Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, December 23, 2019

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج، دھرنا ومظاہرہ جاری.


راج گھاٹ میں کانگریس کے سینئر لیڈروں کا ستیہ گرہ، سونیا ،راہل ،پرینکا، من موہن اور دیگر لیڈران کی شرکت، چنئی میں ڈی ایم کے کی عظیم الشان ریلی، چدمبرم بھی شریک، اترپردیش میں 60ہزار ایف آئی آر درج، ہزاروں گرفتاریاں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کا گیارہواں دن، دہلی میں یوپی بھون پر مظاہرہ، وزیراعلیٰ یوگی کے استعفیٰ کا مطالبہ.مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں طلبہ و طالبات کا کینڈل مارچ۔، بنگلورو میں زبردست احتجاج۔
نئی دہلی؍/صداٸے وقت /ذراٸع /بشکریہ نقوش حیات /مورخہ ٢٣ دسمبر ٢٠١٩۔
==============================
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دارالحکومت دہلی، کولکاتہ، ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بھاگلپور ۔لاتور بنگلورو ، سمیت ملک بھر میں احتجاج بدستور جاری ہے، کہیں سے کوئی ناخوشگوار اطلاعات نہیں موصول ہوئی ، 
البتہ اترپردیش میں جمعہ کوہوئے تشدد کے خلاف کانپور، رام پور، سنبھل، میرٹھ، شاملی، نجیب آباد، غازی آباد، لکھنو وغیرہ میں پولس کا کریک ڈائون جاری ہے اور اب تک ہزاروں گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔چنئی میں ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے بھی قانون کے خلاف زبردست ریلی نکالی گئی جس میں پی چدمبرم، ایم کے اسٹالن سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ آج دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کانگریس نے بابائے قوم مہاتما گاندھ کی سمادھی راج گھاٹ پر ’ستیہ گرہ‘ کیا جس میں پارٹی صدر سونیا گاندھی، سابق پارٹی صدر راہل گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔ستیہ گرہ کے دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد، لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور مشرقی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا، سکریٹری جنرل کے سی وینوگوپال، راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت، مدھیہ پردیش کے وزیراعلی کمل ناتھ، سابق لوک سبھا اسپیکرمیرا کمار، سینئر پارٹی لیڈر احمد پٹیل، آنند شرما سمیت کئی مشہور شخصیات موجود تھیں۔
ستیہ گرہ تقریبا تین بجے شروع ہوا، اس دوران وہاں بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان بھی موجود تھے، جو ہاتھوں میں پارٹی کا جھنڈا لئے ہوئے تھے۔ستیہ گرہ شروع کرنے سے پہلے وندے ماترم گایا گیا۔ پروگرام میں کبیر کے بھجن گائے گئے اور کئی لیڈروں نے آئین کے پریمبل مختلف زبانوں میں پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کسی بنیاد پر کسی شخص کے ساتھ بھید بھائو نہیں کیا جائے گا۔اس سے پہلے مسٹر راہل گاندھی نے ستیہ گرہ کے بارے میں بتاتے ہوئے نوجوانوں اور طالب علموں کو اس میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا اور کہا کہ اس وقت سب کو آگے آکر ملک کو نفرت کے ذریعہ برباد ہونے سے بچانا ہیا ور مودی۔شاہ کی جانب سے شروع کی گئی نفرت اور تشدد کے خلاف متحد ہوکر مظاہرہ کرنا ہے۔ستیہ گرہ سے پہلے محترمہ وڈرا نے بھی ٹوئٹ کرکے لوگوںسے راج گھاٹ آنے کی اپیل کی اور کہا کہ ’’یہ ملک ایک مشترکہ رشتہ ہے، مشترکہ خواب ہے۔اس مٹی کو ہم نے محنتوں کے رنگ سے سینچا ہے۔ آئین ہماری طاقت ہے۔ ملک کو پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی سیاست سے بچانا ہے۔ آیئے آج دوپہر تین بجے سے باپو کی سمادھی راج گھاٹ پر میرے ساتھ آئین کے پاٹھ کا حصہ بنئے۔‘‘وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج احتجاج کاآٹھواں دن تھا۔
کیمپس سے موصولہ خبروں کے مطابق دہلی پولس اور حکومت کی تانا شاہ رویے کے باوجود طلبا کا جوش برقرار ہے، تحریک کو تعاون دینے کیلئے دہلی سمیت ملک کی دیگر ریاستوں سے طلبا آئے، دہلی کے جامعہ ہمدرد، قرول باغ کے طبیہ کالج کے طالب علموں نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ وہیں راشٹر یہ جنتا دل کے ممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھا منوج جھا نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تقسیم کرنے والا بل پاس کرکے ملک کو بانٹنا چاہتی ہے۔ انہو ںنے جامعہ میںپڑھنے کے دوران اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ یہ میرا دیار شوق ہے، جس نے چمن کو کھلایا ہے، یہاں سے جو آواز اْٹھتی ہے اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔
 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبہ یونین صدر مشکور احمد عثمانی نے جامعہ او راے ایم یو کے طالب علموں پر کی گئی بربریت کو غیر انسانی قرار دیا۔اس موقع پر جے این یو طلبہ یونین کی کونسلر آفرین فاطمہ نے کہاکہ حکومت اپنے ہندو تو ایجنڈے کے تحت مسلم مخالف قانون بنارہی ہے اس کے خلاف مسلم قوم ملک بھر میں اپنے نعروں کے ساتھ اپنے انداز میں تحریک چلائے گی۔ 
یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے کنوینر ندیم خان نے اس قانون کو تباہ کن قرار دیا، آج کے احتجاج میں گنگا جمنی تہذیب کو زندہ کرتے ہوئے تمام مذاہب کی عبادت کا بھی اہتمام کیاگیا جس میں روپل پربھاکر نے بھجن گاگر ایشور، اللہ، جیسس، کے گن گائے۔اس موقع پر طلبا نے واضح کیا کہ جامعہ کے طلبا کی لڑائی مسلم مخالف حکومت کے ساتھ ساتھ ملک اور آئین بچانے کی لڑائی ہے۔ ملک میں مظاہرین کے ساتھ ہورہی زیادتی کی مذمت کی گئی ، اور پیغام دیاگیا کہ ہماری لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا ، جب تک یہ مسلم مخالف ، غیر آئینی اور سیکولرازم کو توڑنے والا قانون واپس نہیں لیاجاتا تب تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ 
چنئی میں ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں نے سوموار کو بڑے پیمانے پر ریلی نکالی اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا، ڈی ایم کے اور اس کی معاون پارٹیوں نے انتباہ دیا کہ اگر اس قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو سماج کے غیر سیاسی طبقوں کو ساتھ لے کر تحریک تیز کردی جائے گی۔ ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے پرامن ریلی کی قیادت کی، وہیں پی چدمبرم، سمیت دیگر لیڈروں نے ہاتھوں میں تختیاں لے کر ساتھ ساتھ چل رہے تھے، ڈی ایم کے اور دیگر معاون پارٹیوں کے کارکنان سخت سیکوریٹی کے درمیان ہاتھوں میں پارٹی جھنڈا اور تختیاں لیے ہوئے ایگمور سے راجرتنم اسٹیڈم تک مارچ کیا۔ اس موقع پر اسٹالن نے کہاکہ یہ مخالفت آندولن کے ساتھ رکے گی نہیں بلکہ معاون پارٹیوں سے گفتگو کے بعد اسے مزید آگے لے جایاجائے گا، اور مرکز اس قانون کو واپس نہیں لیتا ہے تو تحریک میں غیر سیاسی طبقوں کو بھی شامل کیاجائے گا۔ انہو ں نے کہاکہ قانون مسلم مخالف اور شری لنکا کے تملوں کے خلاف ہے۔ ادھر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں جمعہ کو ہوئے احتجاج میں تشدد، توڑپھوڑ، آتشزنی کے الزام میںاب تک سینکڑوں افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔
 اترپردیش میں گرفتاری کا گراف زیادہ ہے یونائٹیڈ اگینسٹ تنظیم کی اطلاعات کے مطابق پوری ریاست میں تقریباً ۰۶ ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔عوام کی طرف سے الزام لگایاجارہا ہے کہ آٹھ دنوں تک نیٹ بندی کرکے بے قصور مسلمانوں کو زبردستی توڑپھوڑ، آتشزنی اور فساد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیاجارہا ہے، یہ بھی الزام ہے کہ پولس گھروں میں گھس کر کریک ڈائون کررہی ہے۔ آج نیٹ چالو ہونے کی وجہ سے کئی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولس کس طرح سے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور گرفتار کررہی ہے۔ مظفر نگر، میرٹھ، شاملی، علی گڑھ، کانپور، رامپور ، سنبھل ، لکھنو کے برے حالات ہیں۔ عوام خوف میں زندگی بسر کررہے ہیں ہر وقت سروں پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ وہیں حیدرآباد کی مشہور یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی میں بھی شام کو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا جس میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت میں ہزاروں ہندو مسلم مظاہرین نے شرکت کی اس مظاہرے میں خصوصی طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی دونوں شیرنیاں لدیدہ اور عائشہ بھی موجود تھیں۔ آج دہلی پولیس نے ان طلبہ کو گرفتار کرلیا جویوپی میں سی اے اے کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر کریک ڈائون کے خلاف دہلی کے یوپی بھون کے باہراحتجاج کرنے جمع ہوئے تھے۔پولیس نے یوپی بھون کے باہرچانکیہ پوری،جنوبی دہلی کے علاقے میں دفعہ144نافذکردیاتھامگر اس کے باوجود طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد یوپی بھون کے پاس جمع ہوئی اور یوپی حکومت کی زیادتی کے خلاف احتجاج کیا،انھیں دہلی پولیس گرفتار کرکے مندر مارگ پولیس سٹیشن لے گئی ہے۔گرفتار کیے گئے طلبہ کا الزام تھاکہ دہلی پولیس جو خود احتجاج کرنے والے طلبہ پر ظلم کر
کرچکی ہے وہ یوپی میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی پولیس زیادتی کی رپورٹس کو بلیک آئوٹ کرنا چاہتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار یوپی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران اب تک بیس سے زائد لوگ پولیس کی فائرنگ میں جاں بحق ہوچکے ہیں،جن میں آٹھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔جبکہ آٹھ سو سے زائد افراد یوپی پولیس کے ذریعے گرفتار کیے جاچکے ہیں،گرائونڈرپورٹس کے مطابق یوپی پولیس مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو گرفتار کررہی ہے۔مغربی یوپی کے علاوہ لکھنو،گورکھپور،بہرائچ وغیرہ میں احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑاتھا،جس میں پولیس نے عام احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ کئی مقامات پر گولیاں بھی چلائی ہیں جن میں لوگوں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ لکھنو میں پولیس کے ذریعے بہت سے مسلمانوں کی جائدادیں سیل کی جارہی ہیں،کہاجارہاہے کہ انھیں بیچ کر احتجاج کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طورپر یہ کہاتھاکہ احتجاج کرنے والوں کی پراپرٹی کونیلام کرکے عوامی املاک کے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی۔اتر پردیش میں نظر ثانی شہریت قانون کی مخالفت میں ہوئے مظاہروں کے دوران ہوئی پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی مخالفت میں یہاں واقع اتر پردیش بھون کے باہر پیر کو احتجاجی مظاہرہ کر رہے کچھ طالب علموں کو حراست میں لیا گیاہے۔مظاہرہ کر رہے طالب علم اس معاملے پر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot