Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, May 8, 2020

بھارتی عدلیہ اور متنازع فیصلے، کیا امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہیں؟.....واٸس ‏آف ‏امریکہ ‏کی ‏خاص ‏رپورٹ ‏۔

حالیہ کچھ برسوں میں بھارتی عدلیہ مختلف تنازعات کا شکار رہی ہے۔ اس کا ادراک عدلیہ کو بھی ہے جس کے باعث بار بار عدلیہ سے بھی ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں کہ عدلیہ کا وقار بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

نٸی دہلی /صداٸے وقت /ڈراٸع /٩ مٸی ٢٠٢٠۔
==============================
اسی قسم کی باتیں اب سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپک گپتا نے بھی کہی ہیں۔ وہ بدھ کو اپنے منصب سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ اپنی الوداعی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جج حضرات شترمرغ کی مانند ریت میں اپنا سر دے کر یہ نہیں سوچ سکتے کہ عدلیہ میں کچھ نہیں ہو رہا۔"
جسٹس دیپک گپتا نے کہا کہ اس ادارے کے وقار کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ہمیں اپنے مسائل خود ڈھونڈ کر انہیں حل کرنا ہو گا۔
بھارت میں عدلیہ سے متعلق تنازع جنوری 2018 میں شروع ہوا تھا جب اس وقت کے سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایک نیوز کانفرنس کی تھی۔
اس نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ عدلیہ میں ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں۔ جب تک عدالتوں کا وقار بحال نہیں ہو گا، جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ اس نیوز کانفرنس کو بھارتی عدلیہ کی تاریخ کا غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا تھا۔
جسٹس دیپک مشرا اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور ان پر من مانی کرنے کے متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نیوز کانفرنس کرنے والوں میں جسٹس رنجن گوگوئی بھی شامل تھے جو جسٹس دیپک مشرا کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تھے۔
جسٹس گوگوئی کے دور میں ایودھیا کے تاریخی مقدمے کا فیصلہ ہوا۔ اگرچہ پانچ رکنی بینچ نے سماعت کے دوران ساری باتیں بابری مسجد کے حق میں کہیں، لیکن فیصلہ رام مندر کے حق میں سنایا گیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد جسٹس گوگوئی اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔ سبکدوشی کے محض دو ماہ بعد ہی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انہیں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا 'راجیہ سبھا' کا رکن نامزد کر دیا تھا۔
اس نامزدگی پر متعدد سوالات اٹھے تھے اور ایودھیا فیصلے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ جسٹس گوگوئی کو رام مندر کے حق میں فیصلہ سنانے کا یہ انعام ملا ہے۔
بدھ کو جسٹس دیپک گپتا نے اپنی الوداعی تقریب سے خطاب کیا تو یہ بھی کہا کہ جب ایک جج اپنی کرسی پر بیٹھے تو اسے اپنے مذہبی خیالات و نظریات الگ رکھنے چاہئیں۔ اسے چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
ان کے بقول "ہمارا آئین ہمارے لیے گیتا، قرآن، بائبل، گرو گرنتھ صاحب اور دیگر مذہبی کتابوں کی طرح ہے۔"
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ غریبوں کے آئینی حقوق سب سے زیادہ پامال ہو رہے ہیں۔ ان کی کوئی آواز نہیں ہے۔ اگر کوئی ان کی آواز اٹھاتا ہے تو عدالت کو کم از کم اسے سننا چاہیے اور اگر ان کے لیے کچھ کر سکتے ہیں، تو کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل زیڈ کے فیضان جسٹس دیپک گپتا کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد نہیں اٹھا لیکن بہت حد تک متزلزل ہو گیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ایسے بہت سے واقعات ہو رہے ہیں جو عوام کا اعتماد مجروح کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عدلیہ کا وقار بہت مجروح ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس دن عدلیہ پر سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ گیا، وہ دن بھارتی عدالت کے لیے بہت برا ثابت ہو گا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ دیگر آئینی اداروں کے مقابلے میں عدالتوں کا وقار اب بھی کسی حد تک قائم ہے۔
سپریم کورٹ کے ایک اور سینئر وکیل مشتاق احمد ایڈووکیٹ ان کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے وکلا کو اس صورت حال پر بہت تشویش ہے۔ ان کے بقول حالیہ دنوں میں ایسے بہت سے فیصلے ہوئے ہیں جو سپریم کورٹ کا وقار مجروح ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ اپنا وہ کردار ادا نہیں کر رہی، جو اسے کرنا چاہیے۔ مشتاق احمد ایڈووکیٹ نے نے ایودھیا فیصلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت غلط فیصلہ تھا۔ سپریم کورٹ نے 1994 میں ایودھیا سے متعلق صدارتی ریفرنس میں رائے دینے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد میں جو فیصلہ کیا گیا، وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔
زیڈ کے فیضان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ججوں کا ذہن بھی مذہبی ہوتا ہے اور صرف 10 فی صد جج ہی مذہبی خیالات سے ہٹ کر فیصلہ سناتے ہیں۔ باقیوں کے مذہبی خیالات فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کے بقول "ایودھیا کیس کا فیصلہ مذہبی ذہن سے لکھا گیا ایک فیصلہ تھا۔ عدالت نے تمام باتیں بابری مسجد کے حق میں کہیں لیکن فیصلہ مندر کے حق میں سنا دیا۔
فیضان ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرا اور بہت سے وکلا کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ جج حضرات کو ریٹائرمنٹ کے بعد کم از کم پانچ سال یا تین سال تک کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ سبکدوشی کے بعد ہی انہیں کوئی نہ کوئی عہدہ دے دیا جاتا ہے۔انھوں نے جسٹس رنجن گوگوئی کی مثال پیش کی جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد دو ماہ کے اندر ہی راجیہ سبھا کا رکن بنا دیا گیا تھا۔غریبوں کے لیے انصاف سے متعلق زیڈ کے فیضان اور مشتاق احمد ایڈووکیٹ، دونوں وکیلوں کا خیال ہے کہ قانون کے مطابق سب کو انصاف ملنا چاہیے لیکن عملاً غریبوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں مزدوروں کے حق کے لیے دائر ایک درخواست کی مثال بھی پیش کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں مزدوروں کے حق میں ایک عذرداری داخل ہے۔ عدالت نے اس پر حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے لیکن وہ معاملہ التوا میں ہے۔
لیکن دوسری طرف ایک انگریزی نیوز چینل ری پبلک کے مالک و اینکر ارنب گوسوامی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فوری سماعت کی اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی پر پابندی لگا دی۔
ارنب گوسوامی نے مہاراشٹر میں قبائلیوں کے ہاتھوں دو ہندو سادھوؤں کو ہلاک کیے جانے کے معاملے کا ذمہ دار حزب مخالف کی جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ہی سادھوؤں کو مروایا ہے۔
اس کے بعد کانگریس کے کارکنوں کی جانب سے ارنب گوسوامی کے خلاف مختلف علاقوں میں ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ ارنب نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کورٹ نے ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے روک دیا۔
یم کورٹ کے ایک سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو غریب مزدوروں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ ان کا معاملہ لٹکائے ہوئے ہے جب کہ ایک صحافی کے معاملے پر جو ان کے بقول حکومت کے قریب ہے، عدالت نے فوری سماعت کی۔
زیڈ کے فیضان اور مشتاق احمد ایڈووکیٹ بھی اس کیس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ غریبوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔ مگر امیروں کو فوراً مل جاتا ہے۔
فیضان ایڈووکیٹ نے کہا کہ غریبوں کے بہت سے معاملات اس لیے بھی عدالت عظمٰی تک نہیں پہنچ پاتے کہ ان کے پاس وہاں تک جانے اور وکلا کی فیس ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں ایک لیگل ایڈ کمیٹی قائم ہے جو غریب لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اگر کوئی غریب اس کمیٹی تک پہنچ بھی جائے تو اس سے مختلف دستاویزات لانے کا کہا جاتا ہے۔ وہ دستاویزات بنوانے میں ہی کافی پیسہ خرچ ہو جاتا ہے۔
فیضان ایڈووکیٹ کے مطابق اگر دستاویزات بھی میسر ہوں تو پھر سرکاری وکیل عدم دلچسپی سے کام کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے غریبوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot