Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, March 5, 2020

: گئو کشی کےجھوٹے الزام میں دو مسلمانوں کی بے رحمی سے پٹائی۔۔۔ایسڈ اٹیک کی دھمکی۔

مار پیٹ میں زخمی ایک مسلم شخص نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’حملہ آوروں نے ہمارے مذہب کو لے کر گالیاں دیں اور ہم پر گئوکشی کا الزام عائد کیا۔‘‘

بلند شہر ...اتر پردیش/صداٸے وقت /ذراٸع۔
=============================
گئوکشی کے نام پر ایک بار پھر اتر پردیش میں مسلمانوں کی پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کچھ نیوز پورٹل پر ایک ویڈیو اَپ لوڈ کیا گیا ہے جس میں دو مسلمانوں کی 7-6 لوگ بے رحمی سے پٹائی کر رہے ہیں اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ واقعہ گزشتہ پیر کے روز اتر پردیش کے بلند شہر میں پیش آیا تھا جس کا ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔
اس مار پیٹ میں زخمی ہوئے ایک مسلم شخص نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’حملہ آوروں نے ہمارے مذہب کو لے کر گالیاں دیں اور ہم پر گئوکشی کا الزام عائد کیا۔‘‘ زخمی شخص نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ایسڈ اٹیک کی دھمکی بھی دی ہے۔
ویڈیو دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ چھ سات لوگ دو افراد کو گالیاں دے رہے ہیں اور ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ دونوں مسلم افراد پر بار بار لات اور گھونسوں سے حملہ کیا جا رہا ہے۔ مار کھاتے ہوئے دونوں مسلم شخص روتے ہوئے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، لیکن سماج دشمن عناصر ان کی ایک نہیں سن رہے۔ کچھ لوگ ان پر لاٹھی سے بھی حملہ کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں دونوں ہی مظلوم مسلمان حملہ آوروں کو بار بار ’بھائی‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں اور ان سے بخش دینے کی التجا کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو کو کس نے بنایا ہے، یہ فی الحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لیکن ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی آس پاس موجود ہیں جو موٹر سائیکل پر بیٹھے ہیں اور دونوں مسلم افراد پر ہو رہے ظلم کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ اس حملے میں زخمی ایک شخص کا کہنا ہے کہ ’’ہم بازار سے گاجر خریدنے جا رہے تھے۔ اچانک حملہ آوروں نے ہمارے سامنے موٹر سائیکل کھڑی کی اور ہمیں کھینچ کر لے گئے۔ وہاں تقریباً چھ یا سات آدمی تھے۔ انھوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ دہلی ہے؟‘‘ زخمی شخص نے مزید بتایا کہ ’’مجھے اور میرے دوست کو ایک ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں دوسرے لوگ زنجیروں اور اسلحوں کے ساتھ منتظر تھے۔‘‘

Post Top Ad

Your Ad Spot