Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, December 19, 2019

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر احتجاج ، منگلورو میں دو اور لکھنو میں ایک کی موت ، درجنوں زخمی ۔سیکڑوں گرفتار


قومی راجدھانی دہلی کے علاوہ اترپردیش ، مہاراشٹر ، بہار ، کرناٹک سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں احتجاج کئے گئے اور کئی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی ۔
نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع /١٩ دسمبر ٢٠١٩۔
==============================
شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کےخلاف شمال مشرقی ریاستوں میں بھڑکے پرتشدد مظاہروں کی چنگاری قومی راجدھانی دہلی کے ساتھ ساتھ جمعرات کو دیگر ریاستوں میں بھی پھیل گئی اور متعدد مقامات پر اس نے پرتشدد شکل اختیارکرلی ۔ قومی راجدھانی دہلی میں جمعرات کو مختلف سیاسی پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں نے سی اے اے کے خلاف جگہ جگہ مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حکم امتناعی کے باوجود لال قلعہ، منڈی ہاؤس اور جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ کیا ۔ اس کے علاوہ اترپردیش ، مہاراشٹر ، بہار ، کرناٹک ، گجرات ۔پنجاب  سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں احتجاج کئے گئے اور کئی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اور گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا ۔
کرناٹک کے منگلورو میں ہوئے احتجاج کے دوران دو لوگوں کی موت کی خبر سامنے آئی ہے ۔ ان دونوں افراد کی موت کی وجہ احتجاج کے دوران تشدد بتائی جارہی ہے ۔ کرناٹک میں بدھ کو ہی دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی ۔ ریاستی حکومت نے جمعہ کو بھی سبھی اسکول ، کالج ، بازار ، ریستوراں اور شراب کی دکانیں بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے.
اترپردیش میں ریاستی راجدھانی لکھنو سمیت متعدد شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا ہے ۔ لکھنو میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں ۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے ۔ مظاہرین نے مدھے گنج پولیس چوکی پر حملہ کردیا اور جم کر توڑ پھوڑ کی اور یہاں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ۔
وہیں احتجاج کے دوران فائرنگ ہونے کی بھی خبر آرہی ہے ، جس میں تین مظاہرین کو گولی لگی ہے ، جس میں سے ایک شخص کی موت ہوگئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کے پیٹ میں گولی لگنے کی وجہ سے موت ہوئی ہے ۔ وہیں دو دیگر گولی لگنے کی وجہ سے سنگین طور پر زخمی ہوگئے ۔ دونوں زخمیوں کو لکھنو کے ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے ۔ تاہم گولی کس طرف سے چلی ، اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔
احتجاج کے دوران گولی چلنے پر ڈی جی پی اترپردیش کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے کسی بھی طرح کی فائرنگ نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کا اس آندولن اور پولیس کارروائی سے کچھ لینا دینا ہے ۔

Post Top Ad

Your Ad Spot