Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, October 25, 2019

غیر مسلم سے شادی شدہ مسلم لڑکی کی خود کشی۔۔شوہر سے ہوٸی دل برداشتہ۔


ممبئی۔ ۲۵؍اکتوبر: (اسٹاف رپورٹر) /صداٸے وقت ۔
========================
ممبئی کے پوئی علاقے میں رہنے والی محسنہ کچھ دنوں قبل فیس بک پر کسی غیر مسلم شخص سے شادی کرکے ’خوشی‘ نام رکھ لیا تھا ۔ گزشتہ دنوں لکھنو میں اس کی لاش برآمد ہوئی۔ محسنہ کی شناخت کے بعد پولس نے خودکشی کرنے کےلیے اکسانے اور ثبوت چھپانے کے الزام میں اس کے شوہر اور اس کے معاون کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولس کے مطابق ملزمین نے شناخت چھپانے کےلیے چہرے کو تیزاب سے جلا دیا تھا، ایس پی پروی سریش چندر راوت نے بتایاکہ چار دن قبل بندھرا میں سڑک کنارے خاتون کی لاش ملی تھی جس کی شناخت ممبئی کی رہنے والی محسنہ کے طو رپر ہوئی تھی۔ اطلاع کے مطابق محسنہ چار ماہ قبل اپنے شوہر اور تین بچوں کو ممبئی میں چھوڑ کر لکھنو آئی تھی اور اپنے فیس بک فرینڈ مہندر کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ ممبئی کے پوئی علاقے میں محسنہ کی گمشدگی کا معاملہ درج ہے، لکھنو میں محسنہ سب کو اپنا نام خوشی گپتا بتاتی تھی۔ محسنہ لکھنو میں خوشی بن کر ہندو ریت ورواج کے مطابق رہتی تھی۔ بتایاجاتا ہے کہ محسنہ سے خوشی بننے کے بعد وہ اپنی مانگ میں سندور لگاتی تھی، اور منگل سوتر پہنتی تھی، مہندر نے محسنہ عرف خوشی کےلیے بندھرا میں ایک مکان بھی لیا تھا جس میں وہ رہتی تھی، مہندر ہفتے میں دو دن اس کے پاس اور باقی دن اپنی اہلیہ کے پاس امیٹھی میں رہتا تھا۔ گزشتہ ۱۷ اکتوبر کو محسنہ عرف خوشی نے اپنے شوہر کےلیے کروا چوتھ کا برت بھی رکھا تھا کروا چوتھ کے دن مہیندر کے نہ آنے سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے  خودکشی کرلی تھی۔ واردات کے دوسرے دن مہیندر جب گھر آیا تو وہاں محسنہ کی لاش دیکھ کر گھبرا گیا اس نے شناخت مٹانے کےلیےچہرے پر تیزاب ڈال دیا جس سے چہرہ جھلس گیا اور لاش کو سڑک کے کنارے پھینک کر فرار ہوگیا۔ پولس نے 48 گھنٹے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا تو خودکشی کی تصدیق ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کے دوسرے دن خوشی کی شناخت ہوئی تھی اس کے موبائل کی کال ڈٹیل معاملے کا خلاصہ ہوا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot