Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, November 28, 2019

بنگال ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی تین سیٹوں پرشکست غرور و تکبرکا نتیجہ::::::::ممتا بنرجی

کلکتہ ..مغربی بنگال۔۔28نومبر(صداٸے وقت)۔
==============================
کالیا گنج اور کھڑکپور صدر اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب میں کامیابی اور کریم پور اسمبلی حلقے میں بڑے فرق سے سبقت حاصل کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ بی جے پی کے تکبر کی شکست ہے۔انہوں نے کہا کہ این آر سی اور شہری ترمیمی بل کے نام پر جو خوف و ہراس پھیلا گیا تھااس کا عوام نے صحیح جواب دیا ہے۔
خیال رہے کہ 2021میں اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کے تین اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخاب ریاست کی سیاسی پارٹیوں کیلئے کافی اہم تھے۔بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی تھی کیوں کہ چند مہینے قبل ہی بی جے پی کو ریاست کے 42لوک سبھا حلقوں میں سے 18حلقوں میں جیت حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے کافی حوصلے بلند تھے۔ان حلقوں میں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی بڑی سبقت حاصل کی تھی۔ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ عوام کی جیت ہے اور یہاں کے عوام نے بی جے پی کو الوداع کہہ دیا ہے۔
ان تینوں حلقوں میں ضمنی انتخاب میں این آر سی ایک اہم ایشوتھا۔بی جے پی پوری شدت سے اسے نافذ کرنے کی بات کہہ رہی تھی جب کہ ممتا بنرجی ریاست کے عوام کو یقین دلارہی تھی کہ جب تک وہ بنگال میں ہے این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ممتا بنرجی کی دلیل تھی کہ این آر سی کی وجہ سے کروڑوں ہندوستانی شہریوں کو پہلے غیر ملکی قرار دیدیا جائے گا۔آسام میں لاکھوں بنگالیوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہونے کی وجہ سے بنگالی عوام میں شدید ناراضگی ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج پر این آر سی کا ایشو حاوی ہوگیا۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال کے عوام نے کبھی بھی تکبر اور غرور کو پسند نہیں کیا ہے۔بی جے پی نے بڑے ہی زور شور سے این آر سی کا ایشو اٹھایا تھا مگر نتیجہ کیا ملا یہاں کے عوام نے انہیں رد کردیا۔ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہے۔بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہورہے ہیں بلکہ کم ہورہے ہیں۔ایسے میں بی جے پی این آر سی کے نام پر خوف پھیلانے کی کوشش مگر یہاں کے عوام نے رد کردیا ہے۔
ممتابنرجی نے کہا کہ ترنمو ل کانگریس کے تاسیس کے بعد سے ہی کالیا گنج اور کھڑکپور صدر سے ترنمول کانگریس کوکبھی بھی کامیابی نہیں ملی ہے مگر پہلی مرتبہ یہاں کے عوام نے ہمیں ایک موقع اور آشیرواد دیا ہے اور اس لیے میں کہہ رہی ہوں کہ یہ عوام کی جیت ہے۔عوام کا فیصلہ ہی سب سے بڑا فیصلہ ہے۔پارٹی ورکروں نے سخت محنت کی اوریہ ان کی ہی محنت اور عوام کی محبت کا نتیجہ ہے۔
کھڑکپور صدر اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش ممبر اسمبلی تھے مگر انہوں نے مدنی پور اسمبلی حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد یہاں سے استعفیٰ دیدیا تھا۔یہ اسمبلی حلقہ بھی مدنی پور لوک سبھا حلقے میں ہی واقع ہے۔دلیپ گھوش کو یہاں سے بڑی سبقت حاصل ہوئی تھی۔مگر ضمنی انتخاب میں عوام نے رخ موڑ دیا۔اسی طرح کالیا گنج میں اسمبلی حلقہ رائے گنج لوک سبھا حلقے میں واقع ہے۔یہاں سے بی جے پی کیی رکن پارلیمنٹ دیو شری چودھری نے 6122ووٹوں سے سبقت حاصل کی تھی۔مگر اس مرتبہ بی جے پی کو بھی جیت کا یقین تھا مگر دو ہزار سے زاید ووٹوں سے ٹی ایم سی نے جیت حاصل کرلی ہے۔
خیال رہے کہ کالیا گنج اورکریم پور اسمبلی حلقہ میں بڑی تعداد رفیوجی آباد ہیں۔اس کے باوجود بی جے پی نے شہری ترمیمی بل کے نفاذ کاوعدہ کام نہیں آیا۔کالیا گنج سے بی جے پی کے امیدوار نے بھی تسلیم کیا ہے کہ این آر سی کی وجہ سے ہمیں شکست ملی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot