Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, November 24, 2019

کیا کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے ؟

کیا کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ 
معروف صحافی ڈاکٹر سلیم خان کا زمینی تجزیہ/صداٸے وقت
=============================
ایوانِ پارلیمان  کے سرمائی اجلاس سے قبل ایوانِ بالا کے مشترکہ  نشست میں فاروق عبداللہ کو یاد کیا گیا اور ایوان زیریں میں پہلا سوال فاروق عبداللہ کی عدم موجودگی سے متعلق کیا گیا۔ پچھلے اجلاس میں تو وزیر داخلہ نے یہ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑا لی تھی کہ فاروق عبداللہ اپنی مرضی  سے غیر حاضر ہیں۔ اس باروہ ایسا نہیں کرسکے اس لیے کہ  ڈھائی ماہ قبل ان  کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ’امن و عامہ کو خراب‘ کرنے کے الزام میں انہیں حراست میں لیا  جا چکا ہے۔ ایوان پارلیمان  میں جب   کانگریس کے رہنما سوگاتا رائے  نے فاروق عبداللہ کا  سوال اٹھایا تو  نیشنل کانفرنس کے رکنِ’اپوزیشن پر حملہ بند کرو فاروق عبداللہ کورہا کرو‘ کا نعرہ  لگانے لگے۔ بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نےاس دائرہ کو وسیع کرکےمطالبہ کیا کہ فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی کو فوری طور پر رہا کرنے میں  جمہوریت کی بھلائی ہے۔ 
یہ عجیب منافقت ہے ایک طرف تو فاروق عبداللہ کو امن کے لیے خطرہ بتا کر حراست میں لیا جاتا ہے اور دوسری طرف  انہیں وزارت دفاع کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی میں نامزد کردیا جاتا ہے۔ اتفاق سے اس کمیٹی میں بم دھماکوں کی ملزم پرگیہ ٹھاکر بھی شامل ہیں۔ ایسے لوگوں سے اگر وزیر دفاع  مشاورت کریں گے تو ملک  کا تحفظ کیسے ہوگا ؟وزیر داخلہ امت شاہ نے اس  بار فاروق عبداللہ کے بجائے کشمیر کے حالات کو بیان کرتے ہوئے کذب بیانی سے کام لیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات پوری طرح سے معمول پر ہیں، اسکول کالج کھلے ہیں۔ کاش کے وہ بتانے کی زحمت کرتے کہ ان  میں طلباء بھی   موجود ہیں یا نہیں ؟ ایوان میں تفصیلی اعداد وشمار کی مدد  اسکول، اسپتال، عدالت سے لے کر سبھی سرکاری دفاتر بہتر طور پر کام کرنے کی اطلاع دینے والے  وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں تک بات انٹرنیٹ خدمات کی ہے تو وقت آنے پر یہ بحال ہو جائیں گی۔ یہ وقت کب آئے گا شاید وہ خود نہیں جانتے۔ سوال یہ ہے کہ  کیا انٹر نیٹ بلکہ ایس ایم ایس جیسی  معمولی سہولت کے بغیر حالات کے معمول پر ہونے کا دعویٰ کسی  اہمیت کا حامل  ہے۔ وزیر مملکت جئے کشن ریڈی نے پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں  کو حراست لینے کے بعد رہا کرتے ہوئے ہنوز 6 سولوگوں  کے زیرحراست ہونے کو  تسلیم کیا ہے۔ یشونت سنہا پچھلی مرتبہ عدالت کی اجازت سے کشمیر گئے تھے تو انہیں زبردستی دھوکے سے لوٹا دیا گیا۔ اس بار انہیں سرینگر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آخر امت شاہ یہ کیوں نہیں چاہتے کہ  یشونت سنہا جیسےلوگ حالات کے معمول پر ہونے کی تصدیق کریں ؟  اس سے ظاہر ہے ’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘ بلکہ بہت کچھ ہے۔ کشمیر  سے یہ خبر آئی ہے کہ اس بار حکومت صرف ایک فیصد سیب خرید سکی۔ کیا یہ سرکار کی 99 فیصد ناکامی نہیں ہے؟ ایوان پارلیمان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب لوگ وہاں پر زمین خرید سکیں گے۔ چار ماہ بعد یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ  کتنے گاہکوں نے اس غرض سے وادی کا رخ کیا۔ جولوگ اپنے باغ کا سیب  نہیں بیچ رہے کیا اپنے   باغ  بیچیں گے؟ وہاں اس قدر دہشت کا ماحول ہے کہ جو مزدو رپہلے روزگار کے لیے وہاں جایا  کرتے تھے وہ واپس تو ہوگئے لیکن اب  لوٹ کر جانے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔ ایسے مقام پر جہاں موبائل کی   سروس  محدود  ہو۔ ایس ایم ایس نہ  آتا  ہو اور بنک کا او ٹی پی نہ ملنے کے سبب بنک کاری کی سہولت متاثر ہو کون تاجر جائے گا؟  اور جاکر کیا کرے گا ؟  اس  سنگین صورتحال کا اثر جموں کی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے کیوں  کہ زمینی راستوں سے جانے والے سیاح وہیں سے گذرکر جاتے تھے۔ سابق گورنر ستیہ پال ملک  نے سرمایہ کاروں کی  نمائش کااعلان  کیا تھا جوان کے ساتھ  ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ وزیراعظم نے فلم سازی کا خواب بیچا تھا اب سرکار  کی اپنی فلم اتر رہی ہے۔ آئین کی دفع 370 کو ختم کرتے وقت جو سبز باغ دکھائے  گئے تھےوقت آگیا کہ ان  کی حقیقت کا جائزہ لیا جائے۔ ایوان میں اور ٹیلی ویژن پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا  کہ سارے ملک سے لوگ آزادی کے ساتھ وہاں   جاسکیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ 5 اگست 2019  سے قبل  ساری دنیا کے لوگ آزادی کے ساتھ وادی میں جارہے تھے۔ دنیا بھر کے سیاحوں اور امرناتھ یاتریوں کا وادی میں خیر مقدم کیا جاتا تھا لیکن اب وہاں کوئی نہیں پھٹکتا۔  حالات کے معمول پر ہونے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ  بتائیں کہ وہ اس  دوران کتنی مرتبہ وادی گئے تھے اور وہاں  کتنے لوگوں سے ملے۔ حد تو یہ ہے کہ  اپنے ملک کے ارکان پارلیمان  کو وہاں جانے کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یوروپ کے پارلیمانی ارکان کو سرکاری تحفظ میں وادی  کی سیر کراکے اپنی جگ ہنسائی کرائی جاتی ہے۔ چار  ماہ کا عرصہ کم نہیں ہوتا لیکن اس بیچ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔ اس  دنیا میں بہت سارے لوگ مسائل کو حل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ساری دلچسپی  مسائل پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت دوسرے قبیل میں شامل ہے۔ گزشتہ پارلیمانی اجلاس میں اس حکومت نے بیٹھے بٹھائے کشمیر کی دفع 370 کو ختم کرنے کا احمقانہ فیصلہ کردیا۔ اسےامید تھی کہ ایک آدھ ہفتہ میں سب کچھ معمول پر آجائے گا۔ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے والوں کو  پاکستان نواز کہہ کر گولیوں سے بھون دیا جائے گا۔ ٹیلی ویژن پران کی لاشیں  دکھا کر  بھکتوں کی  خوشنودی حاصل  کی جائے گی ۔ اس طرح     سیاست چمکاکر مہاراشٹر و ہریانہ میں زبردست کامیابی حاصل  کی جائے گی لیکن کشمیریوں نے اپنی سوجھ بوجھ سے  حکومت کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔ کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سختی کے ساتھ کچل کر حکومت   کشمیری عوام  کی  حوصلہ شکنی  کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ حکومت کی خام خیالی تھی کہ  ملک کے دیگر مظاہرین کی طرح کشمیری بھی بہت جلد  بددل ہوکر بیٹھ جائیں گے۔  اسی لیے  وزیر اعظم نے  ٹیلی ویژن پر بڑے طمطراق سے اعلان کیا تھا کہ آپ لوگچاردن بعد   عیدالاضحیٰ کا تہوار ہنسی  خوشی سے  منائیں گے  لیکن  چار ماہ بعد بھی مذکورہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ کشمیریوں نے حکومت ہند کے خلاف سڑکوں پر آکرگولیوں کا نشانہ بننے کے بجائے سول نافرمانی کا راستہ چنا۔ ایک ہفتہ،  دوہفتہ،  ایک مہینہ،  دومہینہ اور اب چار مہینے ہوگئے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ نہ تواپنا مال بیچ رہے ہیں اور باہر کی کوئی چیز خرید رہے ہیں۔ بازار،  اسکول اور کالج کھلے ہیں لیکن نہ گاہک ہے نہ طالب علم۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ انٹر نیٹ کی خدمات  سے وہ محروم ہیں۔ ٹیلی ویژن کا جھوٹ انہیں دیکھنے کونہیں ملتا اس کا افسوس بھی نہیں ہے۔ سنگھ پریوار شور شرابے کے سوا احتجاج کے کسی  طریقہ سے واقف نہیں ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ فسادات کے دوران   انتظامیہ کے زیر سایہ لوٹ مارکرنا  اور پولس کے سختی دکھانے پر گھرمیں دبک کر بیٹھ جانا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ  انگریزوں کے خلاف جنگ  آزادی کے دوران سول نافرمانی کی تحریک نے  برطانوی  سامراج کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ سنگھ پریوار نے اس وقت ثقافتی تنظیم ہونے کا چولہ اوڑھ کر خود کو آزادی جدوجہد  سے الگ کرلیا تھا۔ ہندو مہاسبھا کے ساورکر نے پہلے تو  ہمت دکھائی لیکن جب انگریزوں نے کالاپانی بھیجا تو وفاداری کا معافی نامہ لکھ کر لوٹ آئے اور ساری عمر اس پر قائم رہے۔ گاندھی جی کو تو قتل کروانے کی جرأت دکھانے والے کی زبان سے  انگریزوں کے خلاف اف تک  نہیں نکلا۔ بزدلی کی اس روایت کے علمبردار کیا جانیں کہ کسی عظیم مقصد کے لیے  ایثار  و قربانی کیا ہوتی ہے؟حکومت نے کشمیری عوام کے عزم و استقلالکو اپنےاو پر قیاس کرکے جو اندازے  کی  غلطی کی اس کی قیمت پورا ملک بشمول ریاست جموں و کشمیر  چکا رہا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot