Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, February 2, 2020

انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ: گجرات فسادات کے ملزمان کو ضمانت کیسے ملی؟۔۔۔۔ایڈوکیٹ میہر دیساٸی کا تبصرہ۔

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے علاقے سردار پورہ میں سنہ 2002 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملے میں 14 ملزمان کو ضمانت دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ تشویش ناک ہے

از /میہر دیساٸی۔/صداٸے وقت /بشکریہ بی بی سی اردو۔

ان افراد کو مکمل سماعت کے بعد سنہ 2002 کے فسادات میں 33 بے قصور مسلمانوں کو زندہ جلانے کا مجرم پایا گیا۔ ان فسادات میں مرنے والوں میں 17 خواتین اور دو بچے شامل تھے۔ اس معاملے میں 56 افراد کو ملزم ٹھہرایا گيا تھا۔ تاہم تمام ملوث افراد کو اس قتل عام کے واقعے میں محض دو ماہ کے اندر ضمانت دے دی گئی۔

اس معاملے میں جب سپریم کورٹ کو گجرات میں قانونی سماعت میں گڑبڑ کا احساس ہوا تو اس نے سردارپورہ سمیت آٹھ معاملوں کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی قائم کی اور سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو علیحدہ طور پر مقرر کیا۔

بالآخر 31 لوگوں کو ٹرائل کورٹ میں قصوروار پایا گیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا جہاں 31 میں 14 افراد کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا۔

عام حالات میں اس قسم کے معاملات میں اس وقت تک ضمانت پر رہائی نہیں دی جاتی جب تک کہ سپریم کورٹ اپیلوں پر فیصلہ نہیں سناتی۔

ضمانتیں عام طور پر قانونی اصول کے تحت ملتی ہیں۔ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ فی الحال انڈیا کی جیلوں میں 68 فیصد ایسے قیدی ہیں جن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ ان میں سے 53 فیصد دلت یعنی پسماندہ طبقے، قبائلی اور مسلمان ہیں جبکہ 29 فیصد تو ناخواندہ ہیں۔

متاثرین

سپریم کورٹ کا موقف

زیادہ تر زیر سماعت قیدیوں کو جیل میں اس لیے رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ وکیل کا خرچ نہیں اٹھا سکتے اور انھیں عدالتی نظام سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملتی۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو ضمانت مل جانے کے بعد بھی رہائی حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے پاس ضمانت کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہوتی۔

سردار پورہ معاملے میں جن لوگوں کو عدالت عظمیٰ سے ضمانت ملی وہ زیر سماعت قیدی نہیں تھے بلکہ انھیں قتل کے معاملے میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے قصوروار ٹھہرایا تھا۔ کیا ایسے معاملے میں بھی قصورواروں کو ضمانت دی جا سکتی ہے لیکن حال ہی میں انڈین سپریم کورٹ کا اس پر موقف پریشان کن ہے۔

عام طور پر قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد ضمانت نہیں ملتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں خراب صحت کی بنیاد پر بابو بجرنگی کو ضمانت دی جنھیں قتل کے معاملے میں دو بار قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے۔

بابو بجرنگی وہ شخص تھے جنھوں نے ایک سٹنگ آپریشن کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ کس طرح انھوں نے سنہ 2002 میں فسادات میں نرودا پٹیا قتل عام کے دوران ایک حاملہ مسلم خاتون کا پیٹ چیر کر بچہ باہر نکالا تھا اور اس میں ترشول پیوست کر دیا تھا۔

اسی طرح نرودا پٹیا قتل عام کے تین دوسرے قصورواروں کو سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں ضمانت دے دی تھی۔

جی این سائی بابا کا معاملہ

سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگانے کے معاملے میں 94 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے سنہ 2002 میں گجرات میں فساد ہوئے تھے۔ ان 94 افراد میں سے کسی کو بھی ضمانت نہیں دی گئی۔

سماعت کے بعد 94 میں سے 31 افراد کو قصوروار ٹھہرایا گیا جبکہ باقی افراد کو اس کے بعد بھی آٹھ سالوں تک جیلوں میں رکھا گیا۔

ایک طرف گودھرا کے بعد سنہ 2002 میں ہونے والے فسادات میں گرفتار تمام لوگوں کو ضمانت دے دی گئی۔ زیادہ تر معاملے میں استغاثہ کی جانب سے ضمانت کے خلاف اعتراض نہیں کیا گيا۔ دوسری طرف بھیما کورے گاؤں کے زیر سماعت معاملے کو دیکھیے۔

اس معاملے میں کچھ پروفیسروں اور وکیلوں کو ماؤ نواز شدت پسند کے معاملے میں مبینہ خطوط (جن کی صداقت پر سپریم کورٹ کے جج نے شبہ ظاہر کیا ہے) کی بنیاد پر ملزم ٹھہرایا گيا۔ یہ خطوط نہ تو ان لوگوں کے پاس سے ملے ہیں، نہ ہی انھوں نے لکھے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کسی کو بھیجے تھے۔ یہاں تک کہ ان خطوط کو ای میل کے ذریعے بھی کسی کو نہیں بھیجا گیا ہے۔

یہ خطوط بغیر کسی دستخط کے ہیں اور ہاتھ سے لکھے ہوئے بھی نہیں ہیں بلکہ ٹائپ کیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو ڈیڑھ سال سے ضمانت نہیں ملی ہے۔

پروفیسر جی این سائی بابا کو کمزور شواہد کی بنیاد پر ماؤ نواز ہونے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ جسمانی طور پر 90 فیصد معذور ہیں اور بے شمار مہلک بیماریوں کا شکار ہیں لیکن ان کی ضمانت والی عرضی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

سیکولر آئین کا حصہ

اسی طرح انڈین پولیس کے افسر سنجیو بھٹ کو ضمانت نہیں ملی۔ جس معاملے میں انھیں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے وہ اپنے آپ میں مشتبہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں وزیر اعظم پر تنقید کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سنجیو بھٹ پر الزام ہے کہ ان کی زیرِ نگرانی ایک شخص کو دورانِ حراست ہلاک کیا گیا تھا۔

جس شرط پر ضمانت ملی ہے وہ بھی اہم ہے۔ آپ اپنی گھریلو ریاست گجرات نہیں جا سکتے ہیں اور مدھیہ پردیش میں سماجی کام کرسکتے ہیں۔

اگر سزا کا مقصد اصلاح ہے تو اسے سبھی معاملوں میں برتنا چاہیے۔ خواہ کسی کو ریپ کے معاملے میں سزائے موت ملی ہو یا سابرمتی میں آگ لگانے کے معاملے میں عمر قید ہوئی ہو یا پھر نکسلی معاملے میں کسی کو پھنسایا گیا ہو۔

حالیہ فیصلوں سے یہ پیغام جاتا ہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ سیکولر آئین کا حصہ ہے لیکن مذہب کی بنیاد پر تعصبات کو خود ہی نہیں روک پا رہی ہے۔

مثال کے طور پر جنوبی ہند کی ایک لڑکی ہادیہ کی شادی کے واقعات میں قومی تفتیشی ادارے این آئی اے نے پوچھ گچھ کی، کشمیر کو خصوصی حیثیت دیے جانے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر عدالت میں اس معاملے کو اولیت نہیں دی گئی، کشمیر میں انٹرنیٹ بند کیے جانے پر بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں آیا، کشمیر میں جنھیں قید کیا گیا ہے یا نظر بند کیا گیا ہے اس معاملے پر بھی عدالت نے کچھ نہیں کیا۔

این آر سی، مذہب کی بنیاد پر شہریت یعنی سی اے اے، عقیدے کی بنیاد پر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاملے میں دخل دینے سے انکار اور سبریمالا معاملے میں اپنے ہی فیصلے کو نافذ نہ کروا پانے جیسے کئی واقعات ہیں جس سے عدالت کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔

(میہر دیسائی گجرات فسادات کے متاثرین کے وکیل رہ چکے ہیں)

Post Top Ad

Your Ad Spot