Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, April 11, 2020

کورونا واٸرس اور ہندوستان کے معاشی حالات۔

 

از/ سراج الدین فلاحی/ صداٸے وقت۔
9911885683
==============================
ہمارے ملک کی موجودہ مرکزی حکومت کا مسئلہ اکثر یہ رہا ہے کہ وہ ہر بڑی مصیبت پر ابتدا میں Denial موڈ میں رہتی ہے۔ جب عوام کی تنگ دامنی کا ہنگامہ بڑھتا ہے تو وہ بمشکل اسے قبول کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اس میں درستگی کی ناکام کوششیں کرتی ہے۔ حال ہی میں کووڈ-19 کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کی بات کریں تو ہم سب کو زندگی، روزگار اور معیشت سے متعلق چند چیزیں اپنے ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لاک ڈاؤن عوام کو کووڈ-19 کے انفیکشن سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ لیکن انفیکشن سے بچانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کووڈ-19 کے علاوہ دیگرتمام ضروریات زندگی اور معاشی امور کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔ سرکار کا کام صرف لاک ڈاؤن جیسا فرمان جاری کرنا نہیں ہوتا بلکہ عوامی زندگی کے سارے امور کو ایک ساتھ انجام دینا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کیونکہ حکومت کا دائرہ بہت وسیع اور دیر پا ہوتا ہے اور معیشت کا پہیہ گھمانے کے لئے اس کے پاس وسائل و ذرائع بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے فی الحال سرکار سے امید کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو نہ صرف کووڈ-19 سے محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری رکھے بلکہ ان مقید عوام کی ایک بڑی تعداد کے گھروں میں چولہا جلانے کا بھی انتظام کرے۔ اولا سرکار کا یہ سوچنا اور سمجھنا کہ ہم بہت جلد ان حالات سے نکل جائیں گے، اس لئے فوری طور پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنا جہاں ایک طرف تمام معاشی سرگرمیوں کی کمر توڑ دیتا ہے وہیں دوسری طرف مستقبل کے تعلق سے سرکار کی بے بصیرتی اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے منصوبہ سازی کی نااہلیت کو واضح کرتا ہے۔ اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا اور سرکار نے دیہاڑی مزدوروں کی بنیادی ضروریات زندگی کی طرف کوئی توجہ نہ دی تو کووڈ19- سے کئی گنا زیادہ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑانے سے کئی جگہوں سے لوگوں کے فاقہ کشی کی خبریں آ رہی ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ یہ لاک ڈاؤن کب تک ختم ہوگا اسی لئے اس دوران بھوک سے بلبلاتی عوام کے لئے انہیں فاقہ کشی کی موت سے بچانے کے لئے حکومت کی طرف سے Survival پیکجز کی اتنی ہی اشد ضرورت ہے جتنی کہ کووڈ-19 ٹسٹ کٹ اکھٹا کرنے کی۔ سرکار کا حال یہ ہے کہ اس کے راحتی اعلان میں دیر ہو رہی ہے اور قسطوں میں ہو رہی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ وہ ممالک جو ہم سے زیادہ امیر ہیں، انہوں نے اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لئے کیا کیا اقدامات کیے؟ ترقی یافتہ ممالک میں معاشی اقدامات نسبتا کافی بڑے پیمانے پر کیے جا رہے ہیں۔ اپنی معیشت اور روزگار کو بچانے کے لئے امریکہ نے اپنی GDP کا 10 فیصد حصہ Stimulus پیکج کے طور پر دیا ہے۔ اس کی معیشت 22 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی ہے۔ انڈیا کی معیشت تقریبا 2.70 ٹریلین ڈالر کی ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ جرمنی، جاپان، برطانیہ اور کناڈا سے کریں تو جرمنی نے تقریبا 20 فیصد، جاپان نے بھی تقریبا 20 فیصد، برطانیہ نے 15 تو کناڈا نے تقریبا 4.5 فیصد کا اسٹیمولس پیکج دیا ہے۔انڈیا نے اب تک اپنی GDP کا صرف 0.71 فیصد حصہ کووڈ-19 کے لئے مختص کیا ہے جو روپیہ میں ایک لاکھ ستر ہزار کروڑ ہوتا ہے۔ یہ مختصرسا راحتی پیکج جو براہ راست کیش آؤٹ پیکج بھی نہیں ہے۔ اس میں صرف ستر ہزار کروڑ روپیہ کیش آؤٹ کی شکل میں ہے۔ یہ پیسے ورکروں، عورتوں، بزرگوں اور نادار لوگوں میں تقسیم کرنے کی بات چیت ہو رہی ہے۔ غریبوں(جن دھن یوجنا والے خواتین کے کھاتے میں) کے کھاتے میں پانچ پانچ سو روپیےفی ماہ ڈالے جائیں گے۔ اتنی بھوک مری اور بے روزگاری میں پانچ سو روپیہ کھاتوں میں ڈالنا یا منریگا میں 20 روپیہ مزدوری بڑھاناصرف ناکافی ہی نہیں بلکہ غریب عوام کا مذاق ہی تو ہے۔لوگوں کو پیسے مل رہے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے لیکن یہ بھی سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ غریبوں کو تھوڑے تھوڑے پیسے دینے سے معیشت چلنے والی نہیں ہے۔
ایسے عالم میں سرکار کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک معیشت بحال رکھنے کے لئے کون سی حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ جہاں تک فزکل اور مونیٹری اقدامات کی بات ہے تو بہت سارے ملکوں میں فزکل اور مونیٹری اقدامات زور سے آ رہے ہیں اور ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ یہ ممالک بہت بڑے بڑے راحتی اور اسٹیمولس پیکجز کا صرف اعلان ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کاروباریوں کو لون بھی دے رہے ہیں، طلباء کو قرض دے رہے ہیں، کرایہ داروں کو بچانے کے لئے مختلف طرح کی اسکیمیں لا رہے ہیں۔ فیڈرل ریزرو نے بینکوں سے لوگوں کو لون دینے کی اپیل کرتے وقت یہ بھی کہا ہے کہ اگر گارنٹی چاہیے تو فیڈرل ریزرو گارنٹی لینے کے لئے تیار ہے۔ اس لئے بینکوں کو اس بات کی فکر بالکل نہیں کرنی ہے کہ ان کی بیلینس شیٹ کا کیا ہو گا۔ وہیں دوسری طرف ہندوستانی سرکار کا حال یہ ہے کہ اس نے قومی بچت سرٹیفکٹ (NSC) اور PPF جیسی یوجناؤں پر سود 1.40 فیصد کی در سے گھٹا دی ہے۔پانچ سال کے لئے Senior Citizen Saving اسکیم پر شرح سود 1.20 فیصد تو Fixed Deposit پر 1.40 فیصد کم کر دی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بھی RBI نے لیکویڈیٹی کو بڑے پیمانے پر دستیاب کرایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بینک اس وقت لون دے رہے ہیں؟ کیا NPA کے ڈر سے وہ سرکار کے کلئیر ایڈوائزری کو مان رہے ہیں؟
چھوٹے کاروبار (MSME) کا اس وقت سب سے برا حال ہے اس لئے سب سے پہلے اس کی مدد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن غرباء کو سرکار NREGA کے ذریعے پیسہ دینے کی بات کر رہی ہے MSME اس غریب کو روزگار دیتا ہے۔ اسی سے اس کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ انڈیا میں تقریبا 90 فیصد روزگار غیر منظم شعبے پر مشتمل ہے اور MSME یعنی چھوٹے کاروبار اس کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اب ان کے پاس فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ MSME کے ساتھ سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کا کاروبار بند پڑا ہے اس کی کمائی نہیں ہو رہی ہے اس لئے اس کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اگر اس کو راحت نہیں ملتی ہے تو یہ ہمارے روزگار پر سب سے بڑی چوٹ ہوگی۔

اگر ہم اس لاک ڈاؤن میں سپلائی چین کی بات کریں تو دیکھیں گے کہ سپلائی بھی بری طرح ڈگمگاتی نظر آ رہی ہے۔ ٹرکوں کو دیگر صوبوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مال سے لدے ساڑھے تین لاکھ ٹرک جن پر 35 ہزار کروڑ کا سامان ہے سرحدوں پر کھڑے ہیں۔ ڈھابوں کے بند ہونے کی وجہ سے بھوکے پیاسےٹرک ڈرائیور اپنے اپنے ٹرک چھوڑ کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔ کیا وہ اپنی زندگی کی قیمت پر دوبارہ واپس آئیں گے؟ یا وہ مزدور جو لاک ڈاؤن کے باعث شہر چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے کیا وہ واپس آئیں گے؟ اس لئے لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی مزدوروں کا شہروں کی طرف یا تو جانا بڑھے گا یا وہ شہروں سے اپنے گاؤں کی طرف بھاگیں گے, یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ چنانچہ ایک نیا مسئلہ سامنے منہ کھولے کھڑا ہے وہ یہ کہ ابھی تک ہماری معیشت میں عوام کے پاس قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے ڈیمانڈ میں کمی تھی لیکن اب سپلائی چین کے ٹوٹنے سے سپلائی بھی مصیبت کا شکار نظر آ رہی ہے۔ اگر سپلائی چین ڈسٹرب ہوگئی تو اس کے دوبارہ صحیح ہونے میں معیشت کے اصول کے مطابق بہت وقت لگے گا۔ تصور کیجیے کہ تقریبا 20 دنوں سے ساری انڈسٹریز بند پڑی ہیں لیکن ہم کمپنیوں کے Inventories میں پڑے صابن، سرف، تیل مصالحے وغیرہ روزانہ استعمال کر رہے ہیں۔ آخر کب تک؟
کرونا کے سبب انفیکشن اور موت کے جو اعدادوشمار آ رہے ہیں وہ تشویشناک حد تک بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔اللہ کرے یہ وبا یہیں رک جائے۔ ایسے میں یہ بہت ضروری ہے کہ سرکار لاک ڈاؤن کو معاشی پیکج کے ساتھ اس طرح منسلک کرے کہ ایک طرف کووڈ-19 ٹیسٹ بہت تیزی سے ہوں اور دوسری طرف معاشی سرگرمیاں بھی رکنے نہ پائیں۔ یہ کیسے ہو گا؟ ڈاکٹر ناتھن رائے جو موجودہ حکومت میں معاشی صلاح کار تھے ابھی چند روز قبل ان کی مدت پوری ہوئی ہے کہتے ہیں کہ جہاں جہاں انفیکشن کم ہے سرکار کو وہاں معاشی سرگرمیاں پوری حفاظت کے ساتھ شروع کرنی چاہئے۔ ان کاروبار پر سرکار کو زیادہ زور دینا چاہیے جو طویل المدت ہوں اور ایسی منصوبہ بندی ہونی چاہیے کہ ٹرانسپورٹیشن دوبارہ پٹری پر لوٹ سکے وغیرہ وغیرہ۔
ان سب کے علاوہ سرکار کو اپنے اخراجات اور راحتی پیکجز میں جلد از جلد تیزی لانی ہو گی جب کہ سرکار ابھی تک مالیاتی خسارہ کو ہی جوڑ رہی ہے۔ کرونا انفیکشن سے پیدا ہونے والی موجودہ صورت حال جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے کسی طور پر کم نہیں ہے۔ چنانچہ یہ Fiscal Deficit کے حساب لگانے کا وقت بالکل بھی نہیں ہےکہ Fiscal Deficit میں اضافہ ہونے پر گلوبل نظروں میں ہماری کریڈٹ ریٹنگ کم ہو جائے گی۔ اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک Fiscal Deficit پر دھیان نہیں دے رہا ہے۔ اس لئے Fiscal Deficit اگر بڑھ بھی جائے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس وقت معیشت میں جتنی زیادہ لیکویڈیٹی ہو اتنا ہی مناسب ہے۔ اس لئے سرکار کو چاہیے کہ وہ RBI سے کہے کہ وہ نوٹ چھاپے۔ معیشت اور ملک کو سنبھالنے کے لئے ماہرین معاشیات کے نزدیک اگلے کچھ وقت میں حکومت کو کم از کم دس لاکھ کروڑ کا پیکج لانا ہو گا۔ اگر حکومت یہ سوچتی ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقت پر چھوٹے چھوٹے پیکجز سے کام چل جائے گا تو یہ حکومت کی بہت بڑی بھول ہو گی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot