Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, February 13, 2020

بریانی کا مذاق اور گولی مارنے کے نعرے بی جے پی کے کتنے کام آٸے؟؟؟

نٸی دہلی /صداٸے وقت/نماٸندہ خاص۔
==============================

اروند کیجریوال تیسری بار دلی میں حکومت بنائیں گے
'' شاہین باغ کے لوگ آپ کے گھروں میں گھس کر بہوں اور بیٹیوں کا ریپ کریں گے۔۔۔''
'شدت پسندوں کو بریانی کھلانے کے بجائے بلیٹ (یعنی بندوق کی گولی' کھلانی چاہیے''۔
''دیش کے غداروں کو گولی مارو۔۔۔کو''
'' اروند کیجریوال شدت پسند ہیں''۔
٨ کو دہلی میں انڈیا پاکستان ہوگا۔
جو بات سے نہ مانے وہ گولی سے مانے گا۔

یہ کوئی معمولی بیانات نہیں ہیں، نہ ہی یہ کسی عام شخص کی جانب سے دیئے گئے بیانات ہیں۔ یہ بیانات دلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے لیڈران کے دیئے ہیں اور ان کی جانب سے یہ ایک کوشش تھی دلی کے ووٹروں کو فرقہ پرستی کی سیات کی جانب راغب کرنے کی۔
ویسے  اس طرح کے بیانات اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران سنے جا چکے ہیں لیکن دلی کا حالیہ الیکشن اس طرح کے بیانات کے لیے یاد رکھا جائے گا۔
اشتعال انگیز بیانات کا یہ عالم تھا کہ انتخابی کمیشن کو بی جے پی کے بعض 'سٹار' کیمپینرز کو انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرنی پڑی۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ انتخابی کمیشن کی اس بات کی تنقید ہوئی کہ اتنے اشتعال انگیز بیانات کی سزا صرف چند گھنٹوں کی پابندی؟
تو کیا سمجھا جائے کہ دلی کے انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس دوسرے کوئی اہم موضوع نہیں تھے جن کی بنیاد پر وہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرپاتی؟
ایسا نہیں ہے کہ اس انتخابی مہم میں ان موضوعات کی بالکل بات نہیں کی جو عوام کی روز مرہ کی زندگی میں اہم ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی ترقی کی بات دوہرائی اور اروند کیجریوال پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 'مرکزی حکومت کی بہترین سکیم کے نفاذ میں رخنے ڈالے ہیں۔‘
لیکن اس کے برعکس اتنخابی مہم کے دوران ہر چھوٹے موٹے اجلاس میں بی جے پی کے بڑے اور نوجوان رہنما جیسے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما نے شاہین باغ کو بڑا اشو بنایا اور پاکستان اور شدت پسندی کی بات کو بار بار دہرایادیب گیا۔
بی جی پے کی پوری قیادت دلی اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ لے رہی تھی
وزیر داخلہ امت شاہ اور بعض دیگر بڑے رہنماؤں نے بھارت کی سرحدوں کو مضبوط بنانے کی بات کی اور ملک کو ' دشمن کی پہنچ سے باہر' بتایا۔ انہوں نے عوام کو بار بار یہ بات بتائی کہ انڈیا نے پاکستان کی حالت بری کردی ہے اور اب پاکستان انڈیا کے نام سے کانپتا ہے۔
بے روزگاری، پینے کے صاف پانی، بہتر سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی بات ہوئی۔ بیرونی سرمایہ کاری، غرباء کے لیے مفت رہائش گاہ، بہتر تعلیمی نظام کی بھی بات ہوئی۔لیکن اس سب پر فرقہ پرستی کی سیاست زیادہ گرم دکھائی دی ۔
کون کتنا بھارتیہ ہے، کس کے اندر کتنا حب الوطنی کا جزبہ ہے اور کس میں کم، اور جو شہریت کے قانون سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ پڑوسی ممالک کے اقلیتوں کو انڈیا شہریت دے۔ وغیرہ وغیرہ۔
بار بار بنگلہ دیشی 'داراندازیوں' ، روہنگیا مسلمانوں کا ذکر ہوا۔ بی جے پی کے رہنما یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ کس طرح بنگلہ دیشی درانداز بھارت میں داخل ہوچکے ہیں اور سرکار ان کو باہر نکالنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان دارنداز کی تعداد کبھی ایک کروڑ تو کبھی دو کروڑ بتائی گئی۔
یہ بھی کہا گیا کہ جس کو انڈیا پسند نہ ہو اس کو کہیں اور جانے سے کس نے روکا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں سالوں تک بیرونی حکمرانوں نے ہندوؤں پر حکمرانی کی ہے اور اب اسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔شاہین باغ کو بی جے پی نے  ایک انتخابی ایشو کے طور پر پیش کیا
بی جے پی نے اس بات کو بھی دوہرایا کہ سبھی بھارتیوں کو سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کی ضرورت ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتنخابی مہم کے دوران اپنے 250 ارکان پارلیمان کو میدان میں اتار دیا۔ اتنا ہی نہیں ملک کی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء کو مہم میں حصہ لینے کے لیے دلی بلایا گيا۔ حد یہ ہے کہ ارکان پارلیمان سے کہا کہ وہ کچی بستیوں میں رات گزاریں ۔ یہ وہ کچی بستیاں تھیں جن کو کیجریوال سب سے زيادہ مقبول ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یہ کیجریوال کے ووٹ کاٹنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔
ایسا نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابات کے دوران اسے قبل کبھی مذہب کی بنیاد پر سیاست نہیں کی۔2019  کے عام انتخابات سمیت گزشتہ کئی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی انتخاب قریب آتے ہی اس طرح کی سیاست کرنے لگتی ہے لیکن دلی میں اس میں زور زیادہ دکھائی دیا۔
اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ، مغربی بنگال میں پارٹی کے صدر دلیپ گھوش، سنی دیول اور روی کشن نے اہم ریاستوں میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ' مذہب اور قوم پرست' سے لیس انتخابی تقریروں کا بی جی پے کو فائدہ ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے گزشتہ کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں اس کو شکست کا سامنا رہا ہے جیسے پنجاب، جھارکھنڈ اور اب دلی۔تو ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی سیاست کو 'قوم پرستی اور مذہب' کے بدلے ان ایشوز پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس سے عوام کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے؟

Post Top Ad

Your Ad Spot