Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, January 14, 2020

شاہین باغ مظاہرہ پر دہلی ہائی کورٹ نے پولیس سے کہا۔ قانون وانتظام اور مفاد عامہ کو دیکھتے ہوئے کارروائی کرے۔

نئی دہلی۔ صداٸے وقت /ذراٸع/١٤ جنوری ٢٠٢٠
=============================
شاہین باغ علاقہ میں گاڑیوں کی آمد ورفت شروع کرنے کے مطالبہ کو لے کر داخل کی گئی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ قانون وانتظام اور مفاد عامہ کو دیکھتے ہوئے کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کی پریشانی دیکھتے ہوئے قانون وانتظام کے تحت پولیس کبھی بھی روڈ خالی کرا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ شاہین باغ علاقے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے مدنظر دہلی میں سریتا وہار سے کالندی کنج کے درمیان گاڑیوں کی آمد ورفت کئی دنوں سے بند ہے جس سے اس علاقے کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے اسی معاملہ پر داخل کردہ ایک عرضی کو عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ پیر کے روز بھی ایک اور عرضی داخل کی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرنے والے درخواست گزار نے مانگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین اوکھلا میں شاہین باغ کی اس سڑک پر بیٹھے ہوئے ہیں جو آگے چل کر دہلی۔ آگرہ شاہراہ سے جڑ جاتی ہے۔ اسی سڑک پر اپولو اسپتال ہے۔ صبح سے شام تک ہی نہیں رات بھر اس سڑک پر خاصا ٹریفک بھی رہتا ہے۔ لہذا ان سب کو دیکھتے ہوئے سڑک کھلوانے کا حکم جاری کیا جائے۔
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے بھی تشار سچدیو اور رمن کالرا نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں سریتا وہار۔ شاہین باغ روڈ کو جلد سے جلد کھلوانے کی مانگ کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں کچھ دلیلیں بھی دی گئی تھیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران مفاد عامہ کی اس عرضی کو خارج کر دیا تھا۔
دہلی کے شاہین باغ علاقے میں جامعہ تشدد معاملہ کے بعد سے مسلسل احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ کڑاکے کی سردی اور بارش کے موسم میں بھی احتجاج کار سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ شاہین باغ میں یہ احتجاج 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ سڑک پر ہی سبھی کو ناشتہ، کھانا اور چائے، پانی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو گرم دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot