Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, November 19, 2019

ہمیں اپنی عظمت رفتہ کا بھولا ہوا سبق ہی یاد نہیں۔

از/عبد الرحمٰن عابد دہلی / صداٸے وقت ۔
=============================
*شدید بیماری کے عالم میں ھم  وقتی طور پر بیماری کو دبانے کی دوا تو کرتے ہیں لیکن اسکا دائمی علاج نہیں کرتے ،  یہی وجہ ہے کہ آزاد بھارت کی پوری تاریخ میں ھم مسلمانانِ ہند  ہر مسئلہ میں تقریباً ایک ہی جیسی  بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں ، ذرا سی راحت ملی ، پھر خوشیوں کے جشن منانے میں مشغول ، بیماری کو نظر انداز کرکے علاج سے غافل ہو جاتے ہیں ، شادیاں اور شادیوں کی سالگرہ جنم دن مرن دن وغیرہ سب یاد رہتے ہیں اور دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں ، ہمیں اگر یاد نہیں تو اپنے نبی کا مشن یاد نہیں ، اپنی عظمت رفتہ کا بھولا ہوا سبق ہی یاد نہیں ، یا پھر اسے دوسروں کی ذمہ داری سمجھ کر ہم خود یاد کرنا ہی نہیں چاہتے ، آج اس ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں میں حضرت شیخ الھند رحمۃ اللّٰہ علیہ کی درد میں گھلنے والی وراثت کا بار اٹھانے والا کوئی کھڑا کیوں نہیں ہوتا ؟  شاہ عبدالرحیم رائے پوری کے قرآنی روحانی میخانے کے رند کہاں چلے گئے ؟  سر سید کی ھمدردئ مسلم کے غم کو اوڑھنے والا کوئی غمخوار کیوں نہیں اٹھتا ؟ اور علامہ اقبال کی فکر بیدارئ ملت بیضا کے امین کہاں گم ہوگئے اور کیوں ؟۔                   دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے =  پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے =  ھے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں = غافل! تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے =     کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی =  ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ھے =                                                         من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں =۔      تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن =        اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی =۔  تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن =        عبدالرحمن عابد دہلی !!!*

Post Top Ad

Your Ad Spot