے اخراج کو بڑھادیتا ہے۔ صفراء سے ورید باب الکبدکا خون صاف ہوتا ہے۔جگر گلائکوجن یا حیوانی نشاشتہ بناتا ہے غذا کا نشاشتہ آنتوں میں شکر انگوری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر آنتوں سے یہ ساری شکر منجذب ہو کر بذریعہ باب الکبد، جگر میں پہنچتی ہے۔پھر جگر اسکو حیوانی نشاشتہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔جو چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں جگر میں جمع رہتا ہے۔اور پھر حسب ضرورت۔ شکر میں تبدیل ہو کر خون میں ملتا رہتا ہے۔
 ’’بول ابیض‘‘ اصلاََ’’ کیلوسی بول ‘‘ہے جو نظام ہضم و جذب کی خرابی سے بشکل پیشاب خارج ہوتا ہے۔ اور اس بول کیلوسی کی و جوہات و اسباب جو استاذ الاطباء نے بیان کی ہیں۔ اسکو ایک بار پھر ذہن میں تازہ کر لیں تو۔ آگے۔ انشاء اللہ(تحقیق کی) کچھ نئی راہیں کھلیں گی۔
  "۔ اس طرح کا پیشاب بلغم۔ اور سردی کی زیادتی کیوجہ سے ہوتاہے۔  (موجزا القانون۔ ص ۱۱۶)
"ایسا پیشاب معدہ کے ہضم کی خرابی کیوجہ سے ہوتا ہے۔ (مجربات فخر الااطباء ص ۳۵ )
"ایسا پیشاب ضعف جگر کیوجہ سے ہوتا ہے۔ پیشاب کے ساتھ غیر مہضم غذا خارج ہوتی ہے(افادات مسیح الملک۔ ص ۱۹۱)
 "ہضم کی خرابی کیوجہ سے کیلوسی اجزاء مثانہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ ( مطب عملی۔ص ۲۴۸)
 ” یہ کیلوسی رطوبت کبد کے ضعف ہضم کے باعث پیشاب کی راہ سے خارج ہو اکرتی ہے۔اسلئے تقویت اصلاح ہضم معدی و کبدی کی جائے تو یہ رطوبت بند ہو جائے گی۔(رموز الاطباء ج دوم ص ۵۵۵)
 بول کیلوسی کے علاج کے ذیل میں جب اہم اطباء قدیم کے معمولات مطب پر غور کرتے ہیں۔ تو یہی۔ دو اہم دوائیں ہیں۔ جن سے وہ اس موذی مرض کا استیصال کر دیتے تھے۔
 ۱۔ جوارش جالینوس۔ ۲۔جوارش مصطگی
  اسکے علاوہ۔ دو تین دوائیں جیسے قرص کشتہ فولاد، سفوف چٹکی، معجون فلاسفہ۔ معاون دوا کے طور پر ہیں۔
  ہم بالترتیب۔ان دواؤں کے فوائد پر بطور خاص نظر ڈالتے ہیں،
 جوارش جالینوس
’’…امراض معدہ میں خاص تاثیر رکھتی ہے۔ (کتاب المرکبات۔ حکیم سید ظل الرحمان صاحب۔ ص ۳۶)
  ’’…دیگر فوائد کے ساتھ، مثانہ اور گردہ کو فضلات سے پاک کرتی ہے۔ (مخزن المرکبات۔ حکیم و ڈاکٹر غلام جیلانی۔ْص ۳۶)
  ’’…اس جوارش میں بہت سی خاصیتں ہیں، تمام اعضاء بدن کو قوت دیتی ہے۔ ۔پیشاب کی کثرت کو دور کرتی ہے، جو کہ سردی کیوجہ سے ہو۔   (بیاض خاص۔ المعروف بڑی بیاض، علامہ حکیم کبیرالدین۔ ص ۳۵۶)
 ’’اس جوارش کی خاصیتں بہت ہیں۔ اعضاء کو قوت دیتی ہے، دافع درد و ہاضم طعام ہے۔(مخزن المجربات۔ حکیم محمد اعظم خاں۔ ص ۷۵)
  جوارش مصطگی
  ’’…آلات ہضم کی برودت کوختم کرتی ہے۔معدہ، جگر، امعاء کو تقویت دیتی ہے۔ (کتاب المرکبات حکیم سید ظل الرحمان صاحب۔ ص ۴۴)
  ’’…معدے کی رطوبتوں کو خشک کر تی ہے۔ جگر کو گرم کرتی ہے۔ پیشاب کی زیادتی اور دستوں کو بند کرتی ہے۔( مخزن المرکبات۔ غلام قادر جیلانی۔ ص ۴۸)
 ’’…معدے اور جگر کی سردی کیلئے مفید ہے۔بلغم کو دفع کرتی ہے۔ (بیاض خاص۔ المعروف بڑی بیاض۔ ص ۳۶۷)
 ’’…معدے اور جگر کی سردی۔ اور کمزوری کو دور کرتی ہے۔ (بیاض کبیر ج دوم۔ ص ۳۰)
  معجون فلاسفہ
 اسکو مادۃ الحیٰوۃ کہتے ہیں۔ یہ قوت باہ کو بڑھاتی ہے۔ دل۔ اور ہاضمہ کو قوت دیتی ہے، بھوک لگاتی ہے۔ (بیاض خاص۔ بڑی بیاض۔ ص ۶۹۹)
 "…آلات بول کی تمام خرابیوں کو دور کررتی ہے۔        (مخزن المرکبات۔ ص ۳۵۶)
 "…پیشاب کی زیادتی میں خاص مفید ہے۔ (کتاب المرکبات حکیم سید ظل الرحمان صاحب۔ ۱۶۷)
 قرص کشتہ فولاد
 ’’…معدہ و جگر کو قوت دیتا ہے، غذا کو ہضم کرتا ہے۔ (مخز ن المرکبات۔ ص۲۸۷)
 سفوف چٹکی
 بچوں کے دست، بدہضمی۔ اور نفخ میں خاص طور پر مفید ہے۔(کتاب المرکبات۔ حکیم ظل الرحمان۔ ص ۸۹)
 مذکورہ تمام دوائیں، معدہ،جگر، امعاء پر خاص اثرات رکھتی ہیں۔ اور ہضم کی بطور خاص اصلاح کرتی ہے۔معدہ و جگر کی برودت کا زالہ کرتی ہیں مثانہ وگردہ کو فضلات سے پاک کرتی ہیں۔ پیشاب کی زیادتی کو دور کر تی ہیں۔
 جب ہم ان مرکبات میں شامل۔ مفردات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ ۔۔جوارش جالینوس اور جوارش مصطگی۔ دونوں کا جزء خاصـ”مصطگی”ہے۔ اسکے بعد زعفران ہے۔ اور پھر عود بلساں۔ بول کیلوسی کے ازالے میں مصطگی کا خاص رول ہے۔
 مصطگی۔      کا سرریاح، ہاضم،دافع تعفن افعال کی بناء پر۔ضعف معدہ، اسہال، نفخ شکم سوء ہضم، میں استعمال کراتے ہیں۔ ( یونانی ادویہ مفردہ، حکیم صفی الدین۔ ص ۱۷۴)
مصطگی۔      مقوی معدہ و جگر ہے، معدہ، جگر، اور قوت ہاضمہ کو قوت دیتی ہے۔ (تاج المفردات۔ حکیم نصیر احمد طارق۔ ص۶۸۶)
  مصطگی۔      مقوی معدہ، ہاضم، کا سرریاح، اور قابض ہے، مزاج گرم خشک ہے۔ (منافع المفردات۔ ڈاکٹر محمد یوسف انصاری۔ ص ۲۰۶ )
 زعفران        ۔ ورم جگر۔ ورم ر حم کو تحلیل کرنے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔مقوی قلب و دماغ و جگر ہے۔(ص ۵۹۴تاج المفردات۔)
زعفران کی معمولی مقدار سے، معدی رطوبات کے افراز کو تحریک۔ اور زیادہ مقدار سے رحم کے غیر ارادی عضلات کو تحریک ملتی ہے۔ مزاج گرم خشک۔      (منافع المفردات۔ ص ۱۶۷)
 عود بلساں۔ مقوی و محرک اعصاب و مقوی معدہ ہے۔(منافع المفردات ص ۴۶  )
 جوارش جالینوس کے نسخے میں۔ دیگر بیشتر قرابا دین میں زعفران دیگر ادویہ کے ہی وزن کے مطابق شامل ہے۔ اور مصطگی کے وزن میں فرق ہے۔ جیسے
"…سعد کوفی، سونٹھ، مرچ سیاہ، فلفل دراز، قسط شیریں، عود بلساں، زعفران، ہر ایک سات ماشہ۔ مصطگی۔ ایک تولہ۔( مخزن المرکبات۔ ص ۳۶)
 "سعد کوفی زنجیل، فلفل سیاہ، قسط شیریں، عود بلساں، اسارون، چرائتہ شیریں، زعفران، ہر ایک ۷ گرام مصطگی ۲۱ گرام (کتاب المرکبات۔ ص ۳۶)
 "…عود بلساں۔ اور۔ دیگر دود رم، زعفران دودرم۔(مخزن المجربات۔ ص ۷۵)
 "…سعد کوفی، زنجیل، فلفل سیاہ،فلفل دراز، قسط شیریں، عود بلساں، اسارون، زعفران، ہر ایک دو تولہ، مصطگی ۵ تولہ۔ (بیاض کبیر ج دوم۔ ص ۲۲)
 اگر زعفران کو دیگر ادویہ کی  طرح ہی نسخے میں شامل کریں گے تو دوا بہت مہنگی ہو جائے گی۔ مریض کیلئے یہ بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں ہمیں قرابا دین مجیدی کا نسخہ جوارش جالینوس بہت عملی لگا ہم اسی نسخہ کے مطابق بناتے ہیں۔
نسخہ:         اسارون                        الائچی کلاں، بالچھڑ،                پکھان بید،     پیپل کلاں،
  ۲۲۰ گرام                     ۲۰۰گرام              ۲۰۰گرام                ۱۵۰گرام    ۲۲۰گرام
    تج،    چرائتہ شیریں،        حب الآس      خولنجان،             زنجیل،                دار چینی
   ۲۲۰گرام        ۱۰۰ گرام             ۲۰۰گرام              ۲۲۰گرام              ۲۲۰گرام                ۲۰۰گرام
   سعد کوفی،      عود بلساں              فلفل سیاہ،      قرنفل،                 قسط شیریں، زعفران،
۲۰۰گرام              ۵۰گرام                ۲۰۰ گرام             ۱۰۰گرام             ۲۰۰گرام               ۲۱گرام
مصطگی،             قوام شکر۔
۳۵۷گرام،             ۱۰ کلو                        (قرابا مجیدی۔ ص ۴۶)
  بیاض کبیر ج دوم۔ ص ۲۲ پر درج نسخہ جوارش جالینوس سے اسکا موازنہ کریں۔ یو ں تو ہندوستان کہ بیشتر یونانی دوا ساز کمپنیاں بیاض کبیر کے نسخہ کے مطابق بھی دواسازی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ کیا وہ زعفران کو مذکورہ مقدار میں شامل کرتی ہیں ؟؟
  ہم جوارش جالینوس، اور جوارش مصطگی، اور دیگر ادویہ قرابا دین مجیدی کے مطابق بناتے ہیں۔
میں نے سفید پیشاب کے مرض میں مبتلا ء بچے کے علاج میں کئی تبدیلیاں کیں۔ اور دواؤں کو آزمایا۔بالآخر حسب ذیل نسخے کے استعمال سے بحمدللہ مجھے کامیابی ملی۔ چھوٹے بچوں کیلئے میں حسب ذیل ترتیب سے دوائیں دیتا ہوں۔ اور بڑی عمر کے مریضوں کو تھوڑی تبدیلی کے ساتھ۔
 ھوالشافی 
 جوارش مصطگی( خانہ ساز)   ایک چمچہ (۱۰گرام) صبح نہار منہ
۔جوارش جالینوس( خانہ ساز)   آدھا چمچہ (۵گرام ) صبح و شام بعد غذائیں۔ ہمراہ قرص کشتہ فولاد۔ ایک ایک ٹکیہ۔
سفوف چٹکی۔ ۱۰ گرام رات سوتے وقت اور بڑی عمر کے مریض ہیں تو بجائے سفوف چٹکی کے
 معجون فلاسفہ( خانہ ساز)   ایک چمچہ رات کو سوتے وقت۔
الحمدللہ میرا پہلا مریض۔ اسی ترتیب علاج سے مکمل ٹھیک ہوا۔اگو کہ اس مرض میں مبتلا ء مریض کا فیصد بہت کم۔لیکن اس طرح کے مریض میرے مطب پر ابتک ۶،۷آئے ہیں سبھی۔ مذکورہ بالا علاج سے ٹھیک ہوئے۔الحمدللہ
 اکتوبر ۲۰۱۸ کی بات ہے۔علیگڑھ میں میرے سینئر بھائی جو اعظم گڑھ شبلی کالج میں لیکچرر ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو لیکر میرے مطب پر آئے بیٹے کی عمر بمشکل ۱۳؍ سال تھی۔ کہا اسی کے علاج کیلئے پریشان ہوں۔ اسکو سفید پیشاب آتا ہے۔یہ دیگر ڈاکٹر س کے پرچے ہیں۔ آپ دیکھ لیں۔ میں نے دیکھاجناب ڈاکٹر امیر عالم صاحب۔ MBBS M.Sکا پرچہ 2.6.18کی Date تھی اور نیچے دوائیں لکھی تھیں۔ پھر اسکے بعد دوسرا پرچہ جناب ڈاکٹر محمد اظفر صاحب کا تھا MBBS. D.C.Hانھوں نے اپنے پرچے میں خاص شکایت کے ذیل میں لکھا تھا۔ Hard stool. white urine painfull micturation۔اور پرچے پر تاریخ درج تھی۔8.8.18…15.8.18۔ اسکے بعد تیسرا پرچہ۔ جناب ڈاکٹر واحد علی صاحب  MBB.S.D.C.H کا تھا تاریخ 6.9.18درج تھا۔  اسکے بعد 4.10.18کو وہ میرے مطب پر آئے تھے۔ میں نے انھیں تسلی دی کہ آپ بالکل نہ گھبرائیں بچہ آپ کا انشاء ا للہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے۔ اپنے معمول مطب نسخے کے مطابق ہی دوا دی۔
ھوالشافی             
  جوارش مصطگی (خانہ ساز)   ایک چمچہ (۱۰گرام)صبح نہار منہ
جوارش جالنوس (خانہ ساز )۔ آدھا آدھا چمچہ۔  ہمراہ قرص کشتہ فولاد۔ ایک ایک ٹکیہ  صبح وشام بعد غذائین
  دس دن کیلئے دی۔
مذکورہ بالاعلاج سے بچہ بحمدللہ مکمل طور پر صحتمند ہو گیا۔انھوں نے دوبارہ آکر خوشی خوشی مجھے بتایا۔ میں نے انھیں اسی دوا کو ایک ماہ تک استعمال کرنے کی صلاح دی۔
 میں اپنے تجربے کو اسلئے عام کررہا ہوں کہ جو اطباء جہاں بھی یونانی میں مطب کررہے ہیں۔ وہ پورے اعتماد سے مطب کر یں۔ اور بول ابیض کے علاج میں میرے تجربے سے فائدہ اٹھائیں انشاء اللہ مریضوں کو شفا ء بھی ملے گی اور دعا بھی۔ لیکن شرط ہے کہ جوارش مصطگی میں مصطگی شامل ہو۔اور جوارش جالنوس میں اجزاء پورے ڈالے گئے ہوں۔ و گرنہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ افسوس کہ غیر معیاری دواؤں سے مارکیٹ بھری پڑی ہے۔ اور انھیں غیر معیاری دواؤں نے یونانی اطباء کو یونانی طریقہ ٔ علاج سے بیزار کر دیا ہے۔یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
 یہ میرے مطب کا عملی تجربہ و مشاہدہ ہے جسے میں نے بلا کم وکاست بیان کر دیا۔ لیکن بول کیلوسی کے علاج کے ذیل میں ان تجربات کی روشنی میں ریسرچ و تحقیق کی شدید ضرورت ہے۔ آخر جس مرض کے علاج میں ایلو پیتھ اب تک ناکام ہے یونانی میں اسکا شافی علاج موجود ہے۔ہم اسے ریسرچ وتحقیق کے ذریعہ مزید آسان و موثر بنائیں …کاش کی یونانی ریسرچ و تحقیق کے ادارے (بالخصوص سی سی آر یو ایم۔ نئی دلی )اس جانب توجہ کریں …اے کاش!  (وما علینا الّاا لبلاغ)
المراجع والمستفادات
۱۔اکسیر اعظم۔تالیف حکیم محمد اعظم۔ ۔مکتبہ دانیال۔غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور
 ۲۔موجزالقانون۔ کوثر چاند پور ی۔ترقی اردو بیورو۔ نئی دہلی۔ ۱۹۸۸؁
 ۳۔مخزن ِحکمت۔ ج اول ودوم ڈاکٹر و حکیم غلام جیلانی۔ اعجاز پبلشنگ ہاؤس۔ نئی دہلی ۱۹۹۴ء؁
۴۔حاذق۔ حکیم اجمل خاں۔ بیسویں صدی پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ۔مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس۔ نئی دہلی۔ ۲۵ جون ۲۰۰۰ء؁
 ۵۔رموز الا طباء۔ ج دوم۔حکیم محمد فیروز الدین۔ اردو بازار لاہور۔ حکماء کی زندگیوں کا طبی نچوڑ۔ تالیف و تحقیق۔ حکیم محمد طارق محمود چغتائی۔ فرید بک ڈپو۔ نئی دہلی۔ نومبر ۲۰۰۳ء؁
۶۔مجربات فخر الاطباء۔ حکیم فقیر محمد چشتی۔ اعجاز پبلشنگ ہاؤس ۱۹۹۴ء؁
 ۷۔افادات مسیح الملک۔ افادات عملی۔ حکیم حافظ محمد اجمل۔ بیسویں صدی۔ پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ۔ نیتا جی سبھاش مارگ۔ دریا گنج۔ نئی دہلی۔ ۱۹۹۰ء؁
 ۸۔مطب عملی۔ حکیم حاجی محمد ظفر خاں
 ۹۔ مخزن المرکبات۔ حکیم و ڈاکٹر غلام جیلانی۔ ۔اعجاز پبلشنگ ہاؤس۔ نئی دہلی۔۱۹۹۵ء؁
 ۱۰۔کتاب المرکبات۔ حکیم سید ظل الرحمن۔ لیتھو کلر پرنٹرس علیگڑھ۔ مسلم یو نیورسٹی علیگڑھ۔ ۱۹۹۱ء؁
 ۱۱۔بیاض کبیر ج دوم۔ علامہ
 حکیم کبیر الدین۔ ۔حکمت بک ڈپو۔ حیدرآباد
۱۲۔تاج المفردات۔حکیم نصیر احمد طارق۔۔ایس ایچ آفسیٹ پریس۔ نئی دہلی جولائی ۲۰۰۴ء؁
۱۳۔منافع المفردات۔ ڈاکٹر محمد یوسف انصاری۔ اعجاز پبلشنگ ہاؤس۔ کوچہ چیلان دریا گنج نئی دہلی ۲۰۰۹ء؁
 ۱۴۔بیاضِ کبیر خاص المعروف۔ بڑی بیاض۔ مترجم علامہ حکیم کبیر الدین صدیق پبلیکیشنز لاہور۔ اردو بازار
۱۵۔مخزن المجربات۔اردو ترجمہ۔ قرابا دین اعظم۔ حکیم اعظم خاں مکتبہ دانیال۔ غزنی اسٹریٹ۔ اردو بازار لاہور
۱۶۔یونانی ادویہ مفردہ۔حکیم صفی الدین۔ ترقی اردو بیورو نئی دہلی ۱۹۹۳ء

Post Top Ad

Your Ad Spot