Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, November 19, 2019

کشمیر چیمبر آف کامرس کی رپورٹ۔۔۔۔۔اب تک ١٠٠ ارب سے زاٸد کا نقصان ہوچکا ہے۔

کشمیر پر واٸس آف امریکہ کی رپورٹ۔/صداٸے وقت/نماٸندہ۔
=============================کشمیر چیمبر آف کامرس نے کہا ہے کہ کشمیر میں پابندیوں کے باعث اب تک 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے ۔

بھارتی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ اقدام ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کیا ہے۔ جس پر کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے منگل کو کہا ہے کہ یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 'کے سی سی آئی' نے اپنے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حفاظتی شٹ ڈاؤن کے لیے شکریہ، جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کشمیر کے لوگوں نے بازار اور اپنے کاروبار بند کیے ہوئے ہیں۔
کے سی سی آئی کے سینئر وائس پریزیڈنٹ ناصر خان نے کہا کہ کشمیر میں پابندیوں کے باعث ہونے والا معاشی نقصان ستمبر تک ایک ارب ڈالرز تک پہنچ چکا تھا جو اب اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
ناصر خان نے کہا ہے کہ ہم عدالت سے درخواست کریں گے کہ وہ کسی غیر جانب دار ادارے کو نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام سونپے کیوں کہ نقصان اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں ٹیلی کام ذرائع پر پابندیاں لگانے کا مقصد یہی ہے کہ چیمبر آف کامرس کی رسائی کاروباری افراد تک نہ ہو سکے تاکہ نقصان کا تخمینہ بھی نہ لگایا جاسکے۔
ناصر خان کا کہنا تھا کہ کے سی سی آئی اگست سے اب تک سرمایہ کاری کے خواہشمندوں کی تفصیلات جمع نہیں کر سکی ہے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں اگر کوئی سرمایہ کار یہاں آتا ہے تو وہ بہت حیرانی کی بات ہو گی۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور کشمیر کے مقامی عہدے داروں نے کے سی سی آئی کے بیان پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی 5 اگست کو خصوصی ریاستی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں مختلف پابندیاں عائد کی تھیں۔ حالیہ چند ہفتوں میں کچھ پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے لیکن متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی بند ہے۔
اس کے علاوہ بھی کئی دیگر پابندیاں بدستور برقرار ہیں جن سے سیاحت، زراعت، آرٹ اور کرافٹ سمیت ہر وہ شعبہ متاثر ہو رہا ہے جو کشمیر کی برآمدی صنعت کا حصہ ہے۔
کشمیر کے صدر مقام سرینگر میں ہوٹل کے ایک مالک وویک وزیر نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ انہوں نے گزشتہ کئی ماہ سے وادی  کےحالات معمول پر نہیں دیکھے۔ وویک نے کہا کہ یہاں بہت غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔

کچھ برس پہلے وویک وزیر نے کشمیر میں اپنا کاروبار مزید بڑھانے کا سوچا تھا لیکن اب وہ یہاں مزید سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اب کشمیر سے ملحقہ دیگر علاقے ہماچل پردیش میں ہوٹل کھولنا چاہ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت نے کشمیر میں کریک ڈاؤن اور پابندیوں کے بعد اکتوبر میں ہونے والی ایک سرمایہ کاری کانفرنس بھی منسوخ کر دی تھی جب کہ حالیہ چند ہفتوں میں غیر مقامی افراد پر ہونے والے حملوں کے بعد سے سیاح بھی کشمیر آنے سے کترا رہے ہیں۔
مقامی پولیس کا الزام ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند ملوث ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot