Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, October 8, 2019

خبردار! مسلمانوں کو جرمنی میں یہودیوں کی طرح چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا: جسٹس کاٹجو


جسٹس کاٹجو نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کو جرمنی میں یہودیوں کی طرح چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔ بی جے پی اپنی ناکامیوں اور خرابیوں سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے 
نمٹنے کے لئے یہ حربے اختیار کرے گی۔

نئی دہلی: صداٸے وقت /ذراٸع/ ٹویٹر۔
=============================
ملک میں سلگتے ہوئے مسائل پر اپنی بے باک رائے کے لئے مشہورسپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کے پروپیگنڈہ کی وجہ سے بنگالی ہندو بھی فرقہ پرست سوچ کے شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’تقسیم کرو‘ پالیسی سے کسی کوفائدہ ہونے والا نہیں ہے اور اس کا تجربہ سیاسی پارٹیوں کو ہوچکا ہے اس لئے ملکی اتحاد اور فرقہ وارانہ یکجہتی ہی ملک کی ترقی اور امن وامان کی ضمانت دے سکتی ہے۔
کاٹجو نے طویل خاموشی کے بعد آج ملک کے معاشی بحران، این آرسی، فرقہ پرستی جیسے کئی سلگتے مسائل کو لے کرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپنی خامیوں کو چھپانے کے لئے نئے نئے ایشو کو ہوا دینا موجودہ حکومت کا مشغلہ بن چکا ہے۔ جبکہ عوام دو وقت کی روزی روٹی کے لئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، باوجود اس کے لئے انہیں اپنے خاندان کے لئے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا مشکل ہو رہا ہے لیکن حکومتوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ٹوئٹر پر یکے بعد دیگرے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتابنرجی کی مسلم خوشنودی حاصل کرنے والی پالیسی سے بھی ماحول خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے آگے لکھا کہ میری معلومات کے مطابق مغربی بنگال کے ہندوؤں کی بڑی تعداد بی جے پی کے پروپیگنڈے اور ممتا بنرجی کی مسلمانوں کو رجھانے کے لئے تیار کردہ پالیسیوں سے فرقہ پرستانہ سوچ پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی غریب عوام کو ہندو اورمسلمان کی نہیں بلکہ روزگار کی فکر ہے اس لئے موجودہ حالات میں عام لوگوں کے درمیان فرقہ پرستانہ سوچ کو فروغ دینے کی بجائے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی شہری رجسٹر(این آر سی) کے بارے میں مارکنڈے کاٹجو نے ٹوئٹ کیا کہ ہندوستان میں رہنے والے 92 تا 94 فیصد افراد ہندوستان کے اصل باشندے نہیں ہیں بلکہ یہ سبھی ایمگرینٹس(مہاجر) ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ گھس پیٹھیے یا درانداز ہیں اور انہیں وہاں بھیج دیا جائے جہاں سے وہ آئے ہیں۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعہ خبردار کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جرمنی میں یہودیوں کی طرح چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔ بی جے پی اپنی ناکامیوں اور خرابیوں سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے یہ حربے اختیار کرے گی۔ ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور اس کا غصہ مسلمانوں پر نکالا جائے گا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot