Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, December 24, 2019

شہریت کے متنازع قانون کے خلاف جامعات میں احتجاج: پانڈیچیری یونیورسٹی کی طالبہ کا صدر جمہوریہ کے ہاتھوں گولڈ میڈل لینے سے انکا

 پانڈیچیری یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے یونیورسٹی کانووکیشن میں  صدر جمہوریہ  سے گولڈ میڈل لینے سے انکار کر دیا ہے۔

نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع ۔

============================

پانڈیچری سے ملی خبروں کے مطابق  پانڈیچیری یونیورسٹی کے ستائیسویں کانووکیشن میں صدر رام ناتھ کووند نے طلبہ کو اسناد تقسیم کیے لیکن بہت سے طلبہ نے شہریت کے قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری مظاہرے کے پیش نظر ان کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔

شعبہ ابلاغیات کی گولڈ میڈلسٹ ربیحہ عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ وہ وہاں موجود تھیں اور مخالفت کرنے والوں میں شامل نہیں تھیں لیکن انھیں صدر کے آنے سے قبل باہر بلایا گیا اور صدر کے جانے کے بعد ہی انھیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

ربیحہ نے صحافیوں  سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے یہ نہیں معلوم کہ انھوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا لیکن اس بات نے مجھے ہمت دی کہ میں فیصلہ کر سکوں۔ میں نے اپنا گولڈ میڈل مسترد کر دیا اور صرف سند قبول کی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں نے یہ قدم صرف اس لیے نہیں اٹھایا کہ مجھے وہاں سے نکال دیا گیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر میرے خلاف امتیازی سلوک کیا گیا بلکہ میں نے شہریت کے ترمیمی قانون، این آر سی اور طلبہ پر پولیس کے مظالم کی مخالفت کرنے والے طلبہ کے ساتھ یکجہتی میں ایسا کیا ہے۔‘

مظاہرہ

وہاں کے ایک طالب علم ارون کمار نے کہا کہ چونکہ ’صدر نے اس قانون پر دستخط کیے ہیں، اس لیے میں نے ان سے ڈگری نہ لینے کا فیصلہ کیا۔‘

اینتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی گولڈ میڈلسٹ طالبہ میگالہ نے کہا ’میں یونیورسٹی ٹاپر ہوں لیکن میرا دل اس بات پر راضی نہیں کہ میں یہ اعزاز ایسے وقت حاصل کروں جب ملک میں بہت سی چیزیں ہو رہی ہیں اور جس سے آئین متاثر ہو رہا ہے۔ یہ اعزاز کی بات ہے کہ آپ وہ لباس پہنیں، اسٹیج پر جائیں اور  صدر سے میڈل حاصل کریں لیکن ہم نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔‘

Post Top Ad

Your Ad Spot