Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, January 20, 2020

اردو نعروں، نظموں اور اشعار سے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو تواناٸی مل رہی ہے !!!


از / حمزہ فضل اصلاحی /صداٸے وقت۔
==============================
آپ کی نظر سے انگریزی اخبارات میں ’اردو از اے لینگویج آف غزل ‘( اردو غزل کی زبان ہے) یا  ’اردو از اے لینگویج آف پوئٹری‘( اردو شاعری کی زبان ہے ) جیسی سر خیا ں گزری ہوں گی ۔    اب بھی ایک بڑا طبقہ غزل ہی کو اردو سمجھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں  اس کی نظر  میں اردو اور غزل ہم معنیٰ  ہیں ۔ کل تک  یہ غیر اردوداں طبقہ غزل ہی  سے واقف تھا    ۔ اسی بنیاد پر اردو کو ’لو  پوئٹری ‘ (عشقیہ شاعری) کی زبان کہتاتھا  ۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ غزل  ابتدا  ء میں عشقیہ شاعری ہی تھی ۔ آج بھی نصابی کتابوں میں غز ل کی تعریف :’’  آنکھوں سے کہے کوئی آنکھوں سے سنے کوئی =اس طر ز تکلم کو کہتے ہیں غزل گوئی ‘‘ درج ہے ، یہی اس کا لفظی معنیٰ بھی  ہے،  حالانکہ  اب غزل کا دامن بہت وسیع    ہوگیا ہے ۔ اس میں ہر موضوع کا احاطہ کیا جاتا ہے۔مذکورہ طبقہ غزل کی ابتدائی شکل عشقیہ  شاعری  ہی سے واقف تھا مگر حالیہ ملک گیر احتجاجی مظاہروں نے سب کچھ بدل  دیا ہے  ۔  ان میں    استعمال ہونے والے  اشعار اور نظموں  نے اس مفروضے کو ختم کیا   اور یہ بتا یا کہ  اردو شعراء نے حسن و عشق ہی   پر گفتگو نہیں کی ہے  ۔ ان کے غم اور بھی ہیں ، اور بھی مسائل ہیں، اور بھی موضوعات ہیں۔ ان مظاہروں میں سب سے زیادہ گفتگو فیض احمد فیض کی نظم ’ ہم  دیکھیں گے ‘  پرہوئی  جس کا ابتدائی نام ’و یبقٰی وجہ ربک‘ ہے  ۔  
 فیض احمد فیض کی نظم  پراحتجاج 
   اس نظم پر خاص  ذہنیت کے حامل افراد  نے احتجاج بھی کیا اور اس نظم کو  ہندو مخالف قرار دینے کی کوشش کی مگر ان کے احتجاج  ہی نے ایک بار پھر اس نظم پربحث کی راہ ہموا ر کر دی ۔ اردو نقادوں نے    اس پر بہت کچھ لکھا ہے ، اب بھی لکھ رہے ہیں۔ پڑوسی ملک  میں اقبال بانو کےبعد بیسیوں گلوکاروں نے اس نظم کو اپنی آواز  کے ذریعہ وقفے وقفے سے زندہ کیا ۔           اس طرح  فیض  احمد فیض کی یہ نظم کسی نہ کسی بہانے سے  زیربحث آتی رہی ہے۔ ہمیشہ  اس پر اردو داں طبقے ہی نے گفتگو کی مگر اس  مرتبہ اس پر دوسری زبان  کے ادیب اور دانشور اظہار خیال کررہےہیں ۔ اس کا تجزیہ کررہےہیں۔ خاص بات یہ ہےکہ   دوسری زبانوں  کے تجزیہ نگاروں نے  اس نظم کو خود سمجھا  ۔ پھر اپنے ناظرین  اور قارئین کو سمجھانے کی کو شش کی ۔ ہندو ستان کےمؤقر انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ’ ہم دیکھیں گے‘ کےعنوان سے اداریہ تحریر کیا ۔ اس میں فیض کی نظم کے کچھ اقتباس  پر بحث کی گئی ہے  ۔ 
   اسی طرح مشہور آر جے  صائمہ نے بھی ا پنی مخصوص آواز اور اندازمیں اس نظم کو نہ صرف گا یا بلکہ اسے ایک ٹیچر کی طرح سمجھایا  ۔ یوٹیوب پر اس کا ویڈ یو مو جو دہے۔’  دی للن ٹاپ‘ اور دیگریو ٹیو ب چینلوں  نے بھی اس پر روشنی ڈالی ۔  اس دوران فیض احمد فیض کی شخصیت بھی زیر بحث آئی  ۔ان کے کلام کے امتیازی پہلو بھی واضح کئے گئے   ۔   دوسری غزلوں اور نظموں کا بھی ذکر ہو ا۔   
  ایک خو شگوار  تجربہ 
  انگریزی نظموں کو اردو میں پڑھاتے ہوئے بچپن سےدیکھ رہا ہوں بلکہ طالب علمی کے زمانے میں اس کا حصہ بھی رہا ہوں لیکن کبھی اردو نظم کو انگریزی میں پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا  ۔ فیض احمد فیض کی اس نظم کوانگریزی میں پڑھاتے ہوئے تو نہیں دیکھا تھا کہ لیکن اس جیسا دیکھا اور یہ میری زندگی کا ایک خوشگوار تجربہ تھا ۔ اس نظم پرمعروف صحافی شیکھر گپتا نے  ’دی پرنٹ ‘پر  ایک شو کیا جس میں  وہ ایک پروفیسر کی طرح نظم کو   بلیک بورڈ کے بجائے  اسکرین پر انگریزی اور ہند ی  میں پیش کرتے ہیں اور انگریزی میں اس کے اسرا ر و رموز سمجھاتےہیں ۔ اس کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتےہیں ۔ اس پر مختلف زاویوں سے  روشنی ڈالتےہیں ،اس کی لفظیات پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ کا ش !ایسا بار بار ہوتا ۔   این  ڈی ٹی وی کے  منجھے ہوئے رپورٹراور صحافی کمال خان کو نظم کے متناز ع  حصے کی وضاحت کرتے ہوئےدیکھا  ۔ اس میں وہ بڑی حدتک کامیاب بھی نظر آئے۔ این ڈی  ٹی وی کی’ نغمہ‘ بھی ان کاساتھ دےر ہی تھیں     ۔ اسی طرح مظاہروں میں فیض احمد فیض کی نظم ’بول‘ بھی مقبول رہی ہے  ۔ اس کا یہ حصہ : بول کہ لب آزاد ہیں تیرے= بول زباں اب تک تیری ہے ‘‘  باربا ر پڑھا گیا ۔واضح رہے کہ ’بول‘ نظم کے اسی حصے  سے ٹی وی کے ہندی صحافی ابھسیار شرما   اپنے ایک شو( نیوز کلک) کی ابتدا ء کرتےہیں ۔ 
   حبیب جالب کی’ دستور‘
  اسی طرح   باغی اور انقلابی شاعر حبیب جالب کی نظم ’ دستور ‘ بھی ان  مظاہروں  میں باربار استعمال  ہورہی ہے ۔ حبیب جالب کی نظم پر کوئی اعتراض نہیں گیا ۔ اس کے باوجود یہ  انتہائی مقبول ہے۔ شاہین باغ کے مظاہرے میں شامل خواتین باقاعدہ  اردو اشعار سے آراستہ تختیا ں بنارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں رویش کمار نے  اپنے شو میں  اس کا ذکر کیا تھا۔ ا شعا ر منتخب کرنے والی  اور انہیں تختی تک پہنچانے والی خواتین سے بات چیت بھی کی تھی ۔   ایک شعر :’’وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے =مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا۔‘‘ سن کر  وہ خود کو روک نہیں سکے ۔ واضح رہےکہ رویش کمارکو ادب سے بھی دلچسپی ہے ۔ اس شعر کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے ، انہیں یہ معلو م تھا یا نہیں لیکن  رویش کمار  نے اس پر کھل کر داد دی تھی۔ علامہ اقبال کے کئی اشعار بھی  پڑ ھے جارہےہیں۔ بسمل عظیم آبادی کی غزل کا مشہور مطلع: ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے =دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے ‘‘ بھی مظاہروں کی زینت ہے ۔  جہاں تک نعروں کا سوال ہے تو  اردو  کامشہور نعرہ  ’انقلاب زندہ باد ‘ سب سے زیادہ مقبول ہے ۔ مظاہروں کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے دنیا کو یہ بتایا کہ   یہیں کے طالب علم  مجا ہد آزاد ی مولانا حسرت موہانیؒ نے یہ نعرہ تخلیق کیا۔ 
    مظاہروں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوئی تو کیفی کی نظم’ عورت‘ کامصرعہ’’ اُٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے ‘‘ مقبول ہو ا۔ مجاز کی نظم ’نوجوان خاتون سے‘ کا آخری حصہ : ’’ ترے ماتھے  پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن = تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا‘‘ خوب استعمال ہو رہا ہے ۔ مظاہروں  کے دوران انقلابی نظمیں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں  ،    غزلیں بھی تخلیق کی جارہی ہیں۔غیر اردوداں طبقہ بھی لکھ رہا ہے مگر ان میں اردو الفاظ کی کثرت ہے جن میں ششی بھوشن صمد،حسین حیدری اورورون گروور قابل  ذکر ہیں۔      یہ سب دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ  اردو غزل حسن وعشق کی ترجمان بن سکتی ہے، لطیف جذبات کو بیان کرسکتی ہے تواردو نظم عوام کے خیالات کی عکاسی کرسکتی ہے،ان کے مسائل کا احاطہ کرسکتی ہے، مظلوموں کی آواز بھی بن سکتی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot