Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, December 12, 2019

بابری مسجد پر ریویوپٹیشن خارج ہونے سے سخت مایوسی ہوئی::::::::: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی: 12/دسمبر.2019 (پریس ریلیز).صداٸے وقت۔
==============================
 سپریم کورٹ کی چیف جسٹس اے ایس بوبڑے کی سربراہی والی بینچ نے آج مختصر سماعت کے بعدبابری مسجد پرآئے فیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند ودیگر کی نظرثانی (ریووپٹیشن) کی تمام اپیلوں کو خارج کردیا، اس کے ساتھ ہی بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں انصاف کی جو مدھم سی لونظرآرہی تھی وہ بھی خاموش ہوگئی، قابل ذکر ہے کہ جمعیۃعلماء ہند نے اپنے ریویوپٹیشن گزشتہ 2/دسمبر کو داخل کی تھی جس میں ایسے بہت سے نکتوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو 9/نومبر کے فیصلہ میں موجودتھے پٹیشن میں واضح طورپر کہا گیا تھا کہ ایک طرف تو عدالت نے اپنے فیصلہ میں بابری مسجد کے اندرمورتیاں رکھے جانے اور پھر مسجد کی شہادت کو غیر آئینی اور غیر قانونی عمل سے تعبیر کیا ہے مگر فیصلہ میں مسجد کی جگہ انہی لوگوں کو دیدی جو بالواسطہ طورپر اس کے مجرم تھے، جمعیۃ علماء ہند نے ریویوپٹیشن آئین کی دفعہ 137کے تحت داخل کی تھی جس میں عدالت کو اپنے فیصلہ پر نظرثانی کا اختیاردیا گیا ہے، یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی گئی تھی، اس سے پہلے بھی جانے کتنے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن داخل ہوچکی ہے جن میں سے متعددریویوپٹیشن پر عدالت نے غوربھی کیا ہے اور فیصلہ بھی صادرکیا ہے، آج جو کچھ ہوا اس پر اپنے فوری ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ جس طرح یک لخت ریویوپٹیشن خارج ہوئی اس سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے، جمعیۃعلماء ہند نے انصاف کے حصول کے لئے قانونی طورپر دیئے گئے حق کا استعمال کرتے ہوئے نظرثانی کی یہ درخواست عدالت میں داخل کی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر ثبوت وشواہد مسجد کے حق میں تھے اور فاضل عدالت کے فیصلہ سے بھی ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے، عدالت نے یہ کہیں نہیں مانا ہے کہ مندرتوڑکر مسجد کی تعمیر ہوئی تھی، دوسری طرف مخالف فریقین اپنے دعویٰ کے حق میں آستھا کے سوا کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکے، چنانچہ 9/نومبر کو جو فیصلہ آیا وہ ہماری توقعات کے قطعی برعکس تھا مگر اب نظرثانی کی اپیل جس طرح خارج ہوئی وہ اتنہائی مایوس کن ہے،
مولانا مدنی نے کہاکہ جمعیۃعلماء ہند نے کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں برتی، ہمارے اس طویل قانونی جدوجہد کا نتیجہ مسلمانوں کے حق میں نہیں رہا اس کا ہمیں ہمیشہ افسوس رہے گا۔ انہوں نے آخرمیں ملک کے ان تمام انصاف پسند لوگوں کا شکریہ اداکیا کہ جنہوں نے اس معاملہ میں حق کا ساتھ دیتے ہوئے مسلمانوں کے موقف کی حمایت کی اور جو سمجھ میں نہ آنے والی چیز تھی اس پر کھلے طورپر نقدکیا  مولانامدنی نے اس بات کے لئے مسلمانوں کی بھی ستائش کی کہ 9 /نومبر کو آئے فیصلہ کے بعد انہوں نے بے مثل صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بارپھر یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک ملک کا امن،اتحاد اور بھائی چارہ زیادہ اہم ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ایثار اور قانون کے احترام کی ایک ایسی نظیر پیش کی ہے جس کے لئے انہیں تاریخ ہمیشہ یادرکھے گی۔


Post Top Ad

Your Ad Spot