Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, May 2, 2020

ڈاکٹر ‏ظفر ‏الاسلام ‏خان ‏پر ‏ملک ‏سے ‏بغاوت ‏کا ‏مقدمہ۔۔معزز ‏مسلم ‏شخصیات ‏کے ‏خلاف ‏کارواٸیاں ‏

از/ سمیع اللہ خان /صداٸے وقت /ذراٸع /2 مٸی 2020
==============================
آج دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے معروف مسلم انٹلکچوئل، ملی گزٹ کے ایڈیٹر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب کے خلاف ملک سے بغاوت کا سنگین مقدمہ درج کرلیا ہے
واقعہ یہ ہیکہ: کرونا وایرس کے لاک ڈاؤن میں جب تبلیغی جماعت کے بہانے مسلمانوں پر سخت حملے شروع ہوئے تو پوری دنیا سے اس حیوانیت کے خلاف صدائے احتجاج سنی گئی ایسے ہی عربی ممالک سے بھی آواز بلند ہوئی، ہندوستان میں سنگھی ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی اسلام مخالف دہشتگردی پر جم کر عالمی سطح سے تنقید ہوئی 
 ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اس پر کویت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی، اس شکریے سے سَنگھی خیمے میں کافی مرچیں محسوس کی گئیں ہیں 
کیونکہ وہ شکریہ بھی ہے اور دوسری طرف ہندوتوا دہشتگردی کی ٹرمنالوجی استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں پر سنگھی مظالم کے خلاف اور حقوق انسانی کی پامالی پر عربی دنیا سے ہندوتوا کے دہشتگردوں پر حقوق انسانی کی آواز بلند کرنے کی بات بھی اس میں ہے، تیسری بات جو اس شکرانے کے خط میں ہے جس نے سَنگھی خیموں کو مزید مروڑ میں مبتلا کیا وہ اس مضمون میں مذکورہ شخصیات کے نام ہیں جو عربی دنیا سے مسلمانان ہند کے رشتے کے تناظر میں ہیں جن میں شاہ ولی الله دہلوی ؒ، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ، ڈاکٹر ذاکر نائک اور وحیدالدین خان صاحبان کے نام درج ہیں 
 ذاکر نایک تو حکومت کے نزدیک سخت معتوب ہیں ہی، شاہ ولی الله دہلوی ؒ سنگھی تھنک ٹینک اور ہندوتوا آئیڈیالوجی والی تاریخ کے لحاظ سے ان کے طبقے میں " اکھنڈ والے ہندوستان " کے دشمن شمار کیے جاتے ہیں جس کی بنیاد ان کے یہاں اس پر قائم ہے کہ شاہ ولی الله نے احمد شاہ ابدالی کو اُس وقت ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے خط لکھا تھا، تاریخی تفصیلی بحث میں جانے کا موقع نہیں ہے، بس یہ واضح کرنا تھا کہ آخر اس مضمون سے حکومت، آر ایس ایس اور ہندوتوا خیمے میں اتنا بوال کیوں مچا ہوا ہے
 ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے یہ مضمون چونکہ ایک گورنمنٹ آفیشل پوسٹ پر بیٹھے ہوئے لکھا اسلیے بھی اس پر مرچیں زیادہ اٹھ رہی ہیں، ہندوستان کے موجودہ زعفرانی اور سنگھی ماحول میں گورنمنٹ آفیشلز کی حیثیت سے کسی انٹلکچوئل کا ایسا پیغام جانا، جو مسلمانوں پر سنگھی مظالم کے خلاف ہو اور جس میں آر ایس ایس کے نزدیک دشمن قرار مسلم شخصیات کی مدح بھي ہو، یہ کیونکر حلق سے نیچے اتر سکتاہے؟ 
 جب یہ مضمون آیا تو، بھارتیہ جنتا پارٹی کے عقل دشمن ترجمان سمبت پاترا پھر ان کی پوری سنگھی ٹیم نے ملکر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس مضمون پر ہنگامہ شروع کیا، اسے ایشو بنایاگیا، یہ پورا ہوّا سوچی سمجھی کارروائی کا ایک حصہ ہے، بعد میں ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اس کی وضاحت بھی کردی پھر بھی تسلیم نا ہوا اور اس کی بنیاد پر سنگھی ٹرائل جاری رہا تو ڈاکٹر خان نے یہ بیانیہ بھی جاری کیا کہ اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو وہ معذرت پیش کرتےہیں، لیکن ہوا وہی جو مسلمانوں کے خلاف اس سسٹم اور سرکار کی ذہنیت میں سرایت ہے، آج ان کے خلاف ملک سے بغاوت کا سنگین مقدمہ عائد کردیاگیاہے, ڈاکٹر ظفرالاسلام پر ایسے مقدمے نے اچھے خاصے لوگوں کو حیران کردیاہے، *یہ مقدمہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے درج کیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پورے بکھیڑے میں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کا موقف دیکھنے جیسا ہوگا، کیونکہ ایک بات یہ بھی سامنے آرہی ہیکہ اروند کیجریوال دہلی اقلیتی کمیشن یا مسلمانوں سے جڑی وزارتوں پر ایک عدد اپنا دماغ اور وزن رکھنے والا کوئی لیڈر دیکھنا نہیں چاہتےہیں جو مسلمانوں کے لیے ہمدردی کے ساتھ کام بھی کرے، یہی وجہ ہیکہ کچھ دنوں پہلے ہی کیجریوال نے امانت اللہ خان کو دہلی وقف بورڈ کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا تھا، اور کیجریوال ایک وقت سے راہ تک رہے ہیں کہ کسی طرح دہلی اقلیتی کمیشن سے بھی وہ ڈاکٹر ظفر الاسلام کا صفایا کریں، کیونکہ وقف بورڈ اور اقلیتی کمیشن دونوں ایسے ادارے ہیں کہ اگر وہ باشعور کام کرنے والے مسلمانوں کے ماتحت رہیں گے تو یقینی طورپر مسلمانوں میں کچھ لوگ مضبوط ہوجائیں گے خیر… اس حقیقت سے مزید پردہ تبھی اٹھے گا جب کیجریوال کا اسٹینڈ سامنے آئےگا*
 ایک طرف یوگی آدتیہ ناتھ، انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، کومل شرما اور ان جیسے کتنے ہی سنگھی بھاجپائی مسلمانوں پر گولی چلانے، حملہ کرنے اور فساد کروانے کی کھلے عام ترغیب دیتےہیں، کچھ تو باقاعدہ فسادات میں ملوث ہوتے ہیں، جے این یو یونیورسٹی پر حملے میں بھی شامل رہتےہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی پولیس کارروائی کوئی سنگین قانونی کارروائی نہیں ہوتی یے
 لیکن اگر مسلمانوں کے باوقار اہل علم و دانش کی طرف سے کوئی بیان آئے تو ان کے الفاظ و عبارات کو باریکی سے جانچ کر مفہوم مخالف نکال کر ان کے خلاف ملک سے بغاوت جیسے چارجز لگادیے جاتے ہیں، 
اینٹی CAA تحریک کے دوران شرجیل امام کے بیان پر ملک سے غداری کا چارج لگایاگیا، پھر ایک طویل سلسلہ چلا اور مسلمانوں کے کئی سارے نوجوان ایکٹوسٹ کےخلاف گرفتاریوں اور سنگین مقدمات کی باڑھ آچکی ہے، خالد سیفی، میران حیدر، صفورہ، عمر خالد وغیرہ پر یہ مقدمات لگائے جاچکے ہیں جو راجدھانی دہلی میں NRC کےخلاف تحریک برپا کرنے والوں میں متحرک تھے 
دوسری طرف مولانا سعد کاندھلوی اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان پر سنگین مقدمات درج کیے جاچکے، یہ نظرانداز کردینے والی سچویشن نہیں ہے، اگر ہمارے مؤقر افراد پر اتنی آسانی سے مقدمے قائم ہورہے ہیں تو پھر بات تشویش کی حد سے آگے ہے، مسلم کمیونٹی کےخلاف یہ ساری ظالمانہ پولیس کارروائیاں اور سرکاری ٹرائل سیدھا پیغام ہے کہ اُنہیں اس ملک میں مسلمان گونگا چاہیے
 ڈاکٹر ظفر الاسلام خان پر ملک سے بغاوت اور غداری کا مقدمہ یہ قانونی نظام اور آئین کی توہین ہے، یہ ملک کے سسٹم کا گھٹیا تعصب کے ہاتھوں میں استحصال ہے، یہ انصاف نہیں بلکہ متعصبانہ انتقامی سیاست ہے، ہم ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے ساتھ ہیں، اس وقت تمام ہی مسلمانوں کو بیک آواز ان کے ساتھ ہوناچاہئے_

*سمیع اللّٰہ خان*
۲ مئی بروز سنیچر ۲۰۲۰ 
ksamikhann@gmail.com

Post Top Ad

Your Ad Spot