Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, February 26, 2020

انصاف کب ملے گا؟

از/سمیع اللہ خان /صداٸے وقت۔
==============================
 دہلی میں انٹرنیٹ اور میڈیا ذرائع پر پابندی نا ہونے کے سبب ہندوتوا غنڈوں اور پولیس کی درندگی ہمارے سامنے آگئی ہے
 ذرا سوچیے کشمیر میں کیا ہوا ہوگا؟ جہاں انٹرنیٹ اور میڈیا ذرائع پر پابندی عائد کرکے ہمارے ۸۰ لاکھ بھائی بہنوں کو اذیت ناک صورتحال میں رکھاگیاہے 
جب کشمیر پر اس متعصب گورنمنٹ نے آرٹیکل ۳۷۰ ختم کرکے کریک ڈاؤن کیا تھا، ہم نے تبھی کہا تھا، اب تو آنکھیں کھولو اور کشمیریوں کے اُس حق کے لیے آواز اٹھاؤ جو ان کا بنیادی، انسانی اور آئینی حق ہے کیونکہ کشمیر صرف ملکی بارڈر نہیں، یہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی عزت و آبرو کی سرحد ہے، لیکن ہم ان کی مدد کیا کرتے؟ ہمارے بعض نام نہاد لوگوں نے تو اس ظالم حکومت کی چاپلوسی کے لیے، کشمیریوں کے زخموں پر بےشرمی کے ساتھ نمک چھڑکنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا، ہم اپنے مظلوم بھائیوں سے الگ ہوتے رہے اور ان کے ساتھ خاطرخواہ کھڑے نہیں ہوئے، اس سبب بھی یہ آگ ہم تک پہنچ رہی ہے، اس حقیقت کا ادراک اور اعتراف بہت لازمی ہے، کیونکہ یہ ایک نحوست ہے
ہم اپنی قوم پر ملک گیر خونی مظالم کو آج تک جن کھوکھلے مفادات کے لیے برداشت کرتے آئے ہیں وہ مفادات آج تک حاصل نہیں ہوسکے ہيں جیسے، قومی یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، گنگا جمنی تہذیب، امن و امان، جمہوریت اور سیکولرزم، ان میں سے کچھ بھی نہیں ملا، اسلیے کہ یہ قدریں ظلم برداشت کرنے سے کبھی نہیں مل سکتیں، بلکہ باعزت اور بے خوف شناخت قائم کرنے سے خود چل کر جھولی میں آتیں ہیں 
ہماری ستر سالہ پالیسیوں نے ثابت کردیاہے کہ ہماری جانب سے قومی یکجہتی، پیام انسانیت اور گنگا جمنی تہذیب کا یکطرفہ مطالبہ، ناکام ترین راستہ ہے
ہماری صورتحال نے یہ واضح کردیاہے کہ موجودہ ہندوستان کا سسٹم، سیاسی گلیارے، مقننہ کے ساتھ پولیس ڈپارٹمنٹ تک مسلم دشمنی میں بدذات اور بدباطن ہے، ان پر خالص مطالبات کا کوئی اثر نہیں ہوتا 
ہمیں بہادری کے ساتھ ظلم کےخلاف لڑنا بھی ہوگا اور سسٹم میں پہنچنا بھی ہوگا
یہ بھی دو دو چار کی طرح عیاں ہےکہ ہمارا وطنی نقطۂ نظر ہماری اسلامی اخوت اور اسلامی شناخت کو کچل رہاہے، جس کی وجہ سے ہم ملک گیر سطح پر قومی سلامتی اور امن و امان کے جھوٹے نعروں تلے ظلم کی بھٹی میں جھونکے جاتےہیں 
آئین ہند کے تحت اب بھی ان ظالموں کو پھانسی دینے کی گنجائشیں ہیں لیکن ان ٹھوس آئینی دفعات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا؟ 
ہر فساد، اور تباہی کے بعد لمبی لمبی تقریریں، مذمتی بیانات اور دکھلاوے کی پولیس و عدالتی کارروائیوں کے لالی پاپ تلے ہمارے غصے کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن فسادیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے والا انصاف کبھی نہیں ملتا، آج تک نہیں ملا، کیا کل انصاف ملےگا؟
#سمیع_اللّٰہ_خان
26 فروری، بروزبدھ ۲۰۲۰ 
 ksamikhann@gmail.com

Post Top Ad

Your Ad Spot