Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, December 18, 2019

اہل مدارس کو نہ تو احتجاج سے ڈر ہے اور نہ ہی اس کے اعلان سے۔۔۔۔۔۔۔ اعظم گڑه کے کل کے احتجاج میں شرکت کی اپیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا اجود اللہ پھولپوری۔

#۱۹_کو_سپا_کے_بینر_تلے_اعظمگڈھ_میں
#ھونے_والے_دھرنے_میں_بھرپور_حصہ_لیں
این آر سی اور سی اے بی کی مخالفت ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے یہ بل ہندوستان کی ایکتا اور اکھنڈتا کو توڑنے والا ہے یہ بل جتنا مسلمانوں کے لئے نقصاندہ ہے اتنا ہی دیگر قوموں خصوصا دلتوں اور اوبی سی کیلئے اسلئے اس بل کی کھلی مخالفت کریں 
اس بل کے تعلق سے یہ سوال بار بار آتا ہے کہ مدرسہ والے ابھی تک کیوں آگے نہیں آرہے سوال حق بجانب ہے یقینا مدارس اور اھل مدارس کی ذمہ داری بھی بڑی ہے لیکن اس سے بھی بڑی چیز اس بل کی مخالفت میں ہونے والے احتجاج کی کامیابی ہے دارالعلوم دیوبند اور ندوۃالعلماء لکھنؤ کی پیش رفت کے بعد میڈیا اور بھگوا دھاریوں کی طرف سے احتجاج کو مسلم کرن کرنے کی پرزور کوشش کی گئی حتی کہ ملک کے پردھان منتری نے بھی یہ کہ کے بھرپور حصہ لینے کی کوشش کی کہ “بل کی مخالفت کرنے والوں کو انکے کپڑوں سے پہچانا جاسکتا ہے” سوچیں جب ملک کا وزیر اعظم اس بل کا مسلم کرن چاہتا ہے تو چیلوں چپاڑوں کی کیا حصہ داری ہوگی!
اھل مدارس کو نہ اعلان کرنے میں کوئی ڈر ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے میں کوئی خوف ہمیں بھی گالیاں اچھی نہیں لگتیں اور نہ ہی بزدلی کا الزام لیکن اپنی رسوائی سے زیادہ احتجاج کی کامیابی پیاری ہے سو سب شربت روح افزاء جو کہ لیں سب قبول ہے 
مدارس اور یونیورسٹیوں کا بند کرانا یا از خود بند ہونا مناسب نہیں بقول مفکر اسلام حضرت علی میاں ندوی علیہ الرحمہ پہلے یہ مدرسوں اور اسکولوں کو بند کرینگے بعدہ اسے فوجیوں کا کیمپ بنا دینگے خدا نہ کرے خدا نہ کرے اگر ایسے حالات آئے کہ فوج اتارنی پڑی تو سب سے پہلے انہیں بند مدرسوں اور اسکولوں میں رہائش لینے پہ زور دینگے اور خالی رہتے انتظامیہ بھی معزرت کرپانے سے معزور ہوگی اسلئے انہیں بند کرنے کا ماحول نہ بنائیں اور نہ ہی ایسا کوئی عمل کریں کہ انتظامیہ کو موقعہ ملے پر امن احتجاج کریں کسی کوبھی تکلیف دینے سے بچیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور ہر اس احتجاج میں بھرپور حصہ لیں جسکی قیادت سے ہندو مسلم نہ ہو ۱۹ دسمبر کو سماجوادی پارٹی کی طرف سے منعقد ہونے والے احتجاج میں بھرپور حصہ لیں اور جم کر بل کی مخالفت کریں اگر اسکے بعد بھی بسپا یا کانگریس میدان میں آتی ہے تو اس کا بھی بھرپور ساتھ دیں امن و امان کو قائم رکھیں ایسے نعروں سے پرہیز کریں جس سے برادران وطن کو تکلیف ہو مذھبی نعروں کے ہرگز ہرگز قریب نہ جائیں دشمن چوکنا ہے اسے کوئی بھی موقعہ نہ دیں
شکریہ 
آپکی طرف سے آنے والے ہر مثبت اور منفی کمنٹ کا خیر مقدم ہے بس احتجاج پہ آنچ نہ آئے
اجوداللہ پھولپوری

Post Top Ad

Your Ad Spot