Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, January 23, 2020

ہے طاقتِ ایمان تو اس سے بھی فزوں تر۔۔۔۔۔۔۔۔!

از /عبد الرشید طلحٰہ نعمانی /صداٸے وقت۔
=============================
وطن عزیز ہندوستان پچھلے چالیس یوم سے رزم گاہِ حریت بنا ہوا ہے۔ملک کے طول وعرض سے مسلسل آزادی کی صدائیں گشت کررہی ہیں،ہرمذہب ماننے والا،ہر زبان جاننے والا،ہر خطے اور پیشے سے تعلق رکھنے والاہوش مندانسان ملک کے جمہوری اقدار وسیکولرروایات کی حفاظت کے لیے سراپا احتجاج بناہواہے۔ان جاں بہ لب حالات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہندوستان میں ایک بار پھراسپین کی تاریخ دہرانے کی سازش رچی جارہی ہے،این آرسی اور شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یاکم از کم ارتداد کے گھاٹ اتارنے کے تانے بانے بنے جاچکے ہیں اور وزیر داخلہ بھی اپنے تازہ ترین متنازع بیانات کے ذریعہ اس پریقین دلانے کی سعیِ نامشکورکرتے نظر آرہے ہیں۔

‘اسپین’جس پر مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک اس شان وشوکت کے ساتھ حکم رانی کی کہ یورپ جیسی عظیم قوت بھی ورطہئ حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکی، دنیاکی سب بڑی مسجد اندلس میں تھی جس کا نام جامع قرطبہ تھا، جہاں بہ یک وقت علم تفسیر،علم حدیث،علم فقہ،علم فلسفہ اور مختلف علوم وفنون پڑھائے جاتے تھے،جہاں ہزاروں مسجدیں اور مدرسے آباد تھے، جہاں کی تہذیب وثقافت،خوش حالی وزرخیزی کے ساری دنیا میں چرچے تھے،جہاں اسلام کے متوالوں نے جوش وجنوں اور عز م و استقلال کی روشن مثال قائم کی اوراسلام کی انسانیت نواز تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر فتح کے پرچم گاڑھے۔تاریخ گواہ ہے کہ طارق بن زیادکی جاں باز فوجوں نے اندلس کو فتح توکرلیا؛ لیکن وہاں کے لوگوں کا کشت وخون نہیں کیااور انہیں امن وامان کے اتھ رہنے کی اجازت دے دی۔مگر جب کم وبیش آٹھ سو سال بعدمسلمانوں کی غفلت اور عیش وعشرت میں مبتلا ہوجانے کے سبب عیسائیوں نے دوبارہ اس ملک پر قبضہ کیا تو ان کی خون آشام تلوار نے ایک بھی کلمہ گونہیں چھوڑا،علماء کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالاگیا،عورتوں کی سرعام عزتیں لوٹی گئیں، بچوں کو اپنے گھروں میں رکھ کر عیسائی بنایاگیا، ایک طویل عرصہ تک وہاں کے بام ودر اذان کی آواز کے لیے ترستے رہے۔ان کی اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ کوئی ڈاڑھی والا مسلمان کہیں نظر آتاتواس کو مجبور کیاجاتا کہ وہ عیسائی بن جائے،مسلمان عورتوں پرظلم ڈھایاجاتا کہ وہ مذہب تبدیل کرلیں،بچوں کا اغواکیا جاتا اور ان کے نام بدل کر عیسائیوں کے نام رکھ دیئے جاتے پھر ان کو بائبل پڑھا کر عیسائیت میں داخل کردیا جاتا، لاکھوں مسلمانوں کو بالجبریاتو عیسائی بنا لیا گیا یا شہید کردیا گیا۔وہاں کی مسجدیں کلیسا اور گرجا گھر وں میں تبدیل کردی گئیں۔ وہاں کی مسجد قرطبہ آج تک ماتم کناں ہے اور نماز پڑھنے والوں کے انتظار میں ہے۔ اقبال مرحوم نے اس پریوں مرثیہ خوانی کی ہے۔ ؎
اے گلستان اندلس وہ دن ہے یاد تجھ کو
تھا تیری ڈالیوں پہ جب آشیاں ہمارا
اے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کو
اب تک ہے تیرا دریاافسانہ خواں ہمارا
یہ قانون فطرت ہے کہ رب کائنات نے ہردور میں حق و باطل کی آویزش رکھی، فرعون کے لئے موسی کو پیدا فرمایا،جہاں بڑے بڑے ظالم،جابر اور غاصب حکم راں آئے جنہوں اسلام کے شجر طوبی کو کاٹناچاہا، اس کی فطری مقبولیت کو کم کرنے کا ارادہ کیااور اس کو بیخ وبن سے اکھاڑپھینکنے کی سازش رچی،وہیں اسلام پر اپنی جان ومال،اپنی آل و اولاد اور اپنا گھر بار سب کچھ قربان کرکے اسلام کی شمع کو روشن کرنے والے بھی سر پر کفن باندھ کر میدان کار زار میں موجودرہے اور حق تعالی کا وہ وعدہ  ناقابل تردیدسچائی بن کر سامنے آیا کہ حق آیااور باطل ملیامیٹ ہوگیا۔
مسلمانانِ ہند کو درپیش خطرہئ ارتداد:
ان سیاہ قوانین کے نفاذ کے بعد(خداکرے کہ یہ نافذ ہی نہ ہوں اور ظالموں کے خلاف مظلوموں کو کامیابی نصیب ہو) بزرگان دین کو جس فتنے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ ارتداد کا فتنہ ہے؛ اس لیے کہ گاؤں دیہات سے تعلق رکھنے والے وہ کمزور و نادار مسلمان جو دین کی ابجد بھی نہیں جانتے اور ایمان کی قدر و قیمت تک نہیں پہچانتے، بعیدنہیں ہے کہ وہ شہریت حاصل کرنے کے لیے اسلام کو خیر باد کہہ دیں اور خوشی خوشی شرک وبت پرستی قبول کرلیں۔ پھرآج کا دورایمان داری کادور نہیں ہے۔لوگ چند کوڑیوں کے لیے جھوٹ بولنے پر راضی ہوجاتے ہیں، چند ٹکوں کے لیے غلط گواہی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، چھوٹی سی جائیداد کے لیے حقیقی بھائی کے قتل کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں،ایسے دور میں جب اسلام کے ماننے والوں پر عرصہئ حیات تنگ کیا جائے گا، انہیں ملک و جائیداد سے محروم کرنے کی بات ہوگی تو ایمان و یقین کی عمارت میں ضرورزلزلہ آئے گا اور وہ دھڑام کے ساتھ زمین بوس ہو جائے گی۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ صرف زبانی اندیشے اوراوہام وخیالات نہیں ہیں؛بل کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی  انگریزی دور حکومت میں شدھی تحریک کے عنوان سے دیگرمذاہب کے لوگوں کو ہندومت میں شامل کرنے کی مذموم کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ شدھی کرن کے معنی ہیں پاک کرنا۔ ہندو اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ جو پہلے ہندو تھے، انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو وہ ناپاک ہوگئے۔ انہیں پھر ہندو بناکر پاک کیا جائے گا۔ اسی خیال سے انہوں نے تحریک کا نام ”مسلم شدھی کرن تحریک“ رکھا۔ پنڈت دیانند سرسوتی اورآگرہ میں سوامی شروھانند کی ”بھارتی شدھی سبھا“ کا صرف یہی مقصد تھا کہ مسلمانوں کو ذہنی طور پر باور کروایا جائے کہ تم لوگ ہندو ہو اور تمہارے باپ دادابھی ہندو تھے۔ تاہم مسلمانوں کو مرتد بناکر ہندو ازم میں داخل کرنے کی اس مذموم تحریک کا آغاز۳۲۹۱ء میں ہوا، گاؤں گاؤں،قریہ قریہ بھولے بھالے مسلمانوں کو شدھی ہونے کے لیے کہاجاتا تھااور جان ومال کے لیے لوگ تیزی کے ساتھ مرتد ہوتے چلے جاتے تھے۔
اس وقت برسراقتدارجماعت کا اصل مقصدبھی ہندوستان کو ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنا اورمسلمانوں کو ہندو رنگ میں رنگنا ہے۔معروف ہندی روزنامے کیسری اور اجالا کی رپورٹ کے مطابق موہن بھاگوت نے وارنسی میں عیسائیوں کی گھر واپسی اور مسلمانوں کی شدھی کرن کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان بھر میں طے شدہ ہدف کے مطابق شدھی کرن پر کام ہو رہا ہے۔ اس ناپاک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ۰۰۸ کے لگ بھگ تربیت یافتہ پرچارکوں اور ہندواسکالروں کی رہنمائی میں ۰۸ ہزار این جی اوز کی ذیلی تنظیموں کو تربیت دی گئی۔اہداف شدہ علاقوں میں مذموم سرگرمیاں جاری ہیں۔ آر ایس ایس کے ترجمان روزنامہ پنج جینیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شدھی کرن کے اس نئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں میں اسلامی معاشرے سے ارتداد پر زور دیا جائے گا۔اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قادیانیوں کا استعمال، مسلم نام نہادتنظیموں اور انجمنوں کا قیام، مسلمانوں میں بابا گیری اور جادو ٹونے کا فروغ، مسلم راشٹریہ منچ جیسی چاپ لوس تنظیموں کا ملک بھر میں جال بچھا دینا شامل ہے؛ تاکہ مسلمان عمومی طور پر دھیرے دھیرے جمہوریت کے ساتھ ہندو توا کو بھی ذہنی طور پر قبول کر لیں۔
برطانوی جریدے پریمئر نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں آر ایس ایس اور اس کی آئیڈیالوجی سے وابستہ تنظیمیں ایک طرف بھارت کو ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے لیے عیسائی مشنری کو جبرو تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں تو دوسری طرف ایک بڑے منصوبے کے تحت ”مسلم شدھی کرن“ پر بھی متواتر کام کیا جارہا ہے، جریدے کے مطابق مسلمانوں کے شدھی کرن کوسنگھ پریوار نے ایک چیلنج کی طرح قبول کیا ہے؛کیونکہ مسلمانوں میں اسلام سے وابستگی کا خاتمہ ناممکن ہے، اس لیے ناپاک منصوبے پر مرحلہ وار کام ہو رہا ہے۔(القلم آن لائن)
اس وقت جہاں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم پوری توانائی کے ساتھ آئین کی حفاظت کے لیے ہونے والے احتجاج کا حصہ بنیں اور ان سیاہ قوانین کو واپس لینے کامطالبہ کریں،وہیں ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم نعمت ایمان کا استحضار رکھیں اورعام مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ چاہے جو بھی ہوجائے ہم دین اسلام سے پھرنے والے نہیں ہیں،ہم اسلام کی بقا کے بعد ملک کی سالمیت چاہتے ہیں اور ہمیں اس بات پرپورایقین ہے کہ ہم ملک و ملت کے دونوں محاذوں پر کامیاب و کامران رہیں گے۔اگر ہم میں سے ہر فرد یہ فیصلہ کرلے کہ اسے صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کررہنا ہے،ایمان پرثبات کو یقینی بناناہے، سب کی بھلائی چاہنا ہے، سب کے لئے سراسر خیر ثابت ہونا ہے، ہر حرام سے بچنا ہے، رب ذوالجلال،اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب مجید کی محبت کو دیگر تمام محبتوں پر غالب کردینا ہے، اسے اپنی تمام ذمہ داریوں کو تن دہی اور جاں فشانی سے انجام دینا ہے، خودہی راہ راست پر نہیں چلناہے؛بل کہ جہاں تک آواز پہنچتی ہے خیر کی اس آواز کو پہنچانا اورعام کرناہے، اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی وقت کا ایک ایک لمحہ رب کی قربت کا مستحق بننے کی سعی میں بسرکرنا ہے۔اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر امتی یہ پختہ فیصلہ کرلے، پھر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے تو یقینا آنے والا وقت ہمارا ہوگا اور آخرت کی سرخروئی تو ہمارا مقدرہے ہی۔
کچھ رہے یا نہ رہے پر یہ تمنا ہے امیر
آخری وقت سلامت مرا ایمان رہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot