Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, January 31, 2020

یوگا۔۔اسلامی تناظر میں !!!



از/مولانا حبیب الرحمن اعظمی/صداٸے وقت 
=============================
۱۸۵۷ہندوستانی جمہور کے مقررہ آئین ودستور کے مطابق ہمارا ملک ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے، لامذہب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست اور ملک کسی ایک مذہب کا نہیں ہے؛ بلکہ ہر مذہب اور ہر مذہب کے ماننے والے اس ریاست اور اسٹیٹ کے مالک ہیں اور ملک میں موجود جملہ مذاہب، ان کی مذہبی روایات وتعلیمات اور حقوق بغیر کسی فرق وامتیاز کے یکساں طور پر نافذ العمل ہیں۔ آئین بھارت کا پیش لفظ و دیباچہ پکار کار کر کہہ رہا ہے کہ بہت سارے مذاہب جو اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس سیکولر اسٹیٹ اورلامذہبی ریاست میں نہ صرف باقی رہ سکتے ہیں؛ بلکہ اپنے طور پر ترقی بھی کرسکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ صحیح طور پر سیکولرزم کا نفاذ ہو اور وہ اپنی حدوں سے تجاوز نہ کرے، اس ریاست کا نظام سیکولر بنیادوں پر اس لیے استوار کیاگیا ہے اور اسے سیکولر اور لامذہبی اس لیے کہا جاتاہے تاکہ کوئی مذہب اپنی عددی اکثریت اور غلبہ کی بناء پر راج گرو ہونے کے زعم میں نہ مبتلا ہوجائے۔
عالمی برادری میں ہمارا ملک اپنی اسی آئینی حیثیت سے جانا پہچانا جاتاہے؛ بلکہ پوری دنیا میں سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے اعزاز سے معزز ومفتخر ہے
ایک ایسا ملک جہاں مختلف نسل اور ذات کے لوگ رہتے ہیں، جہاں بھانت بھانت کی زبانیں بولی جاتی ہیں، جہاں رنگ برنگ کے رسم ورواج ہیں، جہاں درجنوں سے زائد مذہب ودھرم پائے جاتے ہیں، ظاہر ہے ایسے ملک کی منتشر اور غیرمربوط اکائیوں کو باہم مربوط ومتحد رکھنے کے لیے سیکولرنظام اور مذہبی، لسانی، تہذیبی آزادی سے بہتر بظاہر کوئی اور صورت نہیں ہے، ہمارے پیش رو بزرگوں اور ملک کے معماروں نے جو سچے دل سے ملک وقوم کے بہی خواہ تھے بہت غور وفکر اور سوچ سمجھ کر ملک کے لیے یہ جمہوری وسیکولر ڈھانچہ مرتب کیا تھا۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ملک کے اقتدار پر قابض طبقہ ملک کے آئین وقانون سے بے نیاز ہوکر اپنے مذہب کو راج گرو کے طور پر پیش کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہے، اس لیے ملک میں آباد مسلم، عیسائی، پارسی، سکھ، بدھسٹ، جین وغیرہ سب کو ہندو بتایا جارہا ہے، ہندوستان کی ایک سو پچیس کروڑ آبادی پر یوگا مسلط کیا جارہاہے اور زبردستی اسکول کے نصاب میں یوگا کو شامل کیاجارہا ہے، جبکہ یوگا ایک برہمنی عبادت وریاضت ہے، یہ ملک کا نہیں بلکہ ایک خاص طبقہ کا کلچر ہے، جسے ہندوؤں کے مذہبی پیشوا، رشی منی، سادھوسنت اپنے مٹھوں میں برہمنی مذہبی عقیدہ کے مطابق اپنے چیلوں کے ساتھ بطور فرض روزانہ انجام دیتے ہیں۔ یوگا جسے غلط طور پر ورزش کا نام دیا جارہا ہے خود ہندو مذہبی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پانچ امور پر مشتمل ہے:

(۱)          آسنا (جسم کو خاص ساخت میں ڈھالنا)

(۲)         دھرنا (کسی خاص چیز پر دھیان دینا)

(۳)         دھیانا (آنکھیں بند کرکے مراقبہ کرنا)

(۴)         پرانیا (روح پر گرفت حاصل کرنے کی سعی کرنا)

(۵)         سوریہ نمسکار (دونوں ہاتھ جوڑ کر سورج کو آداب بجالانا)

آخردنیا کی وہ کونسی ایسی ورزش ہے جس میں ان مذکورہ امور کا التزام ہے؟

یوگا کی یہ شناخت اورپہچان خود بتارہی ہے کہ یہ ایک مذہبی طریقہ عبادت ہے، بالفرض اگر اس سے ورزشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے تو یہ اس کی ثانوی حیثیت ہے، اس کی اصل حقیقت تو عبادت وریاضت ہی کی ہے۔
اس لیے برہمنی مذہب کی اہم کتابوں مثلاً ویدوں اور بھگوت گیتا وغیرہ میں اس کا تفصیل سے تذکرہ کیاگیا ہے، بالخصوص بھگوت گیتا میں تو ایک مستقل باب یوگا کے بیان میں ہے۔ ابوریحان بیرونی جو قدیم برہمنی مذہب کا ایک مستند مسلم عالم ہے، اس نے بھی اس اپنی کتاب ”ما للہند“ عربی برہمنی مذہب کی کتابوں کے حوالے سے یوگا پر مفصل بحث کی ہے۔ ان سب حوالوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”یوگا“ برہمنی رسومِ عبادت پر مبنی ایک عبادت ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یوگا صرف ایک ورزش ہے عقیدہ، دھرم اور تہذیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یا تو یہ لوگ ”یوگا“ کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، یا جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں، اور اس جھوٹ کے ذریعہ وہ اپنے مذہب کو سب پر تھوپنا چاہتے ہیں۔
موجودہ حکومت کا یہ رویہ آئین وقانون کے خلاف ہے، ملک کے کسی شہری پر اس کی مرضی کے بغیر کوئی عقیدہ، دھرم اور مذہبی طریقہٴ عمل تھوپا نہیں جاسکتا ہے، یہ ناروا کوشش جب بھی اور جس سطح سے بھی کی گئی ہے اس سے ملک میں بے چینی اور انتشار ہی پیداہوا ہے۔
مودی حکومت،اس کے وزراء،ارکان پارلیمنٹ، اور پارٹی سربراہوں وغیرہ کے خلافِ آئین طریقہٴ کار اور رویہ کو دیکھ کر خود انھیں کے ایک انتہائی تجربہ کار، معتبر سینئر رہنما کو یہ اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ملک ایمرجنسی کی طرف جارہا ہے، اس لیے موجودہ برسراقتدار لوگوں کو آخر ملک وقوم سے ہمدردی ہے تو انھیں اپنے رویہ میں صالح تبدیلی لانی چاہیے اور اگر ان کے نزدیک ملک وقوم کے مقابلہ میں اپنی نیتی ہی عزیز ہے تو پھر وہ جو چاہے کریں اور اپنے کیے کے انجام کے بھی منتظر رہیں؛ کیونکہ دنیا عمل اور ردعمل کا مجموعہ ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot