Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, April 6, 2020

اتر پردیش میں 14 اپریل کے بعد لاک ڈاون کھلنےکا امکان کم، تبلیغی جماعت پر حکومت سخت

صوبے کے ایڈیشنل چیف سکریٹری  نے کہا کہ جس طرح سے تبلیغی جماعت میں شامل لوگوں میں کورونا وائرس مثبت آرہا ہے، اس سے ریاست میں مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو 14 اپریل کے بعد لاک ڈاون کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔

لکھنو۔۔اتر پردیش /صداٸے وقت /ذراٸع / 6 اپریل 2020.
=============================
 اترپردیش  میں مسلسل اضافہ ہورہے کورونا وائرس متاثرین مریضوں کی تعداد کے مد نظر یوگی حکومت لاک ڈاون پیریڈ کو 14 اپریل سے آگےبڑھا سکتی ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری اونیش اوستھی نے پیرکو اس کا اشارہ دیا۔ اونیش اوستھی نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جس طرح سے تبلیغی جماعت میں شامل لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہورہی ہے۔ اس سے ریاست میں مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو 14 اپریل کے بعد لاک ڈاون کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
اونیش اوستھی نے بتایا کہ شام 4 بجے تک یوپی میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 305 ہے۔ ان میں سے 105 لوگ وہ ہیں، جنہوں نے دہلی کے مرکز نظام الدین میں ہوئی تقریب میں شرکت کی تھی۔ انہوں نےکہا کہ جس طرح سے تبلیغی جماعت سے منسلک لوگوں میں کورونا کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اس سےلاک ڈاون 14 اپریل کے بعد ہٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ اب تبلیغی جماعت سے منسلک جن لوگوں میں انفیکشن پایا گیا ہے، ان کے رابطے میں جو بھی آیا ہے ان کو ٹریس کیا جارہا ہے۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری نےکہا کہ اگر ایک بھی شخص متاثر ہےتو ایسی حالت میں لاک ڈاون کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔ ابھی معاملہ حساس ہے اور احتیاط برتی جارہی ہے۔ انہوں نےکہا کہ تبلیغی جماعت سے منسلک لوگوں کی وجہ سے ہی کئی اضلاع میں انفیکشن پھیلا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر مریض آگرہ میں ملے ہیں۔ اس کے بعد میرٹھ، سہارنپور، اعظم گڑھ، لکھنو، بارہ بنکی، شاملی، غازی آباد وغیرہ اضلاع ہیں۔ حکومت اپنی طرف سے سبھی کو ٹریس کررہی ہے۔
اونیش اوستھی نے بتایا کہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوئےلوگ آگے آکرخود کا جانچ کروائیں، اس کےلئے وزیراعلیٰ نے اتوار کو سبھی اضلاع کے مذہبی رہنماوں سے بھی بات کی۔ اس بات چیت میں سبھی کا اتفاق تھا کہ انسان کی زندگی زیادہ اہم ہے۔ سبھی لوگوں نے اس میں اپنا تعاون دینے کی بات کہی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot