Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, August 10, 2019

”پردیس کی عید“۔۔۔۔۔۔ایک افسانہ۔

از قلم / ظفر امام کشنگنجی۔/صداٸے وقت۔
____________________________
                                دن ڈھل چکا تھا ، سورج اپنی سنہری اور روپہلی کرنوں کو اپنے دامن میں سمیٹ رہا تھا ، شام کی سیاہی تیزی کے ساتھ وادیوں میں پھیل رہی تھی ، افقِ مغرب میں اکی دکی تیرتی ہوئی ابر کی ٹکڑیاں سرخ ہو رہی تھیں ، پرندے اپنے آشیانوں کے رخ کر رہے تھے ، اور واثق تھا کہ اس وقت تک اپنی ڈیوٹی میں لگا تھا ، تھکن سے چور اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے کسی موتی کے مانند جھلملا رہے تھے ، بار بار وہ ان پسینوں کو رومال سے صاف کرتا اور پھر اپنے کام میں لگ جاتا ، بظاہر وہ اس وقت بھی اپنے لبوں پر مسکان سجائے رکھا تھا ، لیکن! اس کے اندر کی دنیا باہر سے یکسر جداگانہ تھی ، درد و کرب اور حسرت و یاس کی ایک کیفیت اس کے سینے میں موجِ زن تھی ، اس کی سماعت کے پردے تصورات کی دنیا میں اب بھی کسی آواز کے سننے کو بےتاب تھے ، اور بےساختہ اس کی اداس نگاہیں بار بار سامنے کی طرف دور تک اٹھ جاتی تھیں ، لیکن وہاں سوائے سناٹے اور تاریکی کے اسے کچھ نظر ہی نا آتا تھا ، ناچار وہ ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنے تصورات کی دنیا سے باہر نکل آتا اور پھر اپنے آقا کے حکم کی بجا آوری کے لئے تیار 
ہوجاتا ؛
ظفر امام کاشگنجی

                    آج عید کا دن تھا ، صبح ہی سے گلی کوچوں میں خوشیوں کے گیت گائے جا رہے تھے ، ہر طرف چہل پہل کا سماں تھا ، فضا میں بادِ صبا کی خوش خرامیاں محوِ وجد تھیں ، ہفتوں پہلے ہی سے لوگ اس کی تیاریوں میں مصروف تھے ، اور آج تو وہ جی بھر کر اس سے لطف اٹھا رہے تھے ، لیکن واثق! عید کی ساری خوشیوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے وطن سے ہزاروں میل دور اپنے فرضِ منصبی کو ادا کرنے میں اب تک لگا تھا ، تنہائی کا احساس اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا ، دیارِ غربت کی یہ سجی سنوری گلیاں اسے وحشت نما محسوس ہو رہی تھیں ، گلہائے رنگا رنگ میں ڈوبا یہ سماں اسے پھیکا پھیکا محسوس ہورہا تھا ، اور اب تو شام ہوچلی تھی ، لیکن اب بھی اس کی بےقرار نگاہیں کسی کی راہ تک رہی تھیں ، اس کا بےتاب دل کسی آواز کے سننے کو مچل رہا تھا ؛


             واثق جس دکان میں کام کر رہا تھا ، وہاں سے یہی کوئی چند قدم کے فاصلے پر اندر کی طرف جو ڈھلوان نما گلی جاتی تھی ، اور آگے جاکر ایک تنگ راستے کی جانب مڑتی تھی ، ٹھیک اسی نکڑ پر میرا گھر آباد تھا ، واثق سے میری اسی دن سے شناسائی تھی جس دن وہ اس محلے میں پہلی بار آیا تھا ، میں اس کے آنے سے پہلے ہی اس دکان میں سامان وغیرہ خریدنے کے لئے اکثر جایا کرتا تھا ، ایک دن جب میں سامان لانے گیا تو دیکھا کہ ایک نو وارد شخص نہایت شائستہ اور مہذب انداز میں مجھ سے سامان کی تفصیل پوچھ رہا ہے ، میں نے اپنی جیب سے سامان کی فہرست نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا تھا ، چہرے پر تبسم اور لبوں پر پھیلی اس کی مسکراہٹ کی لکیروں نے مجھے کافی متاثر کیا تھا ، گفتگو کا شیریں انداز اور رَس بھری اس کی آواز نے مجھے اپنا فریفتہ بنا لیا تھا ، " خود غرضی اور مطلب پرستی کے اس دور میں بھی کوئی شخص اتنے خلوص اور خوش اخلاقی کا مالک ہوسکتا ہے"؟ یہ سوچتے ہوئے میں کچھ پل کے لئے اس کے سراپے میں کھو گیا تھا ، اور جب مجھے ہوش آیا تھا تو دیکھا کہ وہ شخص سامان کی زنبیل میرے ہاتھ میں تھما رہا ہے ، میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے  سرگوشیانہ انداز میں کہا تھا کہ :- " محلے والے مجھے رشید کہتے ہیں اور آپ کو ؟ مطلب آپ کا نام کیا ہے"؟ تو دھیمے سے اس نے اپنا نام واثق بتایا تھا ، نہ جانے اس نام کے ساتھ مجھے کون سی انسیت اور محبت پیدا ہوگئی تھی کہ پہلی ہی ملاقات میں اس کے ہاتھوں اپنے دل کا سودا کرلیا تھا ، اس کے بعد میں ہردن کسی نہ کسی بہانے ایک بار ضرور اس سے ملنے جایا کرتا ، اور شاید وہ بھی سراپا منتظر بنا میری ہی راہ تک رہا ہوتا کہ اجنبیت کے اس شہر میں میرے علاوہ  اس کے قریب اور تھا ہی کون ؟ سو مجھے دیکھتے ہی اس کا چہرہ گلنار ہوجاتا ، اور لبوں پر وہی مقناطیس سی مسکراہٹ کی لکیر دوڑجاتی ؛
                اِدھر مانو وقت کو جیسے پر لگ گئے ہوں ، دن گزرتے گئے ، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں  تبدیل ہونے لگے اور اُدھر ہماری رفاقت اور دوستی بھی پروان چڑھتی چلی گئی ، یہانتک کہ ہماری دوستی کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا ، لیکن دوستی میں وہی جدت ، وہی رعنائی ، وہی شگفتگی اور وہی تازگی اب بھی موجود تھی جو آج سے ایک سال پہلے ، پہلی ملاقات کے وقت پیدا ہوئی تھی ، بلکہ اب تو اس میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا تھا ، کہ اب ہم دونوں ایک دوجے کے راز دار بھی بن گئے تھے ، باہمی راز و نیاز کی باتیں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرتے ، اور کبھی فرصت کے لمحات میں دور کسی پارک کی اور نکل جاتے اور وہاں بیٹھے گھنٹوں باتیں کرتے جس میں خوشی و مسرت کے ساز بھی ہوتے اور درد و غم کے سوز بھی ، کبھی ہمارے مسرت انگیز قہقہے فضا میں گونجنے لگتے تو کبھی درد آفریں سسکیوں کی آوازیں خلا میں تحلیل ہوجاتیں ، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے افقِ عالم پر عید کا دن مکمل آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوگیا ؛
            کیونکہ آج عید تھی ، اس لئے صبح ہی سے میں گھر کے کاموں اور مہمانوں کی خاطر تواضع میں کچھ ایسا الجھا تھا کہ با وجودیکہ اس بیچ واثق سے ملنے کے مواقع ڈھونڈھتا رہا ، لیکن کوئی موقع ہاتھ نہ لگا ، ادھر میں تھا کہ اس کی مسکراہٹ دیکھنے کو بےتاب تھا ، سو جلدی جلدی اپنے کاموں کو سمیٹنے لگا ، اور اب رات ہوئے فرصت ملی تھی ، سو بھاگا بھاگا واثق سے ملنے چلا آیا ، لیکن آج مجھے وہاں وہ واثق نظر نہ آیا جو آج سے پہلے آیا کرتا تھا ، دیکھا کہ واثق اپنے گرد و پیش سے بےخبر اپنے خیالات کی دنیا میں گم ہے ، اس کی سپاٹ نگاہوں میں اشکوں کی تریاں رقص کر رہی ہیں ، مجھے دیکھ کر اس نے دھیرے سے مسکرایا اور پھر اپنے خیالات کی وادیوں میں کھوگیا ، نہ جانے آج اس کی مسکراہٹ میں درد و الم کی کون سی دنیا سمٹی ہوئی تھی کہ جس نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، میں ایک دم سٹپٹایا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نہایت نرم لہجے میں پوچھا ، کیا ہوا دوست! آج تم اتنے غمگین کیوں ہو ؟ تمہاری مسکراہٹ میں آج اداسیوں کا یہ سمندر کیوں کر امڈ آیا ہے ؟ وہ جو مجھے دیکھتے ہی پھر سے اپنے خیالات کی دنیا میں کھوچکا تھا میری باتیں سن کر ایک دم سے چونک پڑا اور " نہیں ، کچھ نہیں " کہتے ہوئے میرا بھرم رکھنے لگا ، لیکن میرا دل تھا جو کہہ رہا تھا کہ :- " نہیں! کچھ تو ہے جس کو وہ مجھ سے چھپا رہا ہے"، سو میں نے اسے اپنی دوستی کی سوگندھ دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب بھی کوئی ایسی بات ہے جسے تم مجھ سے کہنے میں ہچکچاہٹ اور عار محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں دوست! " وہ آج عید  ہے نا ، اس لئے گھر کی یاد آگئی تھی ، تم کتنے خوش نصیب ہو کہ اپنے گھر میں ہو ، ماں باپ کی نگاہوں کے سامنے ہو ، عید کی خوشیاں ایک دوسرے سے اشتراک کر رہے ہو ، اور میں کتنا بدنصیب ہوں کہ آج عید کے دن بھی اپنے گھر سے کوسوں دور ہوں ، نہ کوئی خوشی نہ کوئی مسرت ، بس میں ہوں اور میری اداسیاں ، ہم پردیسیوں کے لئے یہ عید اور تہوار کوئی معنی نہیں رکھتے ، ہمارے لئے خوشی اور غم دونوں یکساں ہیں ، لیکن! اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں ، یہ تو اپنے اپنے نصیب کی باتیں ہیں جنہیں کاتبِ تقدیر نے ہر ایک کی قسمت میں مسطور کر دیا ہے ، یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں اور اس کی آواز ڈوب گئی تھی ،" اور میں تھا کہ دَم بخود سا کسی بےجان مورت کی مانند اس کی باتوں کو سنے جا رہا تھا ، جب وہ اپنی باتیں مکمل کرچکا تو میں نے کہا کہ " پھر کیوں نہ اپنے وطن چلے گئے؟ کچھ دن وہاں رہ کر تازہ دم ہو کر آتے " تو اس نے حسرت و یاس کا ایک جہاں اپنی گفتگو میں سمیٹتے ہوئے کہا کہ دوست! "ہم تو ان پنچھیوں کے مانند ہیں جو تنکا تنکا جوڑ کر اپنا آشیانہ بناتے ہیں ، اور اگر پنچھیاں اپنے آشیانے سے تنکے کو ہی نوچ ڈالیں تو پھر ان کے آشیانے کا جو حشر ہوگا وہ کسی پر مخفی نہیں" ؛
                  خلافِ توقع آج اس کی زبان سے اس طرح کی باتیں سن کر مجھے کچھ عجیب سا لگا ، سو میں نے نہایت ملتجیانہ انداز میں اس سے اپنی مکمل سرگزشت سنانے کو کہا ، اس کے بعد اس نے ایک سرد آہ ہوا میں خارج کرتے ہوئے مجھے اپنی جو کہانی سنائی اس نے میرے تن بدن میں جھرجھری کی ایک لہر پیدا کردیا ، کہنے لگا کہ دوست! میں ایک غریب گھرانے کی امیدوں کا آخری چراغ ہوں ، گھر میں میری بیوی اور بچوں کے علاوہ بوڑھے والدین اور دو جوان بہنیں بھی ہیں ، مجھ سے بڑا میرا ایک بھائی ہے ، لیکن وہ شادی کرکے اپنا گھر بار سب کچھ الگ کرلیا ہے ، ماں باپ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ، میں تنہا ایک جان ہوں ، جو اپنی بیوی بچوں کا سہارا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بوڑھے والدین کا بھی آسرا ہوں ، اور میری بہنیں ہیں کہ ان کی امیدوں کے چراغ بھی میری ہی وجہ سے روشن ہیں کہ ابھی مجھے ان کے بھی ہاتھ پیلے کرنے ہیں ، میں ایک ایک تنکا جوڑتا ہوں اور اپنا آشیانہ بناتا ہوں ، اب اگر میں اپنی آمدنی کی ساری راہیں مسدود کرکے گھر چلاجاتا تو میرے اس آشیانے کا کیا ہوتا ؟ جس کو میں نے برسوں سے تنکا تنکا جوڑ کر بنایا ہے ، اور ان ساروں کی امیدوں کے چراغوں کا کیا ہوتا ؟ جو صرف میری ہی آمدنی سے روشن ہیں ، میں اپنے آشیانے کی تخریب کاری کے ساتھ دوسروں کے چراغ کو بجھانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ، سو میں نے اپنے کلیجے پر پتھر رکھ لیا ، اور وطن جانے کا خیال دل سے خارج کردیا ، لیکن چونکہ آج عید ہے ، اس لئے بےساختہ مجھے وطن کی یاد آگئی تھی "، یہ کہتے ہوئے اس کا دل تڑپ اٹھا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دو موٹے موٹے قطرے موتی کی طرح ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئے تھے ؛
                     آج پہلی بار اس کی یہ باتیں سن کر مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ وہ اندر سے کتنا ٹوٹا ہوا ہے ، اور اس کا باطن ظاہر سے کس درجہ مختلف ہے ، میں نے اس سے لاکھ درخواست کی کہ وہ آج میرے گھر چلے اور میرے ساتھ خوشیاں منائے ، لیکن! اس کی خود دار طبیعت اس بات پر آمادہ نہ ہوئی ، ناچار میں وہاں سے بوجھل قدموں اور نمناک آنکھوں کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل پڑا کہ کیا " آج وہ جن بچوں ، بہنوں اور والدین کی خاطر اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ رہا ہے ، اپنی زندگی کو ان کی آسائش کے لئے قربان کر رہا ہے ، کل مستقبل میں وہ اس کی قربانیوں اور وفا شعاریوں کا بھرم رکھ پائینگے ؟ اور وہ اس کے احسان کا بدلہ چکا پائینگے " ؟
                       *ظفر امام ، کشنگنجی*
                      *دارالعلوم " المعارف "*
                     *کارکلا ، اڈپی ، کرناٹک*
                      *۸/ ذی الحجہ ١۴۴۰ھ*
                     *10/ اگست 2019ء*

Post Top Ad

Your Ad Spot