Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, March 7, 2020

آج 8 مارچ ”عالمی یوم خواتین “ ہے۔


عالمی یوم خواتین بین الاقوامی طور پر 8 مارچ کو منایا  جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔

 صداٸے وقت فیچر مورخہ 8 مارچ 2020.
============================
یوم خواتین کے پس منظر کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ امریکا میں خواتین نے اپنی تنخواہ کے مسائل کے متعلق احتجاج کیا، لیکن ان کے اس احتجاج کو گھڑسوار دستوں کے ذریعےکچل دیا گیا، پھر 1908 میں امریکا کی سوشلسٹ پارٹی نے خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے ’’وومین نیشنل کمیشن‘‘ بنایا اور اس طرح بڑی جدوجہد کے بعد فروری کی آخری تاریخ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔
عالمی یوم خواتین، سب سے پہلے 28 فروری کو 1909 میں امریکا میں منایا گیا، پہلی عالمی خواتین کانفرنس 1910 میں کوپن ہیگن میں منعقد کی گئی، 8 مارچ 1913 کو یورپ بھر میں خواتین نے ریلیاں نکالیں اور پروگرام منعقد کیے اور اب برسوں سے 8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ چین، روس، نیپال، کیوبا اور بہت سے ممالک میں اس دن خواتین ورکرز کی چھٹی ہوتی ہے اور دیگر ممالک کی طرح بر صغیر میں بھی یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
لیکن، ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی دن کو کسی کے نام سے منا لینا کیا اس کے تمام حقوق ادا کر دیتا ہے؟ جیسا کہ آج کل فادرس ڈے، مدرس ڈے، چلڈرنس ڈے، ٹیچرس ڈے، مزدور ڈے، وغیرہ صرف ایک دن منائے جاتے ہیں، جبکہ یہ وہ سارے رشتے ہیں جن کی اہمیت ہر وقت اپنے کسی نہ کسی حقوق کی متقاضی ہے۔
عورت ایک ایسی شے ہے جس کی حیثیت کے تعین میں ہر دور میں لوگوں نے اپنی ذہنی سوچ کو اعلیٰ وارفع دکھانے کی خاطر، کوئی نہ کوئی روپ دینے کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ اس کو دیوی کا روپ دے دیا گیا اور کبھی اس کے عروج یا با عزت مقام کو برداشت نہ کر کے اس کو پستی کی انتہا تک پہنچا دیا گیا اور مذہب کے نام پر ہی برہنہ کرکے گھمایا گیا اور کبھی اس کو سماجی برابری، آزادی نسواں کا نعرہ دے کر دفتروں، کارخانوں اور دوکانوں میں لا کھڑا کیا اور عورت بیچاری ہر دور میں فریب کھاتی رہی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot