Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, January 10, 2020

جمیعتہ العلمإ ہند کے زیر اہتمام مختلف ملی تنظیموں کا اجلاس۔۔۔حکومت کی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار۔


یونیو رسٹیوں کے طلباء پر ہوئے حملوں کی جوڈیشل جانچ کرائی جائے
مولانا ارشدمدنی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں ملی تنظیموں کا مطالبہ
بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مظاہرین پر ہوئے حملوں پر سخت تشویش کا اظہار
نئی دہلی 10/جنوری 2020/پریس ریلیز/صداٸے وقت۔/عبد الرحیم صدیقی۔
==============================
 شہریت ترمیمی قانون کی منظوری اوراین پی آرکو نافذ کرنے کے اعلان کے بعد ملک بھرمیں احتجاج کا جو سلسلہ شروع ہوا اور اس احتجاج کو کچلنے کے لئے جس طرح جگہ جگہ طاقت کااستعمال کیا گیا یہاں تک کے یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء کو بھی نہیں بخشاگیا اس کے خلاف پورے ملک میں غم وغصہ کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے اور ان حملوں کے خلاف لوگ کھل کر سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں جسے روکنے کے لئے پہلے ہی کی طرح طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے اس سے ملک کے حالات انتہائی تشویشناک ہوچکے ہیں، ان حالات میں کیاہوناچاہئے، ملک میں کس طرح امن واتحادقائم کیا جاسکتاہے اورمتنازعہ قوانین کے خلاف ہماراموقف کیا ہوان تمام اہم باتوں پر غوروخوض کے لے جمعیۃعلماء ہند کے صدردفترمیں مولانا سیدا رشدمدنی کی صدارت میں پہلی بارملک کی تمام نمائندہ  ملی تنظیموں کی ایک اہم میٹنگ میں منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃعلماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہند،، ملی کونسل، مسلم مجلس مشاورت کے ذمہ داران کے  علاوہ  دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اورمتعدد اہم اور مقتدرشخصیات نے ملک کی مختلف ریاستوں سے شرکت کی۔
 اس میٹنگ میں شہریت ترمیمی قانون 2020این آرسی اور این پی آرکے مختلف پہلوں اور اس کے خلاف ملک گیر سطح پر چلنے والی تحریک کا تفصیلی جائزہ لے کر درج ذیل قراردادیں منظورکی گئیں۔ شہریت ترمیمی قانون، این پی آراور این آرسی۔دینی وملی تنظیموں کا یہ اجتماع شہریت ترمیمی قانون 2020، این پی آراور این آرسی کے قوانین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتاہے۔ شہریت ترمیمی قانون نہ صرف ملک کی تکثیری حیثیت کے خلاف ہے بلکہ دستورہند سے بھی متصادم ہے۔ یہ قانون مذہب کی بنیادپر انسانوں کے درمیان تفریق پید اکرتاہے اوردستورکی بنیادی حقوق کی دفعات 14،15اور 21سے  براہ راست متصادم ہے نیزدستورکے ابتدائیہ (ُPreemble)کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح ملی تنظیموں کا احساس ہے کہ این آرسی کے ذریعہ آسام میں افراتفری پید اہوئی ہے اور  شہریوں کو محض اس بنیادپر کے ان کی دستاویزات میں املے کی غلطیاں تھیں این آرسی سے خارج کردیا گیا۔ ملی تنظیموں کا احساس ہے کہ اب جو این پی آر لایا گیا ہے وہ دراصل این آرسی کی ہی ابتدائی شکل ہے، نیز اس میں 2010کے این پی آرسے زیادہ چیزوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اجلاس کا مطالبہ ہے کہ سی اے اے سے مذہبی تفریق کو ختم کیا جائے، اسی طرح این پی آرکو یا تو واپس لیا جائے یا اس کی اضافی شقوں کو ختم کیاجائے۔ ملی تنظیموں کا یہ بھی احساس ہے کہ سی اے اے کا یہ قانون  پڑوسی ملک بالخصوص بنگلہ دیش سے ہمارے دوستانہ تعلقات کو بھی متاثرکرے گا۔  ملک کے جامعات پر حملے۔یہ اجلاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر طلباء ونوجوانوں کے ذریعہ ان قوانین کے خلاف چلائی جارہی تحریکوں کی بھرپورحمایت اور حوصلہ افزائی کرتاہے اور پولس کے ذریعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لال نہرویونیورسٹی اور حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی وغیرہ کے طلباء پر حملوں کی پرزورمذمت کرتاہے۔ ماسک بردارناپسندیدہ عناصر کے ذریعہ ملک کی معروف اورمقبول عام یونیورسٹی جے این یو کے طلباء پر حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولس اور یونیورسٹی کی سیکورٹی فورس اس حملہ کے وقت نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی بلکہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتی دکھائی دی۔یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ یونیورسٹی کیمپس پر ان حملوں کی جوڈیشل جانچ کرائی جائے اور جو پولس افسران اس  میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔بی جے پی اقتداروالی ریاستوں میں مظاہرین پر حملے۔ ملی تنظیموں کا یہ اجلاس بی جے پی اقتداروالی ریاستوں میں پرامن مظاہرین پر پولس کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتاہے،  جس کے نتیجہ میں آسام اور یوپی سے لیکر کرناٹک تک تیس سے زیادہ افراد پولس کی گولیوں سے شہید اور  بڑی تعدادمیں لوگ زخمی ہوئے اور سیکڑوں کی تعدادمیں مظاہرین کو گرفتارکرکے ان پر مقدمات قائم کردیئے گئے۔ افسوسناک پہلویہ ہے کہ بغیر کسی تحقیق اور عدالتی کارروائی کے مسلمانوں کی دوکانوں کو ضبط کرکے ان سے سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی کی بات کی جارہی ہے، یہ اجلاس ان قدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہے اور مطالبہ  کرتاہے کہ پولس کے ذریعہ تشددکے ان واقعات کی جوڈیشل جانچ کرائی جائے اور جوافسران اس میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے، یہ اجلاس ان ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتاہے کہ مہلوکین اور زخمیوں کو بھرپورمعاوضہ دیا جائے۔ اجلاس میں درج ذیل شخصیات نے شرکت کیں۔ مولانا سیدارشدمدنی ، مولانامحمد ولی رحمانی ، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی ، جناب سید سعادت اللہ حسینی ، مولانا عبداللہ مغیثی،  مولانا عبدالخالق مدراسی ،  مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، ڈاکٹرمحمد منظورعالم،پروفیسر اخترالواسع ، ڈاکٹرسید قاسم رسول الیاس، جناب نوید حامد ، مولانا شبیرندوی، جناب ملک معتصم خاں، مولاناعبدالعلیم فاروقی ، مولانا اسجد مدنی ، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مسلم قاسمی، مفتی اشفاق احمد، مولانا حلیم اللہ قاسمی ، مولانا قاری شمس الدین ، مولانا محمد خالدقاسمی ، مولانا محمد ہارون، مفتی عبدالرازق  اورپروفیسر احتشام الحق۔  

 فضل الرحمن قاسمی    پریس سکریٹری جمعیۃعلماء ہند.9891961134.

Post Top Ad

Your Ad Spot